ابن سباء کا نسب اور وطن - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابن سباء کا نسب اور وطن

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

(قرآن کریم میں ایک پوری سورت موجود ہے جسے ”سورۃ سبا“ کا نام دیا گیا ہے، اور قرآن نے ہمیں اس فراخ رزق اور دائمی نعمتوں کے احوال سے باخبر کیا ہے جن میں وہ (اہلِ سبا)زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے اس بند (ڈیم)کے پیچھے، جو ”سدِ مأرب“کے نام سے معروف ہوا، وافر مقدار میں پانی ذخیرہ کر رکھا تھا۔ لیکن جب انہوں نے حقیقی منعم (نعمتیں عطا کرنے والے اللہ)کا شکر ادا کرنے، عملِ صالح بجا لانے اور پسندیدہ طور طریقہ اختیار کرنے سے اعراض کیا، تو اللہ نے ان سے اس خوشحالی کا سبب ہی چھین لیا جس میں وہ مگن تھے۔ اور ان پر ایک ایسا تند و تیز اور جڑ سے اکھاڑ دینے والا سیلاب (سیلِ عرم) بھیج دیا جو اپنے راستے میں”عرم“یعنی بھاری پتھر بہا لایا چنانچہ وہ بند ٹوٹ گیا اور پانی چاروں طرف پھیل گیا، پس اس نے سرکشی اختیار کی اور زمین کو غرقاب کر دیا۔ اور ان کے وہ وسیع و شاداب اور مہکتے ہوئے باغات، ایک ایسے چٹیل ریگستان میں تبدیل ہو گئے جہاں خودرو اور جھاڑ دار جنگلی درخت یہاں وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اور ہم نے ان کے ان دو باغات کے بدل میں انہیں دو ایسے باغات دے دیے جو بدمزہ(کڑوے کاسنی) پھلوں، جھاؤ کے درختوں اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درختوں پر مشتمل تھے۔ یہ بدلہ ہم نے انہیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دیا، اور ہم ایسا بدلہ صرف ناشکروں ہی کو دیتے ہیں ـ (سورة سبأ:الآيتان 15،16)

یہ بات بھی ممکن (اور قرینِ قیاس)ہے کہ ابن سبا نے اپنے یہودی باپ کا نام ہم سے جان بوجھ کر چھپایا ہو، تاکہ لوگ اس کی اصل حقیقت سے واقف نہ ہو سکیں۔ رہا معاملہ اس رائے کا جس کی طرف بغدادی گئے ہیں کہ ابن سبا بنیادی طور پر اہل حیرہ(عراق)میں سے تھا، جہاں انہوں نے لکھا ہے کہ: ابن السوداء یعنی ابن سبا اصل میں حیرہ کا رہنے والا ایک یہودی تھا۔

(البغدادي، عبد القاهر، الفرق بين الفرق وبيان الفرقۃ الناجيۃ منهم، تحقيق محمد محی الدين عبدالحميد، طبع المدني، القاهرة، صفحہ238)

اور اسی(حیرہ والی)رائے میں امامِ فاضل(محمد ابو زہرہ)نے بھی اپنی کتاب المذاہب الإسلاميۃ میں ان کی اتباع و پیروی کی ہے۔(ابو زهره، محمد، تاريخ المذاهب الإسلاميۃ، دارالفكر العربي، القاهرة صفحہ64)

تو یہ بات ان روایات کے متصادم اور معارض نہیں ہے جو یہ کہتی ہیں کہ وہ اصلاً یمنی تھا کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اصالتاً یمنی ہو اور پھر ہجرت کر کے عراق کے شہر حیرہ چلا گیا ہو یہ جانتے ہوئے کہ حیرہ تمام یہودیوں،دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور مختلف نظریات کا مرکز تھا۔ اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ مسلمانوں نے جب کوفہ کی شہر سازی اور منصوبہ بندی کی، تو ابتدائی مرحلے میں یہودی وہاں منتقل نہیں ہوئے، بلکہ وہ حیرہ ہی میں مقیم رہے۔ اور (اسی تاریخی پس منظر میں)حجاج بن یوسف ثقفی نے (سنہ77 ہجری میں)کوفہ کے منبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا: 

”اے اہل کوفہ! اللہ اسے عزت نہ دے جو تمہارے ذریعے عزت کا طالب ہو، اور نہ اس کی مدد کرے جو تمہارے ذریعے نصرت کا خواہاں ہو۔ ہمارے پاس سے نکل جاؤ، ہمارے ساتھ ہمارے دشمن کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہو، اور حیرہ میں جا کر یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رہو۔(ی س غنيمۃ، نزهۃالمشتاق في تاريخ يهود العراق، ط بغداد صفحہ60)

اس کے بعد جب ابن سبا مدینہ منورہ آیا،اور وہاں (مدینہ منورہ میں)رائج مذہبی اور سماجی زندگی کو قریب سے دیکھا اور اس کا حصہ بنا، تو اس نے وہاں ایک مخصوص مؤقف اختیار کر لیا جو خلیفہ اور ان کے قرابت داروں کے خلاف بغض و عناد پر مبنی تھا۔ یہ موقف ابن سبا کے اس باطل زعم کی وجہ سے تھا کہ خلیفہ نے اپنے رشتہ داروں کو مال اور اقتدار کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ چنانچہ اس نے یہاں وہاں اپنے حامیوں کو پھیلانا شروع کر دیا تاکہ وہ مسلمانوں کے سامنے جھوٹ اور بہتان کے طور پر سیّدنا عثمانؓ کے عہدِ خلافت کی خامیاں اور برائیاں آشکار کریں اور لوگوں کو بغاوت پر اکسائیں۔ فارسی مؤرخ ”میر خواند” کا بیان ہے کہ عثمانؓ کے خلاف ابن سبا کے کینے اور حقد کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ جب مدینہ آیا تھا تو اسے یہ امید تھی کہ خلیفہ اس کی آؤ بھگت اور تکریم کریں گے۔ لیکن جب اسے اپنی مراد حاصل نہ ہوئی، تو اس نے خلیفہ سے ناراض اور نالاں لوگوں سے رابطے استوار کرنا شروع کر دیے اور کھلم کھلا عثمانؓ کے انتظامی امور پر اعتراضات داغنے لگا۔ بالاخر سیدنا عثمانؓ تک اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا یہ کون یہودی ہے جس کی یہ باتیں میں برداشت کر رہا ہوں؟ چنانچہ انہوں نے اسے مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ آخر کار مصر چلا گیا اور وہاں عثمانؓ کے خلاف سرگرم فتنہ پروروں اور سازشیوں میں شامل ہو گیا۔

(الشابی: علی مباحث فی علم الكلام والفلسفۃ مرجع سابق: صفحہ20)


صفحہ 3 از 3