ابن سباء کا نسب اور وطن - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابن سباء کا نسب اور وطن

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

غالی فرقوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی الوہیت کا عقیدہ رکھتا ہے، اور ان میں سب سے پہلے عبد اللہ بن سباء حِمیری کے پیروکار تھے۔(الرسالة المصرية، عدد 775، صفحہ 525 ابن حزم، ابو محمد علي بن احمد بن حزم، الفصل فی الملل والأهواء والنحل، تحقیق محمد ابراهيم نصر وزميلہ، جلد 4 صفحہ18)

امام ابن حزم نے عبد اللہ بن سباء کی نسبت قبیلۂ حِمیر کیطرف کی ہے، اور قبیلۂ حِمیرصنعاء میں آباد تھا۔

کتاب ”قرة العيون بأخبار اليمن الميمون“ کے محقق لکھتے ہیں:

صنعاء بیشتر اسلامی ادوار میں یمن کا دارالحکومت رہا ہے اور قدیم ترین عرب شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد طوفانِ نوح کے بعد رکھی گئی تھی۔ یہ جزیرۂ عرب کی دلہن، اس کا درخشاں تاج، اور مملکتِ حِمیر کا مرکز تھا۔ اسی قبیلہ حِمیر کی طرف کعب بن ماتع الرعینی الحمیری کی نسبت ہے، جو کعب الاحبار کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ اہلِ کتاب کے جلیل القدر عالم اور ان کے بڑے احبار میں سے تھےـ

(ابن الديبع، وجيہ الدين عبدالرحمٰن بن علی الشيبانی، قرة العيون بأخبار اليمن الميمون، تحقیق محمد بن علي الأكوع المكتبۃ السلفيۃ فی القاهرة صفحہ39)

ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ: 

یہودیت کا چلن (یمن کے قبائل)حمير، بنی کنانہ، بنی الحارث بن کعب اور کندہ میں تھا۔ 

(ابن قتيبۃ الدينوري، ابو محمد عبداللہ، المعارف، دار الكتب العلميۃ، بيروت : صفحہ339)

اور جن مراجع و مصادر تک میری رسائی ہو سکی ہے، ان میں عبد اللہ بن سبا کے والد کے نام کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا سوائے تاج العروس کے مصنف زبیدی کے، جنہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ(فروہ بن مسیک المرادی)کی حدیث میں جس ”سبا“ کا ذکر آیا ہے، وہ دراصل غالیوں کے فرقے سبئیہ کے بانی، عبد اللہ بن سباء کا والد ہے۔

(الزبيدي، محمد مرتضىٰ، تاج العروس، المطبعۃ الخيريۃ : جلد1 صفحہ75-76)

 تاہم یہ رائے حقیقت اور صحت سے کوسوں دور معلوم ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہو سکتی ہے کہ اس کا والد خالص حميری نسل سے ہو، یایہ بھی ممکن ہے کہ وہ ولاء (موالات و وفاداری)کے تعلق کی بنا پر اس قبیلے سے منسوب ہوا ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ان ابناء (یمن میں مقیم فارسی نسل)میں سے ہو۔ جن کے باپ کا اتہ پتہ نہیں تھا۔

حوالہ لأبناءهم أبناء فارس الذين أرسلهم كسرى لنجدة سيف بن ذي يزن الحميري، وقد اختلفوافي سبب تسميتهم بالأبناء على أقوال أوجهها أن كسرى لما جهز الجيش المذكور، قال له المزاربہ: امده بمن في سجونك، فان ضفروا فأبناءك، فان قتلوا فأعداءك، فأمده بهم ووهبهم له.وقيل سموا بالأبناء لأنهم يقال لهم هؤلاء أبناء سيف، وقيل غير ذلك

یہ اہلِ فارس ایران کی وہ اولاد ہیں جنہیں کسریٰ(شاہِ فارس)نے سیف بن ذی یزن حمیری کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔ ان کا نام الابناء پڑنے کی وجہ میں مختلف اقوال ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ جاندار اور قوی قول یہ ہے کہ جب کسریٰ نے مذکورہ لشکر تیار کیا، تو درباری  وزراء (مرازبہ)نے اس سے کہا: ان کی مدد ان لوگوں سے کیجیے جو آپ کی جیلوں میں بند ہیں اگر وہ غالب آ گئے تو وہ آپ کے فرزند (وفادار بیٹے)ٹھہریں گے، اور اگر وہ مارے گئے تو وہ آپ کے دشمن ہی تھے(جن سے چھٹکارا مل گیا)۔چنانچہ کسریٰ نے ان قیدیوں کے ذریعے اس کی مدد فرمائی اور انہیں اس کے سپرد کر دیا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انہیں الابناء اس لیے کہا گیا کیونکہ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ یہ سیف کے بیٹے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی اقوال کہے گئے ہیں۔

جہاں تک اس کی ماں کا تعلق ہے، تو وہ حبشی نسل سے تھی۔ اور اسی وجہ سے اسے ”ابن السوداء“(سیاہ فام عورت کا بیٹا)کا لقب ملا۔

(تحدث لبن حبيب عن ابن سبأ واعتبره أحد أبناء الحبشيات ابن حبيب ابو جعفر محمد بن حبيب بن اميہ، المحبر تحقيق ايلزا ليختن دارالأفاق: بيروت:  صفحہ308)

تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ حبشیوں اور یمنیوں کے باہمی اختلاط اور شادی بیاہ کے نتیجے میں یمن میں ایک دوغلی اور مخلوط نسل نے جنم لیا تھا، اور بعید نہیں کہ ابن سباء بھی اسی نسل کا ایک فرد رہا ہو۔ اسی مخلوط نسل کی طرف کمیت نے نزار کے مقابلے میں یمنیوں پر مفاخرت کرتے ہوئے اپنے اس شعر میں اشارہ کیا ہے کہ:

ہمارے لیے ہی آسمان کا چاند ہے اور ہر وہ ستارہ ہے، جس کی طرف ہدایت اور راستہ پانے والوں کے ہاتھ اشارہ کرتے ہیں۔

میں نے دیکھا کہ جب اللہ نے ن”نزار“کا نام بلند کیا، تو اسے مکہ کے مکینوں میں آباد فرما دیا۔

اس(اللہ)نے تمام تر مکارم اور اخلاقی عظمتوں کو خالصتاً ہمارے لیے مخصوص کر دیا پس باقی لوگوں کے حصے میں(ذلت کی)گدی آئی اور ہمارے حصے میں (عزت و سرفرازی کی)پیشانی آئی۔

اور نزار کی بیٹیوں نے کبھی بھی کسی سیاہ فام (حبشی)یا سرخ فام (رومی/ فارسی )کو اپنا شوہر (اور کفو)نہیں پایا۔

(الشابي، علی، مباحث في علم الكلام والفلسفۃ، دارابو سلامہ، تونس : صفحہ20)

اور اس  ”سبا“سے مراد جس کی طرف عبداللہ بن سبا منسوب کیا جاتا ہے، خود ملکِ یمن ہے چنانچہ ہر یمنی باشندے کے بارے میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ وہ ”ابن سباء“ (سبا کا بیٹا) ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی مصری کو ”ابن النیل“(نیل کا بیٹا)کہہ دیا جاتا ہے، اور اسی پر دیگر مثالوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے

 اور اہل یمن کی سبا کی طرف یہ نسبت ایک اور روایت سے مزید مستحکم ہو جاتی ہے جسے یعقوب بن شیبہ نے اپنی کتاب (مسند امیرالمؤمنین عمر بن الخطاب)میں نقل کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ:

وہ اہل یمن میں سے (قبیلہ یا ملک) سبا سے تعلق رکھتے تھا۔(جواد، سامي، مسند عمر بن الخطاب بيروت: صفحہ68)

بیشک قرآن کریم نے سورۃ النمل میں اس واقعے کی حکایت بیان فرمائی ہے جو ہدہد نے ہمارے سردار حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے یوں پیش کیا تھا: پھر وہ (ہدہد)زیادہ دیر نہ رکا، (اور حاضر ہو کر)کہنے لگا! میں ایک ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے، اور میں آپ کے پاس (ملکِ)سبا سے ایک یقینی اور سچی خبر لے کر آیا ہوں۔ میں نے وہاں ایک ایسی عورت کو دیکھا ہے جو ان پر حکومت کرتی ہے، اسے ہر طرح کا ساز و سامان دیا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے۔(سورة النمل: آیت 22)

صفحہ 2 از 3