سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےصحیح احادیث موجود ہیں یا نہیں؟

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 3 از 3

1۔ سیدنا علیؓ کے ہاتھوں اللہ نے خیبر کا آخری قلعہ فتح فرمایا لیکن نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں نہیں، تو کیا سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

2۔ سیدنا علیؓ کو شیر خدا کہا جاتا ہے لیکن نبی کریمﷺ کو نہیں، تو کیا سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

3۔ سیدنا حسین ؓ کو شیعہ سید الشہداء کہتے ہیں لیکن نبی کریمﷺ اور سیدنا علیؓ کو نہیں کہتے، تو کیا سیدنا حسینؓ دونوں سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

4۔ سیدنا حسینؓ نے دین کو بچایا (بقول شیعہ) لیکن سیدنا علیؓ کے دور میں دین کا حلیہ بگڑ گیا او ر وہ کچھ نہ کرسکے، تو کیا سیدنا حسینؓ سیدنا علیؓ سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

امید ہے کہ جھنگوی ان سولات کا جواب دیں گے، پچھلے سوالات کے ساتھ ساتھ ان سوالات کا بھی قرض نہیں اٹھائیں گے۔

پھر آخر میں جھنگوی نے دوسرے شیعوں کی طرح یہ رونا رویا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تمھارے اصول صرف سیدنا علیؓ کے بارے میں چلتے ہیں دوسرے صحابہ پر نہیں۔

لیکن ان کا یہ رونا بھی فضول ہے، کیونکہ محدثین نے دوسرے صحابہ کے بارے میں بھی ان کے فضائل میں جھوٹی روایات کی نشاندہی کی ہے جیساکہ سیدنا علیؓ کے بارے میں کی ہے، سیدنا معاویہؓ کے بارے میں تو تم شیعہ ہی پیش کرتے ہو کہ ان کے فضائل یں صحیح روایت نہیں، حالانکہ میں اپنے کلپ میں اس بات کی بھی حقیقت واضح کرچکا ہوں۔

اور شیعوں کو تو ویسے بھی غلو نظر نہیں آئے گا کیونکہ وہ تو سیدنا علیؓ کو انبیاء سے افضل مانتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت کا مرتبہ نبوت سے بڑا ھے۔ جیسا کہ حیاۃ القلوب جلد 5 صفحہ 17 کا حوالہ لگایا ہے میں نے۔

اور یہ بات تو واضح ہے کہ جیسا کہ عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ماننا غلو نہیں، اس طرح شیعوں کے نزدیک بھی سیدنا علیؓ کو نبی کریمﷺ کے شان سے ملانا غلو نہیں۔

قارئین جھنگوی کی پچھلے پوسٹ پر خیر طلب صاحب نے جو کمنٹ کیے تھے جس کو جھنگوی نے اپنی پوسٹ میں کاپی کرکے لگا دیا تھا۔

اس پر میں نے چند سوالات کئے تھے، جن کا جواب دینے کے بجائے جھنگوی نے یہ لکھ کر ٹال دیا کہ

آخر میں اس نے جو کچھ سوالات کیے تھے وہ میرے موضوع سے خارج ہیں اس لیے ان سوالات کو میں جان بوجھ کر چھوڑ رہا ہوں۔

حالانکہ یہ سوالات بالکل زیر بحث مسئلے کے مطابق تھے، لیکن ان کا جواب جھنگوی کے پاس نہین تھا اور نہ ہی خیر طلب صاحب نے ان سوالات کا جواب دینے میں جھنگوی کی مدد کی اس لیے بیچارے نے جواب دیا ہی نہیں۔

میں اپنے اہل السنت بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ یہ سوالات یاد کرلیں، یہ وہ سوالات ہیں کہ جب کوئی شیعہ، بدعتی راوی کی تائید میں روایت والے اصول پر اعتراض کرے تو یہ سوالات کردیں، ان شاءاللہ وہ شیعہ بدعتی راوی کے اصول پر اعتراض بھول جائے گا۔

اب میں دوبارہ وہ سوالات دہراتا ہوں جن کا جواب جھنگوی پر قرض ہے۔

1۔ شاذ روایت کی تعریف کریں اور اس کا حکم بتائیں کہ وہ قبول ہے کہ نہیں؟

2۔ اگر شاذ روایت سندا صحیح ہونے کے بعد بھی قبول نہیں تو ثقہ بدعتی راوی کی روایت جو اس کے مذہب کی تائید میں ہو، اس کے قبول نہ ہونے پر اعتراض کیوں؟

3۔ شیعہ اصول درایت کے مطابق آپ مجھے بتائیں کہ اگر کتب شیعہ میں کسی روایت میں کوئی فاسد المذھب (غیر اثناء عشری) ثقہ راوی آجائے تو کیا اس کو قبول کیا جائے گا؟؟

4۔ شیعہ اصول درایت کے مطابق اگر ثقہ فاسد المذھب راوی کی روایت اس کے مذہب کی تائید میں ہو، تو وہ مقبول ہے کہ نہیں؟

5۔ اگر قبول نہیں تو کیا اس کو ضعیف کہا جائے گا؟

آخری تین سوالات کا جواب کسی معتبر شیعہ محدث کے حوالے سے بتائیں؟

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کو ہدایت نصیب کرے۔

اللھم العن من ابغض اصحاب النبی، والعن امامھم الغائب الکافر الظالم فی السامراء، لا تجعل لغائب الملعون سبیل الخروج، و اجعل قبرہ فی المکان الذی موجود فیہ ھذا الفاجر۔اللھم دمر دیارھم و شتت شملھم۔ اللھم انصر الذٰین یقتلون اعداء اصحاب النبی فی کل مکان۔

اللھم دمر دیارھم و شتت شملھم۔


کچھ دن پہلے میں نے تقیہ باز شیعہ انجنیئر مرزا کے خلاف اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی جس میں اس اعتراض کا مختصر رد تھا کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں کوئی روایت نہیں۔


ڈاؤن لوڈ

صفحہ 3 از 3