سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےصحیح احادیث موجود ہیں یا نہیں؟

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 2 از 3

تو آپ کے سامنے اس قول سے استدلال کرنے والے منکرین فضیلت معاویہؓ کی حیثیت واضح ہوئی کہ ان کا یہ استدلال کتنا لغو ہے۔

آگے جھنگوی نے ایک جھوٹ لکھا ہے کہ 

اعتراض: اس کے بعد اہل سنت مسلک کے قاضی شوکانی اپنی کتاب فواید المجموعہ، صفحہ 407 میں لکھتے ہیں۔

 ابن حبان کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع (یعنی گھڑی ہوئی) ہیں

الجواب

آپ اس کا لگایا ہوا فوائد مجموعہ کا سکین دیکھ سکتے ہیں، اس میں ابن حبانؒ کا نام نہیں بلکہ یہی امام اسحاق بن راھویہؒ کا قول ہے۔

اور ترجمہ بھی غلط کیا ہے کہ ‘‘معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع (یعنی گھڑی ہوئی) ہیں’’

حالانکہ ترجمہ یہ ہوگا کہ معاویہؓ کے فضائل کی صحیح حدیث نہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

پارٹ 2

مسلمان بھائیوں کو السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

محترم قارئین جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ سیف الاسلام جھنگوی سے بحث چل رہی ہے۔

میری پچھلی پوسٹ کا جواب انھوں نے کل دیا ہے جس کو پڑھ کر ھر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ جھنگوی مجھ یعنی علی معاویہ سے پنگا لے کر بہت برے طریقے سے پھنس گیا ہے۔ نہ بیچارہ میرے سوالات کا جواب دے پا رہا ہے اور نہ ہی چپ رہ سکتا ہے، کیونکہ لوگوں کے سامنے جناب بڑے محقق، مدقق اور بھت کچھ ہیں، اس لیے چپ رہنا گویا کہ ان کی علمی موت ہے۔

خیر اب ان کے پوسٹ کی طرف آتے ہیں۔

اس بار انھوں نے اصل بحث سے کٹ کر غیر متعلقہ باتوں سے پوسٹ کو بھر دیا ہے۔ مثلاً 

 سیدنا علیؓ سے محبت مومن کرے گا اور بغض منافق رکھے گا،،

 سیدنا علیؓ کے فضائل والی روایت کا ذکر کر دیا ہے جیسے کے حدیث مدینہ، حدیث سفینہ، حدیث غدیر وغیرہ، ان کا زیر بحث مسئلے سے دور دور کا تعلق بھی نہیں۔

 سیدنا عمرؓ کے بارے میں روایات نقل کرکے یہ لکھ دیا کہ “حضرت عمر کو نبی سے بڑھایا ہے” ۔

کیونکہ اصل بحث پر ان کے پاس بولنے کے لئے کچھ نہیں اس لیے کچھ نہ کچھ لکھ رہے ہیں اپنی عزت بچانے کے لیے۔

قارئین کرام، جھنگوی نے اس پوسٹ میں دوسرے شیعوں کی طرح یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علی معاویہ سیدنا علیؓ کے فضائل کا منکر ہے، حالانکہ یہ بات کرتے ہوئے خود ان شیعوں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اہل السنت سیدنا علیؓ سے محبت کرنے کو ایمان کا حصہ سمجھتے اور ان کے فضائل کو مانتے ہیں جیسا کہ جھنگوی نے نقل بھی کیا ہے کتب اہل السنت سے، لیکن پھر بھی یہ جھوٹا الزام لگاتے ہوئے ان کا ضمیر ان کو ملامت نہیں کرتا۔

اصل بات یہ ھے کہ ہم اہل السنت سیدنا علیؓ کو اس طرح نہیں مانتے جس طرح شیعہ مانتے ہیں اس لئے ہم کو یہ سیدنا علیؓ کے فضائل کا منکر کہتے ہیں۔

یہ چاہتے ہیں کہ اہل السنت بھی سیدنا علیؓ کو

  • تمام انبیاء سے افضل
  •  خلیفہ بلا فصل
  • اور ہر وہ جھوٹی فضیلت جو یہ بیان کرتے ہیں، وہ سب اھل السنت بھی مانیں تبھی وہ علیؓ سے محبت کرنے والے بنیں گے۔

یہ ہے حقیقت جس کی وجہ سے ہم کو یہ سیدنا علیؓ کے فضائل کا منکر کہتے ہیں۔

جھنگوی صاحب نے ابو عبد اللہ الجدلی کی روایت پر یہ لکھا کہ

قارئین کرام اس روایت نے مولانا علی معاویہ صاحب کو بہت پریشان کر دیا ہے حالانکہ اس میں کوئی اور کسی صحابی کی گستاخی تو نہیں بلکہ ایک صحابی خلیفہ راشد اور اہل بیت رسول اللہ کی شان بیان ہے اور کچھ بھی نہیں ہے

جھنگوی صاحب تو میں نے کب لکھا تھا کہ اس روایت میں کسی صحابی کی گستاخی ہے؟

آگے آپ نے خود ہی لکھ دیا کہ اس میں سیدنا علیؓ کی شان بیان ہے، تو اسی پر میں نے لکھا تھا کہ اس روایت میں سیدنا علیؓ کی شان بیان کرنے میں غلو ہے کہ ان کی شان کو نبی کریمﷺ سے ملا دیا گیا ہے۔ اس کا جواب تو نہیں بن سکا جناب جھنگوی صاحب سے بس بطور الزام کے چند حوالی نقل کردیے جن کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اعتراض: سنن ترمذی کی روایت پیش کرکے اس پر جھنگوی نے لکھا ہے کہ 

لیکن جہاں راویوں نے حضرت عمر کو نبی سے بڑھایا ہے اس کے بارے کوئی جرح تعدیل نہیں ہے، یہاں دیکھو شیطان جو نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتا ہے وہ عمر سے ڈرتا ہے

الجواب: 1۔ اصل میں جھنگوی کی علمی صلاحیت اتنی نہیں کہ وہ اصل بات سمجھ کر پھر کچھ لکھے، اس لئے اس نے یہ لکھ دیا۔

جناب یہاں بحث بدعتی راوی کی روایت کا اس کی تائید میں ہونے کی صورت میں غیر مقبول ہونے پر چل رہی ہے۔ لیکن آپ نے جو روایت بھیجی ہے اس میں کہاں ہے ایسی بات؟ ذرا نشاندہی کریں؟

2۔ دوسری بات یہ کہ سیدنا عمرؓ سے شیطان بھاگتا تھا، یہ فضیلت ان کو نبی کریمﷺ کی وجہ سے ملے، اگر وہ نبی کریمﷺ پر ایمان نہ لاتے تو یہ فضیلت ان کو نہ ملتی۔ تو گویا سیدنا عمرؓ کی یہ فضیلت نبی کریمﷺ کی ہی فضیلت ہوئی۔

جیسے چاند کی چاندنی کی تعریف حقیقت میں سورج کی تعریف ہے، کیونکہ چاند کو روشنی سورج سے ملی۔

 اعتراض: بخاری اور مجمع الزوائد سے روایت پیش کرکے جھنگوی لکھتا ہے۔

 معاذ اللہ! کبھی پردے کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتا نہیں عمر کہتے ہیں تو آیت آتی ہے۔

الجواب

1۔ نبی کریمﷺ اللہ کے حکم کے تابع تھے اپنی طرف سے احکامات جاری نہیں کرتے تھے، اس لیے جھنگوی کا یہ کہنا کہ "پردے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ نہیں"۔۔۔ یہ جھنگوی کی لاعلمی کی واضح دلیل ہے۔

2۔ سیدنا عمرؓ کی خواہش تھی کہ پردے کا حکم دیا جائے، اس خواہش کے مطابق اللہ نے حکم نازل فرمایا تو اس میں سیدنا عمرؓ رسول اللہﷺ سے فضیلت میں کیسے بڑھ گیے؟؟ کیا رسول اللہﷺکی خواہش پر قبلہ تبدیل نہیں ہوا تھا؟ کیا نبی کریمﷺ کی دوسری بہت ساری خواہشات اللہ نے قبول نہیں کیں؟ اگر کیں ہیں تو پھر یہ اعتراض بیکار ہوا۔

 اعتراض: جھنگوی آگے لکھتا ہے کہ

کبھی منافق پر نماز جنازہ نہ پڑھنے کا پتا نہیں ہے عمر کہتا ہے پھر آیت آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ جاتے ہیں

الجواب: اس اعتراض کا بھی وہی حال ہے جس کا رد اس سے پہلے بیان ہوا۔

تو جھنگوی نے صرف خانہ پوری کے لئے جواب بنا کر ڈال دیا جس کی علمی میدان میں کوئی حیثیت نہیں۔

اب میں جھنگوی سے سوالات کرتا ہوں۔

صفحہ 2 از 3