سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےصحیح احادیث موجود ہیں یا نہیں؟

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 1 از 3

مرزا علی جہلمی اور سیف الاسلام جھنگوی نامی رافضی کے جاہلانہ اعتراضات کا رد

پارٹ 1

کچھ دن پہلے میں نے تقیہ باز شیعہ انجنیئر مرزا کے خلاف اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی جس میں اس اعتراض کا مختصر رد تھا کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں کوئی روایت نہیں۔

نوٹ: وڈیو نیچے موجود ہے۔

اس وڈیو کے رد میں سیف الاسلام جھنگوی نامی رافضی نے ایک پوسٹ بنا کر لگا ڈالی جس میں اس نے فضول کی ابحاث چھیڑ کر لوگوں کے ذہن کو منتشر کرنے کی کوشش کی، کیونکہ اس کا جواب کافی تفصیلی ہوگا اس لیے جواب کے طوالت کے خوف سے میں جھنگوی رافضی کی اس پوسٹ کا رد مختلف پارٹس میں کرونگا ان شاءاللہ۔

اس پوسٹ میں اس پوائنٹ پر بات کرونگا کہ ‘‘سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں نبی کریمﷺ سے صحیح احادیث موجود ہیں یا نہیں۔

اب آتے ہیں پہلے پوائنٹ کی طرف!

سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں نبی کریم ﷺ سے صحیح حدیث نہ ہونے کی حقیقت

سیدنا معاویہؓ سے بغض رکھنے والے رافضی اور اہلسنت میں گُھسے ہوئے تقیہ باز رافضی ان کے فضائل کے انکار میں یہ قول نقل کرتے ہیں کہ

لا يصح في فضل معاوية حديث

لا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في فضل معاوية شي

یعنی سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں نبی کریمﷺ سے کوئی صحیح روایت نہیں۔

الجواب: یہ قول امام اسحاق بن راھویہؒ کا ہے جس کو کافی محدثین نے نقل کیا ہے، لیکن بغض معاویہ کے مریض اس ایک ہی قول کو مختلف کتابوں سے نقل کرکے یہ تاثر دیتے ہیں کہ سارے محدثین ہی سیدنا معاویہؓ کے فضائل کے منکر ہیں۔

اب آتے ہیں اس قول کی طرف۔

1۔ امام اسحاق بن راھویہؒ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریمﷺ سے حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی‘‘صحیح روایت’’ نہیں، یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ روایات کو قبول کرنے کے لئے صرف صحیح  کا ہونا ضروری نہیں ہوتا، اہل علم کے نزدیک روایات کی دوسری اقسام بھی قبول کی جاتی ہیں۔

امام اسحاق بن راھویہؒ نے حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں حسن روایات ہونے کا انکار نہیں کیا۔

حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں حسن روایات تو کئی کتب احادیث موجود ہیں، جس کا کوئی بھی اہل علم انکار نہیں کر سکتا۔

جو لوگ امام اسحاق بن راھویہؒ کے قول سے یہ سمجھتے ہیں کہ معاویہؓ کے فضائل کی ساری روایات ضعیف یا موضوع ہیں تو وہ اصول حدیث سے ناواقف ہے۔ جیسا کہ علامہ عبد الحی لکھنویؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 

كثيرا مَا يَقُولُونَ لَا يَصح وَلَا يثبت هَذَا الحَدِيث ويظن مِنْهُ من لَا علم لَهُ انه مَوْضُوع اَوْ ضَعِيف وَهُوَ مَبْنِيّ على جهلة بمصطلحاتهم وَعدم وُقُوفه على مصرحاتهم  

الرفع والتكميل جلد 1 صفحہ 191

 شاملہ کا لنک

محدثین اکثر اس طرح کہتے ہیں‘‘ لا یصح’’ اور ‘‘لا یثبت’’ کہ یہ حدیث صحیح نہیں یا ثابت نہیں، اور اس سے لا علم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے یا ضعیف ہے۔  اس کی بنیاد حدیث کی اصطلاحات سے جاہل ہونا اور محدثین کی تصریحات سے ناواقفیت ہے۔

تو جو لوگ امام اسحاقؒ کے قول سے یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل کی ساری احادیث موضوع یا ضعیف ہیں وہ کم علم اور اصول حدیث سے ناواقف ہیں۔

2۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی محدث کو کوئی حدیث نہیں پہنچی ہوتی، یا اس محدث کی شرائط سخت ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کافی صحیح روایات اس کے شرائط پر پورا نہیں اترتیں، تو وہ ان کو صحیح نہیں سمجھتا۔ تو ان وجوہات میں سے کوئی وجہ ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے امام اسحاقؒ نے ان روایات کے صحیح ہونے کا انکار کیا۔

اس کے برعکس کافی محدثین سیدنا معاویہؓ کے بارے میں صحیح روایات کے قائل ہیں۔

چند حوالاجات پیش کرتا ہوں

ابن عساکرؒ امام اسحاقؒ کا یہی قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ 

وأصح ما روي في فضل معاوية حديث أبي حمزة عن ابن عباس أنه كاتب النبي (صلى الله عليه وسلم) فقد أخرجه مسلم في صحيحه وبعده حديث العرباض اللهم علمه الكتاب وبعده حديث ابن أبي عميرة اللهم اجعله هاديا مهديا

تاريخ دمشق لابن عساكر جلد 59 صفحہ 106

 شاملہ کا لنک

یعنی معاویہؓ کی فضیلت میں جو صحیح روایت ہے وہ ابن عباسؓ کی روایت کہ معاویہؓ نبی کریمﷺ کے کاتب تھے، اس کو مسلم نے نقل کیا ہے اپنی صحیح میں، اس کے بعد حضرت عرباضؓ کی حدیث کہ اے اللہ معاویہؓ کو کتاب کا علم سکھا، اس کے بعد ابن ابی عمیرہؓ کی حدیث کہ اے اللہ معاویہؓ کو ھادی مھدی بنا۔

بعینہ یہی بات تذكرة الموضوعات للفتني جلد 1 صفحہ 100 اور تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة جلد 2 صفحہ 8 پر بھی موجود ہے

تذکرۃ الموضوعات کا لنک

تنزیہ الشریعہ کا لنک

تو بات واضح ہے کہ محدثین کے نزدیک سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں رسول اللہﷺ سے نہ صرف حسن بلکہ صحیح روایات بھی موجود ہیں۔

ان اقوالات اور فضائل معاویہؓ میں صحیح روایات کی موجودگی کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بات امام اسحاقؒ کی ذاتی رائے اور شاذ اقوالات میں سے ہے۔

3۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیں کہ فضیلت معاویہؓ کی ساری روایات ضعیف ہیں، تب بھی اصول یہ ہے کہ ضعیف روایات مل کر حسن بن جاتی ہیں۔

ملا علی قاریؒ ایک روایت پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں 

وَالْحَاصِلُ أَنَّ لَهُ طُرُقًا يُقَوِّي بَعْضُهَا بَعْضًا ; فَهُوَ حَسَنٌ يُحْتَجُّ بِهِ

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح جلد 3 صفحہ 1088

 شاملہ کا لنک

یعنی اس حدیث کی کافی طرق ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، تو یہ حسن ہے اس سے دلیل لی جائے گی۔

تو گویا انھوں نے اصول بتا دیا کہ ضعیف روایات ایک دوسرے کو مضبوط کر کے حسن بن جاتی ہیں اور حجت ہوتی ہیں۔

علامہ سخاویؒ ایک حدیث پر لکھتے ہیں کہ

وَإِنْ كَانَتْ أَسَانِيدُ مُفْرَدَاتُهَا ضَعِيفَةٌ، فَمَجْمُوعُهَا يُقَوِّي بَعْضُهُ بَعْضًا، وَيَصِيرُ الْحَدِيثُ حَسَنًا وَيُحْتَجُّ بِهِ

فتح المغيث بشرح ألفية الحديث جلد 1 صفحہ 94

شاملہ کا لنک

یعنی اگرچہ اس کے فرداً فرداً اسناد ضعیف ہیں لیکن ان کا مجموعہ ایک دوسرے کو تقویت دے کر حسن بن جاتی ہے اور اس سے حجت لی جاسکتی ہے۔

تو اس اصول کے مطابق سیدنا معاویہؓ کے فضائل کی روایات اگر بالفرض ضعیف بھی ہوں تب بھی حسن بن کر حجت بن جاتی ہیں۔

صفحہ 1 از 3