حضرت سیدہ اُمِ کلثوم بنت حضرت علی کا نکاح حضرت عمر فاروق…

حضرت سیدہ اُمِ کلثوم بنت حضرت علی کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم سے ہوا

  فیض

صفحہ 3 از 4

عاصم بن عمر بن قتادہ المدنی (ثقہ عالم بالغازی) رحمۃاللہ نے فرمایا:

عمر بن خطاب نے علی بن ابی طالب سے ان کی لڑکی ام کلثوم کا رشتہ مانگا، وہ رسول اللہﷺ کی بیٹی فاطمہ کی بیٹی تھیں۔ ”فزوجھا ایاہ” پھر انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے اس (ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کا نکاح ان (عمر رضی اللہ عنہ) سے کر دیا۔

(السیرۃ لابن اسحاق: صفحہ 275 وسندہ حسن)

محمد بن اسحاق بن یسار امام المغازی رحمۃاللہ نے فرمایا: وتزوج ام کلثوم ابنۃ علی من فاطمۃ ابنۃ رسول اللہﷺ عمر بن الخطاب فولدت لہ زید بن عمر و امراۃ معہ فمات عمر عنھا۔

ترجمہ: علی اور فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی بیٹی ام کلثوم کا نکاح عمر بن الخطاب سے ہوا تو ان کا بیٹا زید بن عمر (بن الخطاب) اور ایک لڑکی پیدا ہوئے۔ پھر عمر (رضی اللہ عنہ) فوت ہو گئے اور وہ آپ کے نکاح میں تھیں۔

(السیرۃ لابن اسحاق: صفحہ 275)

عطاء الخراسانی رحمۃاللہ نے کہا:

عمر (رضی اللہ عنہ) نے ام کلثوم بنت علی کو چالیس ہزار کا مہر دیا تھا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 463، 466 )

اس روایت کی سند عطاء الخراسانی تک حسن ہے۔

امام ابن شہاب الزہری رحمۃاللہ (تابعی) نے فرمایا:

واما ام کلثوم بنت علی فتزوجھا عمر بن الخطاب فولدت لہ زید بن عمر

ترجمہ: اور ام کلثوم بنت علی سے عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہما) نے شادی کی تو ان کا بیٹا زید بن عمر پیدا ہوا۔

(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 21 صفحہ 342 و سندہ حسن)

اس کے علاوہ ان کتب اہلسنت میں موجود ہے کہ: حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کا نکاح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔ 

(التاریخ الاوسط للبخاری: جلد 1 صفحہ 672 ح 379، صفحہ 674 ح 380، 381)

(کتاب الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 3 صفحہ 568)

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 265)

(کتاب الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 216)

اہل سنت کے درمیان اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں بلکہ اجماع ہے کہ حضرت سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ کی بیٹی ام کلثومؓ سے نکاح کیا تھا۔ حضرت علیؓ کے لاثانی داماد اور سیدہ اُم کلثومؓ بنت فاطمہؓ کے شوہر تھے اگر شیعہ اور نیم شیعہ اس حقیقت کے انکاری ہیں تو کیا تسلیم کرنے والے مندرجہ ذیل شیعہ علماء آپ سے کم تر جانتے تھے یا اُن میں انصاف کا کچھ شائبہ تھا؟؟؟

شیعہ عالم ابو جعفر الکلینی نے لکھا:

حمید بن زیاد عن ابن سماعۃ عن محمد بن زیاد عن عبداللہ بن سنان و معاویۃ بن عمار عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال: ان علیاً لما توفی عمر اتی ام کلثوم فانطلق بھا الیٰ بیتہ

 ترجمہ: ابو عبداللہ (جعفر الصادق) علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب عمر فوت ہوئے تو علی آئے اور ام کلثوم کو اپنے گھر لے گئے۔

(الفروع من الکافی: جلد 6 صفحہ 115)اس روایت کی سند شیعہ کے اصول سے صحیح ہے۔ اس کے تمام راویوں مثلاً حمید بن زیاد، حسن بن محمد بن سماعہ اور محمد بن زیاد عرف ابن ابی عمیر کے حالات مامقانی (شیعہ) کی کتاب: تنقیح المقال میں موجود ہیں۔

شیعہ عالم ابو جعفر الکلینی نے کہا:

علی بن ابراھیم عن ابیہ عن ابن ابی عمیر عن ھشام بن سالم و حماد عن زرارۃ عن ابی عبداللہ علیہ السلام فی تزویج ام کلثوم فقال: ان ذلک فرج غصبناہ۔

ترجمہ: ابو عبداللہ علیہ السلام (جعفر صادقؒ) سے روایت ہے کہ انہوں نے ام کلثوم کی شادی کے بارے میں کہا: یہ شرمگاہ ہم سے چھین لی گئی تھی۔

(الفروع من الکافی: جلد 5 صفحہ 346)(استغفر اللہ)

اس روایت کی سند بھی شیعہ اصول سے صحیح ہے۔ اس کے راویوں علی بن ابراہیم بن ہاشم القمی وغیرہ کے حالات تنقیح المقال میں مع توثیق موجود ہیں۔

شیعہ عالم شوستری لکھتے ہیں: اگر نبی دختر بعثمان داد ولی دختر بعمر فرستاد

اگر نبی کریمﷺ نے دختر عثمانؓ کو دی تو حضرت علیؓ کو دے دی۔

شیعہ عالم ابوجعفر طوسی الاستبصار صفحہ 185 میں لکھتے ہیں: جب حضرت عمرؓ فوت ہوگئے تو حضرت عمرؓ اُم کلثوم کو عدت گذارنے کے لئے لے آئے۔ نیز تہذیب میں یہ روایت کی ہے اُم کلثوم بنت علی علیہ السلام اور اُم کلثوم کا بیٹا ایک ہی ساعت میں مدفون ہوئے اور یہ معلوم نہ ہوسکا کہ پہلے کون مرا پس ایک دوسرے کا وارث نہ ہوا۔

شیعہ عالم سید مرتضٰی علم الھدٰی المتوفی 355ھ نے شانی میں لکھا ہے کہ :

حضرت امیر نے اپنی بیٹی کا نکاح بطیب خاطر نہیں کیا بلکہ یہ عقد بار بار کی درخواست پر ہوا نکاح تو بہرحال ہو گیا۔

اس حقیقت کے سامنے آنے سے شیعہ سوچیں کے اگر حضرت عمرؓ مومن نہ تھے تو حضرت علیؓ نے اپنی لخت جگر سے ظلم کیا اور ناجائز کام کرایا؟ (معاذاللہ ثم معاذاللہ)

ابو عبداللہ جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جب عمر فوت ہو گئے تو علی نے آ کر کلثوم کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے گھر لے گئے۔ 

(الفروع من الکافی: جلد 6 صفحہ 115، 116)

شیعہ عالم: ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی نے ”الحسین بن سعید عن النضر بن سوید عن ھشام بن سالم عن سلیمان بن خالد” کی سند کے ساتھ نقل کیا کہ ابو عبداللہ علیہ السلام (جعفر الصادق رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: جب عمر فوت ہوئے تو علی علیہ السلام نے آ کر ام کلثوم کا ہاتھ پکڑا پھر انہیں اپنے گھر لے گئے۔ 

(الاستبصار فیما اختلف من الاخبار: جلد 3 صفحہ 472 ح 1258 چشتی)

اس روایت کی سند بھی شیعہ اسماء الرجال کی رو سے صحیح ہے۔ ان کے علاوہ درج ذیل کتابوں میں بھی سیدنا عمر فاروقؓ سے حضرت ام کلثومؓ کے نکاح کا ذکر موجود ہے: (تہذیب الاحکام: جلد 8 صفحہ 161، جلد 9 صفحہ 262)

(الشافی للسید المرتضیٰ علم الھدی: صفحہ 116)

(مناقب آل ابی طالب لابن شھر آشوب: جلد 3 صفحہ 162)

(کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ للاربلی: صفحہ 10)

(مجالس المؤمنین للنور اللہ الشوستری: صفحہ 76)

(حدیقۃ الشیعہ للاردبیلی: صفحہ 277)

ایک عبرت انگیز واقعہ پیش خدمت ہے:

صفحہ 3 از 4