حضرت سیدہ اُمِ کلثوم بنت حضرت علی کا نکاح حضرت عمر فاروق…

حضرت سیدہ اُمِ کلثوم بنت حضرت علی کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم سے ہوا

  فیض

صفحہ 2 از 4

ترجمہ: اسی سال سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی بن ابی طالبؓ رضی اللہ عنہ کی طرف ان کی بیٹی امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کے لئے پیغامِ نکاح بھیجا۔ یاد رہے کہ یہ امِ کلثومؓ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کی لخت ِجگر تھیں۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: امِ کلثوم ابھی عمر میں چھوٹی ہیں۔ سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میں یہ رشتہ صرف اس لیے طلب کر رہا ہوں کہ) میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزِ قیامت تمام نسب اور سبب منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے تعلق، نسب اور سسرالی رشتہ کے۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تعلق اور سسرالی رشتہ ہو۔ اس پر سیدنا علیؓ نے ان کے ساتھ دس ہزار دینار حق مہر کے عوض اپنی صاحبزادی کی شادی کر دی۔

 (تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 149، 150 )

اہل سنت اور اہل تشیع کی بے شمار کتب میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کی سیدنا عمر بن خطابؓ   سے شادی بالصراحت ذکر ہوئی ہے۔ اہل سنت کے ہاں اس شادی کے انعقاد پر کوئی اختلاف نہیں بلکہ اجماع ہے کہ سیدنا عمرؓ کا نکاح سیدنا علیؓ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے ہوا تھا۔

نبی کریمﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ کے بطنِ مبارک سے حضرت فاطمہؓ نے جنم لیا اور حضرت فاطمہؓ کی شادی حضرت علیؓ سے ہوئی، پھر حضرت فاطمہﷺ کے بطن میں حضرت امِ کلثومؓ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ سیدہ امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کا نکاح حضرت عمر فاروقؓ سے ہوا، جبکہ سیدنا عمرؓ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رسول اکرمﷺ کے نکاح میں تھیں۔ ان کے بطن مبارک سے آپﷺ کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔

اس لیے سیدہ امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما حضرت عمر فاروقؓ کی نواسی یا نواسی کی بیٹی نہیں ہیں۔ شرعاً اس نکاح میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں حضرت امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر فاروقؓ کی محرم نہیں بنتیں۔

 سیدہ ام کلثوم بنت سیدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نکاح سیدنا عمر فاروق اعظمؓ سے ہوا۔

(تاریخ طبری: جلد سوم صفحہ 80 )

سیدہ ام کلثوم بنت سیدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نکاح سیدنا عمر فاروق اعظمؓ سے ہوا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 4 صفحہ 300)

حضرت ثعلبہ بن ابی مالکؓ (القرظی) سے روایت ہے کہ: حضرت عمر بن خطابؓ نے مدینہ کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو حضرت عمرؓ کے پاس ہی تھے کہا: یا امیر المومنین! یہ چادر رسول اللہﷺ کی نواسی کو دے دیجیے۔ جو آپ کے گھر میں ہیں۔ ان کی مراد (آپ کی بیوی) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما سے تھی۔ لیکن حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ ام سلیطؓ اس کی زیادہ مستحق ہیں۔ 

(صحیح بخاری: 2881، ترجمہ: محمد داود راز، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ: جلد 4 صفحہ 212)

نافع مولیٰ ابنِ عمر سے روایت ہے کہ:

ووضعت جنازۃ ام کلثوم بنت علی امراۃ عمر بن الخطاب و ابن لھا یقال لہ زید۔

ترجمہ: اور عمر بن خطاب کی بیوی ام کلثوم بنت علی کا جنازہ رکھا گیا اور اس کے بیٹے کا جنازہ رکھا گیا جسے زید (بن عمر بن الخطاب) کہتے تھے۔

(سنن النسائی: جلد 4 صفحہ 71، 72 حدیث 1980،

و سندہ صحیح و صححہ ابن الجارود بروایۃ: 545

و حسنہ النووی فی المجموع: جلد 5 صفحہ 224

و قال ابن حجر فی التلخیص الحبیر: جلد 2 صفحہ 146 حدیث 807: “و اسنادہ صحیح)

مشہور ثقہ تابعی امام الشعبی رحمۃاللہ سے روایت ہے کہ: عن ابن عمر انہ صلی علی اخیہ و امہ ام کلثوم بنت علی

ترجمہ: ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے اپنے بھائی (زید بن عمر) اور اس کی والدہ ام کلثوم بنت علی (رضی اللہ عنہما) کا جنازہ پڑھا

(مسند علی بن الجعد: 593 و سندہ صحیح، دوسرا نسخہ: 574)

امام شعبیؒ سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ ابنِ عمرؓ نے ام کلثوم بنت علی اور ان کے بیٹے زید (یعنی اپنے بھائی) کا جنازہ پڑھا۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 3 صفحہ 315 حدیث 11574 و سندہ صحیح، دوسرا نسخہ: 11690)

عبداللہ البہی رحمۃاللہ (تابعی صدوق) سے روایت ہے کہ: شھدت ابن عمر صلی علیٰ ام کلثوم و زید بن عمر بن الخطاب۔

ترجمہ: میں نے دیکھا کہ ابنِ عمرؓ نے ام کلثوم اور زید بن عمر بن الخطاب کا جنازہ پڑھا

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 468 و سندہ حسن )

اس جنازے کے بارے میں عمار بن ابی عمار (ثقہ و صدوق) نے کہا کہ میں بھی وہاں حاضر تھا۔

(طبقات بن سعد: جلد 8 صفحہ 468 و سندہ صحیح)

امام علی بن الحسین: زین العابدین رحمۃاللہ سے روایت ہے کہ:

ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خطب الیٰ علی رضی اللہ عنہ ام کلثوم فقال: انکحنیھا فقال علی: انی ارصدھا لابن اخی عبداللہ بن جعفر فقال عمر: انکحنیھا فو اللہ ما من الناس احد یرصد من امرھا ما ارصدہ، فانکحہ علی فاتی عمر المھاجرین فقال: الاتھنونی؟ فقالوا: بمن یاامیر المومنین؟ فقال: بام کلثوم بنت علی وا بنۃ فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

ترجمہ: بے شک عمر بن خطابؓ  نے علیؓ  سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا، کہا : اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ تو علیؓ نے فرمایا : میں اسے اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفرؓ کے لئے تیار کر رہا ہوں۔ پھر سیدنا عمرؓ نے کہا: اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! جتنی مجھے اس کی طلب ہے لوگوں میں سے کسی کو اتنی طلب نہیں ہے۔ (یا مجھ سے زیادہ اس کے لائق دوسرا کوئی نہیں ہے) پھر علی (رضی اللہ عنہ) نے اسے (ام کلثوم کو) ان (عمر) کے نکاح میں دے دیا۔ پھر حضرت عمرؓ مہاجرین کے پاس آئے تو کہا: کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کس چیز کی مبارکباد؟ تو انہوں نے فرمایا: فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی بیٹی ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی مبارکباد۔

(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 142 حدیث 4684 و سندہ حسن، وقال الحاکم: “صحیح الاسناد” وقال الذہبی: ”منقطع” السیرۃ لابن اسحاق صفحہ 275، 276 و سندہ صحیح)

علی بن الحسین بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم تک سند حسن لذاتہ ہے، جو کہ ائمہ اہل بیت میں سے تھے اور ان کی یہ روایت سابقہ احادیث صحیحہ کی تائید میں ہے۔

صفحہ 2 از 4