متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 9 از 18

اور اس کی اتنی کباہتیں ہیں کہ مضمون لمبا ہو گیا ہے باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔

لمحہ فکریہ: کیا ہے کوئی اپنی بہن اور بیٹی کی عزت کا پاسبان جو اس قسم کے گھناؤنے اور گندے کام کو جائز رکھے اور الٹا اسے کار ثواب دے بلکہ این ایمان سمجھے۔

سوال: متعہ کب حرام ہوا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں، بعض سے معلوم ہوتا ہے خیبر کے موقع پر متعہ حرام ہوا اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعلان فتح مکہ کے موقع پر ہوا ہے، دونوں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ اوطاس کے موقع پر حرام ہوا ہے، نیز بعض روایات میں غزوۂ تبوک بھی آیا ہے۔

جواب 1: متعہ کی حرمت کا اعلان بار بار آیا ہے، جس نے جس غزوہ کے موقع پر سنا اس نے اسی غزوہ کی طرف اس کو منسوب کر دیا۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 1 صفحہ 450)

جواب 2: ابتدائے خیبر کے موقع پر متعہ حرام کیا گیا تھا، پھر فتح کے موقع پر محدود وقت کے لئے اجازت دیدی گئی اور پھر قیامت تک کے لئے حرام کردیا گیا۔

(حاشیہ ترمذی: متعہ کی مزید تحقیق کے لئے دیکھیے: فتح الملہم: جلد 3 صفحہ 444۔ تعلیق الصبیح: جلد 4 صفحہ 22۔ عمدۃ القاری: 404۔ بذل المجہود: جلد 3 صفحہ 16۔ رسالۃ تحقیق متعہ: مولانا مفتی احمد پسروری حرمت متعہ: قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ)

متعہ کی حرمت کے بارے میں اختلاف نہیں، اختلاف اس میں ہے کہ متعہ کب حرام قرار پایا۔ تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں اختلاف کا ہونا کوئی ایسی چیز نہیں کہ متعہ کی حرمت کے بارے میں ہی شکوک پیدا کئے جائیں۔ حضرت فاطمہؓ کے مہر میں کافی اختلاف ہے کہ ان کا مہر کتنا تھا، احقر العباد کے سامنے اس وقت ایک معتبر شیعہ کتاب جلاء العیون موجود ہے، جس میں حضرت فاطمہؓ کے بیان مہر کا تذکرہ موجود ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے بیان مہر میں حضرت ام کلثوم بنت علی کے نکاح مہر سے کئی گنا زیادہ اختلاف ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

روایت نمبر اول: حضرت فاطمہ(ع) کا مہر دنیا و بہشت و دوزخ مقرر تھا۔

بسنت معتبر جناب صادق سے روایت ہے کہ حق تعالیٰ نے حصہ چہارم دنیا و بہشت و دوزخ مہر جناب فاطمہ کا مقرر ہوا، کہ اپنے دشمنوں کو داخل جہنم اور دوستوں کو داخل بہشت کرینگی۔

روایت نمبر دوم: حضرت فاطمہ کا مہر ایک قیمتی زرہ تیس درہم کی تھی۔

قرب الاسناد میں بسند موثق جناب صادق سے روایت کی ہے کہ مہر جناب فاطمہ کا ایک قیمتی زرہ تیس درہم کی تھی۔

روایت نمبر دوم: مہر پانچ سو درہم تھا

مؤلف فرماتے ہیں: اشہر یہ ہے کہ مہر جناب فاطمہ پانچ سو درہم تھا۔

روایت نمبر سوم: سیدہ فاطمہ کا مہر زمین کا پانچواں حصہ اور چار سو اسی درہم تھا

بروایت دیگر رسول اللہﷺ نے کہا: یا علی! میں نے فاطمہ کو تم سے حصہ پنجم زمین اور چار سو اسی درہم پر بحکم حق تعالیٰ تزویج کیا

روایت نمبر چہارم: سیدہ فاطمہ کا مہر زمین تھا رسول اللہﷺ نے علی ابن ابی طالب سے فرمایا: اے علی! حق تعالیٰ نے فاطمہ کو تم سے تزویج کیا، اور زمین اس کے مہر میں عطا کی۔ پس جو کوئی زمین پر راہ چلے، اور تمہارا دشمن ہو، وہ زمین پر حرام راہ چلا ہے۔

روایت نمبر پنجم: فاطمہ(ع) کا مہر زمین کا پانچواں حصہ ہے۔

بسند معتبر روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت رسولﷺ جناب فاطمہ کے پاس تشریف لائے، دیکھا جناب سیدہ رو رہی ہیں۔ حضرت نے فرمایا: اے فاطمہ کیوں روتی ہو۔ تم یقین جانو اگر میرے اہل بیت میں کوئی علی سے بہتر ہوتا، تو میں اس سے تجھے تزویج کر دیتا۔ اور میں نے تجھے اس سے تزویج نہیں کیا، بلکہ خدا نے تجھے اس سے تزویج کیا۔ اور جب تک آسمان و زمین باقی ہیں، پانچواں حصہ دنیا کا تیرے مہر میں دیا۔ 

تو آپ فرمائیے، کیا ہم کہیں کہ کیا حضرت علیؓ کا نکاح حضرت فاطمہؓ سے ہوا ہی نہیں تھا؟ کسی ذیلی مسئلے میں کوئی اختلاف ہونے پر آپ واقعے کا انکار کس طرح کرتے ہیں؟ اور ابھی تو ہم نے فدک کے متعلق اہلِ تشیع کی بنیادی باتوں میں اختلاف کو پیش ہی نہیں کیا۔ اور امامت کے متعلق اختلافی باتیں تو پوری کتاب کی محتاج ہیں۔ اس لئے آپ ہمیں یہ نہ بتائیں کہ بعض علماء نے اختلاف کیا کہ متعہ خیبر کے دن حرام قرار پایا۔ نہ صرف اہل سنت بلکہ اہل تشیع کے اکثر فرقے جیسے زیدیہ وغیرہ بھی متعہ کو حرام کہتے ہیں اور انہوں نے اپنے ائمہ سے بھی اس متعلق روایات نقل کی ہیں۔ 

یہ اعتراض کوئی اور کرتا تو شاید اتنا عجیب نہ لگتا، لیکن یہ اعتراض امامیہ اثنا عشریہ کی جانب سے آ رہا ہے، جو کہ انتہائی تعجب کا مقام ہے۔ کیا امامیہ نہیں جانتے کہ حدیث غدیر میں ایسا ہی اختلاف ہے، اکثر روایات میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ

جبکہ دوسری روایات کے مطابق اس کے بعد یہ الفاظ بھی اس روایت کا حصہ ہیں

اللھم وال من والاہ وعاد من عادہ

تو بتائیے کہ یہ دوسرے الفاظ جھوٹ ہیں؟ اگر جھوٹ نہیں تو آپ کا اعترض بھی بکواس ہے۔

اعتراضات میں سب سے بھونڈا اعتراض:

نوٹ: علت میں صحابہ کرامؓ کے مابین آراء یہ تھیں کہ:

1۔ پالتو گدھا نجس چیزیں کھاتا ہے اس لیے حرام قرار دیا گیا۔

2۔ پھر رائے تھی اگر واقعی گدھا نجس چیزیں کھاتا ہے تو جنگلی گدھا بھی حرام قرار دیا جاتا۔

3۔ چنانچہ وجہ تھی کہ خیبر والے دن اُسی وقت گدھوں کو ایسی حالت میں پکایا جانے لگا کہ انکا "خمس" نہیں نکالا گیا تھا اور اسی وجہ سے وہ ابھی تک حرام تھے (خمس کا حکم قرآن میں ہے اور وہ کبھی منسوخ نہیں ہوا ہے)

4۔ کچھ نے کہا وجہ یہ تھی رسول اللہﷺ کو پسند نہ آیا کہ سامان ڈھونے والے جانور کو یوں ذبح کر کے ضائع کر دیا جائے۔

چنانچہ خیبر میں ہوئے اس واقعہ کا تو ہر ہر شخص کو اچھی طرح علم ہے اور اختلاف صرف اس ممانعت کی "علت" میں ہے۔ مگر اسی خیبر میں متعہ کی ممانعت کے واقعہ تک کا لوگوں کو دور دور تک نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی کوئی علم نہیں ہے۔

"واقعہ" اور اسکی "علت" میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھیے۔

پالتو گدھے کے واقعہ کو 15 سے زائد صحابہ کرامؓ نے مستقل نقل کیا ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی ایک لفظ عقد المتعہ کےخیبر میں پیش آنے والے کسی واقعے کے متعلق نہیں نکالتا۔

صفحہ 9 از 18