متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 8 از 18

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: "إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ حَرَّمَهَا، وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا"[ابن ماجہ: 1953]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطابؓ خلیفہ بنے تو آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیشک رسول اللہﷺ نے ہمیں تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کو حرام قرار دیا بخدا میں کسی کے متعلق اگر معلوم کر لوں کہ اس نے متعہ کیا اور وہ شادی شدہ بھی ہے تو اس کو سنگسار کر دوں گا مگر یہ کہ وہ چار گواہ پیش کرے جو اس امر کی گواہی دیں کہ رسول اللہﷺ نے اس کو حرام ٹھہرانے کے بعد پھر اس کو حلال قرار دیا ہو 

مگر آپ کے اس اعلان کے باوجود چار تو کجا دو گواہ بھی دستیاب نہ ہوئے بلکہ سبھی نے حضرت عمرؓ کی اس روایت کردہ حدیث پر آپ کے ساتھ موافقت فرمائی اور تسلیم کیا اور متعہ کی حرمت پر اجماعِ صحابہؓ منعقد ہوا۔

حضرت عمرؓ نے دورانِ خطبہ نبی اکرمﷺ کے منع فرمانے کی تصریح فرمائی ملاحظہ ہو: حضرت عمر فاروقؓ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے؟ جو یہ متعہ کرتے تھے حالانکہ نبی پاکﷺ نے اسے ترک فرمایا میرے پاس جو شخص بھی ایسا لایا گیا جس نے متعہ کیا ہو میں اسے سنگسار کر دوں گا۔

(در منشور: جلد 2 صفحہ 141)

امام بیقہیؒ نے ایک روایت نقل کی ہے: حضرت عمر فاروقؓ منبر پر تشریف لاۓ اور آپ نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ان کو کیا ہو گیا ہے جو نکاح متعہ (مؤقت) کرتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

(فتح الباری: جلد 19 صفحہ 407)

حافظ ابن حجر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: سیدنا عمرؓ نے اسے صرف اپنے اجتہاد سے نہ روکا تھا بلکہ سیدنا عمرؓ نے اپنی دلیل میں رسول اللہﷺ کے ارشاد کو نقل کیا تھا جس میں آپ نے متعہ کی حرمت بیان کی تھی۔

حضرت علیؓ کی طرف سے منسوب کہ حضرت عمرؓ متعہ سے نہ روکتے تو کوئی بدبخت ہی زنا کرتا۔ بھلا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب خود حضرت علیؓ سے حرمتِ متعہ کی صحیح اور مستند حدیث موجود ہے تو پھر اباحت متعہ کی روایت، کیا عقل باور کر سکتا ہے؟ جس متعہ کو خود حضرت علیؓ حرام فرمائیں تو پھر اگر حضرت عمرؓ اگر حرام بتائیں تو ان پر تعن کیا، ہرگز ہرگز نہیں غلط ہے۔

دوم بالفرض حضرت علیؓ سے دونوں روایتیں حرمت متعہ والی اور اباحت متعہ والی صحیح مان بھی لی جائیں تو پھر حرمت اور حلّت جب جمع ہو جائیں تو عمل حرمت پر ہی ہوگا اور حلّت مردود ہوگی۔

قبل ازیں آیات کلام مجید اور احادیث رسول اللہﷺ سے متعہ کی ممنوعیت واضح ہو چکی ہے اور کتب شیعہ سے بھی ممنوعیت کی روایات حضرت علیؓ اور امام جعفر اور دیگر اکابر اہل بیت کے حوالے سے نقل کی گیں اور ابن ماجہ کی روایت میں ملاحظہ فرما لیا کہ حضرت عمرؓ نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی طرف سے متعہ کی ممنوعیت فرمائی اور ساتھ مطالبہ کیا کہ اس کی ممنوعیت کے بعد کسی کو اس کے حلال ٹھہرایا جانا معلوم ہو تو چار گواہ پیش کرے مگر مرکز اسلام مکہ اور مدینہ میں ہزاروں صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں چار گواہ دستیاب نہ ہوئے حتیٰ کہ فاتح خیبر علیؓ نے بھی شہادت نہ دی بلکہ اپنے دورِ خلافت میں بھی رسول اللہﷺ کی طرف سے اس کا حکم تحریم نقل فرماتے رہے جس سے اجماعِ صحابہؓ بمعہ حضرت علی مرتضیٰؓ واضح ہو گیا۔

نوٹ: میری ایسی اوقات کہاں کے میں کہوں کہ فلاں کون ہوتا ہے متعہ کو حرام کرنے والا، استغفراللہ

اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ اصحابؓ نے متعہ کو حرام قرار دینے کی نسبت حضرت عمرؓ کی طرف کی ہے تو یہ بات خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نبی پاکﷺ کے فرمان اور سنّت کا اہتمام کرے۔

متعہ کی حرمت میں اجماعِ امت کی نظر میں: اجماع بھی اس کی حرمت پر ہے، صحابہؓ سے لے کر آج تک سوائے روافض کے سب ہی نے اس کو حرام کہا ہے۔

متعہ کی حقیقت قیاس میں:

قیاس: قیاس کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ یہ حرام ہو، کیونکہ اس سے نسب خلط ملط ہوگا اور نسب کے بارے میں شریعت محمدیہﷺ میں بہت اہتمام کیا گیا ہے۔

انسان فطرتاً آزاد واقع ہوا ہے تو جس صورت میں ازروئے مذہب ہی اس کو ایک طرف تو شہوت رانی لائسنس مل جائے یعنی ہزار عورتوں سے متعہ کرو کہ وہ ٹھیکہ کی چیز ہیں تو انسان کو کیا غرض پری ہے کہ خواہ مخواہ منکوحات کے چکر میں پڑ کر عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری لے اور کہیں بال و بچوں کی تعلیم و پرورش کا بھار اپنے کندھوں پر ڈالے جبکہ اسے کھلے موقع میسر ہیں۔

دوم: جب اس امر سے کسی کو انکار نہیں کہ ہر نئی چیز کشش رکھتی ہے تو مرد کمبخت کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ ایک پرانی بوسیدہ ڈفلی بجاتا رہے ہر شب نئے مزے نہ لوٹے، سوسائٹی میں میری اور تیری کی قید اٹھ جائے گی ہر تلوار کا حق ہو گا کہ وہ جس نیام میں چاہے گھسے۔

اگر ایک بار مرد نے اپنا ذہن متعہ (شہوت زنی) کی طرف کر لیا تو عورتوں کا سر پھرا ہے جو خواہ مخواہ حمل کی تکلیف برداشت کریں، بچوں کی پرورش کی زحمت، خانہ داری کی درد سری محض مردوں کی خاطر برداشت کرے عورتوں کا جی نہیں چاہے گا کہ بوڑھے کھوسٹ خاوند کی جگہ ہر شب نئے کے پہلو میں مزے اڑائیں۔

ولد متعہ اپنی حیثیت قائم کرنے سے ایسے عاری ہے کہ اگر ہندو پاک میں کروڑوں شیعہ آبادی ہوں تو اس میں ایک بھی اپنے آپ کو متاعی کہنے کے لئے تیار نہیں، گویا لاکھوں متاعی مومنوں کی اولاد ہوں گے اور ہونے چاہئیں پھر جس عورت سے متعہ کیا گیا ہو چونکہ وہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس کا اعلان نہیں ہوتا۔ اظہار نہیں ہوتا۔ تو اب خدا معلوم ایک ہی عورت سے کون کون متعہ کرتا ہو گا اور جو اولاد ہوتی ہوگی اس میں لڑکیوں کا کیا حشر ہوتا ہوگا۔

صفحہ 8 از 18