متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 18

3419۔ وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيٰی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَامَ بِمَکَّةَ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا أَعْمَی اللہُ قُلُوبَهُمْ کَمَا أَعْمٰی أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ فَقَالَ إِنَّکَ لَجِلْفٌ جَافٍ فَلَعَمْرِي لَقَدْ کَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلٰی عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ يُرِيدُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِکَ فَوَاللہِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّکَ بِأَحْجَارِکَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللہِ أَنَّهٗ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهٗ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهٗ بِهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مَهْلًا قَالَ مَا هِيَ وَاللہِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا کَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ اضْطُرَّ إِلَيْهَا کَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْکَمَ اللہُ الدِّينَ وَنَهٰی عَنْهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ کُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذٰلِکَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ۔

3419۔ حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیرؓ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کر دیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں، اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو، میری عمر کی قسم! امام المتقین یعنی رسول اللہﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ابن زبیرؓ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کر لو، اللہ کی قسم! اگر تم نے ایسا عمل کیا تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں گا، ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے آ کر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، تو انہوں نے انہیں اس کی اجازت دے دی تو ان سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جاؤ! انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین کے زمانہ میں ایسا کیا گیا؟ ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح، پھر اللہ نے دین کو مضبوط کر دیا اور متعہ سے منع کر دیا، ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنیؓ نے خبر دی ہے، ان کے والد نے کہا میں نے نبی کریمﷺ کے زمانہ میں متعہ کیا تھا، پھر رسول اللہﷺ نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا، ابنِ شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہؓ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیزؒ سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔

اب اگر ہم عقلی طور پر بھی اس معاملے پر غور کریں کہ اگر اسلام متعہ کو جائز کہتا تو اسلام کا وہ معاشرہ جس میں حفاظت نسب، انضباط خاندان، شرم و حیا، پاکیزگی اخلاق اور جنسی اعتدال و احتیاط کا حددرجہ خیال رکھا جاتا ہے اور کسی پر بغیر چار گواہان کے زنا کا الزام لگانے والا مستوجب سزا ہے۔ کتنا بےاعتدال، افراتفری اور گندگی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ متعہ اگر جائز ہوتا تو ہر صاحبِ دولت ہر مہینے اور ہر دن نئے نکاح کرکے دین ہی کی آڑ میں عیاشی اور فحاشی کا کھیل کھیل سکتے ہیں۔ صاحبِ دولت کے علاوہ ہر عاشق و معشوق متعہ کے ہی سہارے زنا کر سکتے ہیں۔ نکاح کا اصلی تعلق جو عقلاً اور نقلاً سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کی دنیا کو پاکیزگی طریقہ سے رکھا جائے۔ اور میاں بیوی زندگی بھر ایک دوسرے کی رفاقت اور غمخواری میں کوشاں ہیں، متعہ کی شکل میں قطعاً فوت ہوجاتا ہے۔ خالص جنسی تلذذ اور عیاشی منزل مقصود تباہ ہو جاتی ہے اور وہ معاشرہ پھر جہنم کا نمونہ ہوگا، جس میں نکاحون کا مقصد شرکت حیات ٹہرے بلکہ لذت ہنگامی اور عشرت جنسی ہوگا۔ 

(صحیح مسلم: جلد: 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3420 حدیث مرفوع)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حدثنا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، قَالَ: حدثناالرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَقَالَ: أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا ، فَلَا يَأْخُذْهُ"

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2517]

3420۔ سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابن ابی عبلة، عمر بن عبدالعزیز، حضرت ربیع بن سبرہ جہنیؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نکاحِ متعہ سے ممانعت فرمائی اور فرمایا: آگاہ رہو! یہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے اور جس نے کوئی چیز دی ہو تو اسے واپس نہ لے۔

حضرت عمرؓ پر اپنی راۓ سے متعہ کو حرام کرنے کے الزام کا جواب:

اب غور طلب بات یہ ہے کہ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے اجتہاد سے اسے ممنوع قرار دیا یا آنحضرتﷺ کا ارشاد مبارک سنا کر اس ممنوعیت کو واضح کیا روایات شاہد ہیں کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے بیان میں آنحضرتﷺ کی حدیث مبارک پیش کی تھی۔ ملاحظہ ہو:

صفحہ 7 از 18