متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 18

اس قسم کی ایک اور حدیث سلمہ بن اکوع کے بیٹے نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔

سلمہ بن اکوع نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے عورتوں سے متعہ کی پہلے اجازت دی تھی پھر منع فرما دیا تھا۔ سو معلوم ہوا کہ حضرت سلمہ بن اکوع نے حرمت متعہ سے رجوع کر لیا تھا۔

 حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حدثنا أَبِي، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ: أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: "يَاأَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عَنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَه، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" 

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2510]

حضرت ربیع بن سبرہ جہنیؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے، آپﷺ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے نکاح متعہ کی اجازت دی تھی اور تحقیق اللہ نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے، پس جس کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو اسے آزاد کر دے اور جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے ان سے نہ لے۔

(صحیح مسلم: جلد: 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3413 حدیث مرفوع)

3413۔ وحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ۔

3413۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدة بن سلیمان، عبدالعزیز بن عمر اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو رکن اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے یہ ارشاد فرماتے دیکھا ابنِ نمیر کی حدیث کی طرح۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ، حدیث نمبر: 3414 حدیث مرفوع)

حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: "أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَانَا عَنْهَا"

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2511]

3414۔ اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، ابراہیم بن سعد، حضرت عبدالملک بن ربیع بن سبرہ الجہنی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں فتح مکہ کے سال مکہ میں داخلہ کے وقت نکاح متعہ کی اجازت دی، پھر ہم مکہ سے نکلے ہی نہ تھے کہ آپﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3416 حدیث مرفوع)

حدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: "أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ" 

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2513]

3416۔ عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3417 حدیث مرفوع)

وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حدثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ الْفَتْح عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ"

[صحيح مسلم »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2514]

3417۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، معمر، زہری، حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ سے منع فرمایا۔

فتح مکہ والی روایت ضعیف ہے: شمس الدین پیرزادہ صاحب

متعہ کی رخصت کے سلسلہ میں ایک حدیث صحیح مسلم میں عبدالملک بن الربیع بن سَبرہ سے مروی ہے مگر مشہور محدث یحیٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے اور ابوالحسن بن القطان کہتے ہیں ان کا عادل ہونا ثابت نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم نے ان کی حدیث بیان کی ہے لیکن وہ قابلِ حجت نہیں ہے۔

(تہذیب التہذیب: ابن حجر عسقلانی: جلد 6 صفحہ 393)

شیعہ یہ بات اس وقت کریں جب وہ کہیں کہ حضرت علیؓ کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کا قول تسلیم کیا جاسکتا ہے، جب اہل تشیع ایسا خود تسلیم نہیں کرتے تو اعتراض کرنے کی ضرورت اس کے سوا کوئی نہیں دکھائی دیتی کہ متعہ کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اور صحیح مسلم میں عبد الملک ابن ربیع بن سبرہ کے علاوہ ایک دوسرے طرق سے بھی فتح مکہ کے دن متعہ کی تحریم کی روایت موجود ہے۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3419 حدیث مرفوع)

صفحہ 6 از 18