متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 18

ایک اور روایت کتاب فقہ الرضا کے باب النکاح میں ہے: راوی کہتا ہے اے برادر پوچھا میں نے امام رضا سے کہ اے حضرت! روح میری آپ پر قربان ہو یہ فرمائے متعہ کی نسبت آپکا کیا حکم ہے کہ روایت کیا ہے کہ آپ کے دادا امیر المؤمنین نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے حلال کیا فتح مکہ کے روز اور حرام کیا تھا خیبر کے روز اور ساتھ منع کیا تھا۔ امیر نے فرمایا! جناب امیر (علی ) نے سچ فرمایا تھا: خدا کی قسم متعہ حرام ہے البتہ اجازت دی گئی تھی قبل میں۔ پھر امام نے فرمایا حضرت محمدﷺ نے متعہ حلال نہیں فرمایا تھا مگر جوانان عرب کے واسطے جو مسافرت میں آپ کے ساتھ تھے اور شکایت اپنی تکلیف کی کرتے تھے پس آپ نے اجازت متعہ کی نہ دی مگر ایسے لوگوں کے واسطے تاکہ حرام سے بچیں لیکن جس نے متعہ کیا اس حالت میں کہ قادر ہے نکاح پر یا لونڈی کے خریدنے پر یا اپنے مکان پر یا کسی شہر میں مقیم ہے پس اس نے مباح کیا اپنے نفس پر، اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ پاک نے اس کے واسطے اور خدا عزوجل نے فرمایا: جس شخص نے تجاوز کیا، اللہ کی حدوں سے داخل ہوگا وہ ظالمین میں۔

میرے بیٹے! نہیں تھا جواز متعہ کا مگر وقت اضطرار اور ضرورت کے جیسا کہ جائز ہے وقت ضرورت کے گوشت خنزیر کا، مردار اور خون لیکن حد ضرورت سے نہ گزرے تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔

ذرا آنکھے کھول کر اس روایت کو پڑھ کہ روایت سے صحیح اور معقول روایت کبھی ان آنکھوں نے دیکھی ہے)

حَدَّثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: "هَذِهِ حُجَّةٌ عَلَى مُعَاوِيَةَ، قَوْلُهُ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: حِينَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ"

[مسند الحميدي »أَحَادِيثُ رِجَالِ الأَنْصَارِ» أَحَادِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ۔ رقم الحديث: 587]

حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيِّ بْنُ الصَّوَّافِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثناالْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هَذِهِ حَجَّةٌ عَلَى مُعَاوِيَةَ، قَوْلُهُ: قَصَّرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ عِنْدَ الْمَرْوَةِ، يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: حِينَ "نَهَاهُ عَنِ الْمُتْعَةِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ سُفْيَانَ۔

[المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم »كِتَابُ الْحَجِّ» بَابُ: مَنْ يُحْرِمُ مِنْ مَكَّةَ مِنْ أَيْنَ يُحْرِمُ۔ رقم الحديث 2648]

حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّه، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: "إِنَّمَا أُحِلَّتْ لَنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَةُ النِّسَاءِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" 

[ناسخ الحديث ومنسوخه لابن شاهين »كِتَابٌ جَامِعٌ» بَابُ أَوَّلِ الْمُتْعَةِ وَالأَمْرِ بِهَا قَبْلَ۔ رقم الحديث: 429]

حضرت جابرؓ والی احادیث کا جواب:

سیرت ابنِ ہشام میں ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری خیبر کے موقع پر رسول خداﷺ کے ساتھ موجود نہ تھے۔(سیرت: 331، جلد 2)

اس واسطے خیبر کے دن کی حرمت متعہ کا ان کو علم نہ تھا جب تک کہ سیدنا حضرت عمرؓ نے اس کی وضاحت نہ فرمائی۔

حضرت جابرؓ سے ایک لمبی حدیث مروی ہے جس میں انہوں نے متعہ کی حرمت بیان فرمائی: کہ رسول اللہﷺ نے متعہ سے منع فرما دیا تو اس دن عورتوں کو چھوڑ دیا اور پھر ایسا نہ کیا اور نہ کریں گے۔

علامہ خازمی نے جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ہمراہ رسول اللہﷺ کے غزوۂ تبوک پر گئے شامی سرحد پر کچھ عورتیں ملیں ہم نے ان سے متعہ کیا اور وہ ہمارے سامان میں پھر رہی تھیں رسول خدا تشریف لائے اور عورتوں کا پوچھا تو ہم نے جواب دیا کہ ہم نے ان سے متعہ (نکاح مؤقت) کیا ہے پس آپ غضبناک ہوئے چہرہ مبارک لال سرخ ہو گیا اور کھڑے ہو کر خدا کی حمد و ثناء کے بعد تقریر فرمائی اور پھر متعہ سے منع فرمایا پس ہم نے ان عورتوں کو وہاں جدا کیا اور پھر اس کے بعد متعہ کی طرف نہ لوٹے اور نہ کریں گے۔ (فتح الملھم: صفحہ 444 جلد 3)

حضرت جابرؓ والی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کے قرآن اور نبی پاک کے استدلال پر مبنی فیصلے سے اتفاق کیا اور ان کے منع کرنے کے بعد پھر کبھی متعہ کے قریب نہ گئے حتیٰ کہ حضرت عمرؓ کے وصال کو مدتیں گزر گئیں اور حضرت علیؓ کا دورِ خلافت بھی گزر گیا امیرِ معاویہؓ کا دور بھی گزر گیا حتیٰ کے یزید کا دور بھی گزرنے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا دور آیا مگر حضرت جابرؓ ہیں کہ اس متعہ کی ممنوعیت پر قائم ہیں اور حضرت عمرؓ سے متحد اور متفق تو اس کو سند جواز قرار دینے کا کیا جواز؟

[صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3408، حدیث مرفوع]

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حدثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حدثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: "رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا"

[صحيح مسلم: »كِتَاب النِّكَاحِ» بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ۔ رقم الحديث: 2507]

3408۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، عبدالواحد بن زیاد، ابوعمیس، حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ م نے غزوہ اوطاس فتح مکہ کے سال تین دن تک متعہ کرنے کی اجازت دی پھر منع فرما دیا۔

ابن اکوع نے کہا کہ فتح مکہ کے سال تین دن کے لئے رسول کریمﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کے بعد منع فرما دیا۔

صفحہ 5 از 18