متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 18

3422۔ عبد اللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو ایک آدمی سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اسے کہہ رہے تھے کہ تو ایک بھٹکا ہوا آدمی ہے، رسول اللہﷺ نے متعہ سے منع فرمایا، باقی حدیث یحیی بن یحیی، مالک کی حدیث کی طرح ہے۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ حدیث نمبر: 3423 حدیث مرفوع)

3423۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللہِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ۔

3423۔ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان ابن عیینہ، زہری، حسن و عبد اللہ ابنا محمد بن علی، حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ بنی کریمﷺ نے غزوہ خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3424 حدیث مرفوع)

3424۔ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللہِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهٗ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ۔

3424۔ محمد بن عبد اللہ بن نمیر، عبید اللہ، ابن شہاب، حسن، عبد اللہ ابنا محمد بن علی، حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباسؓ کو عورتوں کے متعہ میں نرمی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ٹھہر جاؤ اے ابن عباسؓ! کیونکہ رسول اللہﷺ نے اس سے غزوہ خیبر کے دن منع فرمایا اور پالتو گدھوں کے گوشت سے بھی۔

 و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيٰی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللہِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا أَنَّهٗ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهٰی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ۔

ابوطاہر، حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حسن، عبد اللہ ابنا حضرت محمد بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو ابنِ عباسؓ سے فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

امامیہ شیعہ کی معتبر کتب استبصار، فروع کافی، اور تہذیب الاحکام میں بھی یہ روایت حضرت علیؓ سے منقول ہے پھر لطف کی بات یہ ہے یہ روایت ان کتب میں انہی الفاظ سے منقول ہے جن الفاظ سے یہ روایت کتب اہل سنت میں پائی جاتی ہے چنانچہ ملاحظہ ہو:

شیخ التایفہ علامہ طوسی( 460 ) اپنی کتاب تہذیب و استبصار میں ہر دو کتب کے باب تفصیل النکاح میں نقل کرتا ہے۔

ترجمہ: حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت اور نکاحِ متعہ کو حرام قرار دے دیا۔

(استبصار: جلد 3 صفحہ 142)

(تہذیب الاحکام: جلد 2 صفحہ 186)

(فروع کافی: صفحہ 192 جلد 2)

ایک اور شیعی محقق شیخ محمد بن حسن نے اپنی اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں اس روایت کو درج کیا ہے۔

یہ حدیث کتب ستہ اہل سنن میں بھی مرقوم ہے اور چونکہ یہ بہترین اسناد سے مروی ہے اس لئے کل محدثین نے بلا اتفاق اس پر حصر کر کے متعہ کو حرام قرار دیا۔

کیسی صاف روایت ہے روایت بھی ایسی کہ جناب علیؓ اپنے فہم سے فتویٰ نہیں دیتے بلکہ پیغمبر علیہ اسلام کی حدیث بیان کرتے ہیں اور روایت حدیث کے متعلق علماۓ اسلام (شیعہ ہو یا سنی ) اتفاق ہے کہ پیغمبر اسلام کے نام سے جھوٹی حدیث بیان کرنا جہنم میں داخل ہونے کا مؤجب ہے۔

نبی پاکﷺ کی حدیث ہے یعنی جو مجھ (پیغمبر ) پر جھوٹی بات لگائے جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

نوٹ: یہ خیبر کے دن کے اعلان کا ذکر ہے یہ نہیں کے اس کی حرمت بھی اسی دن نازل ہوئی تھی حکم کو نافذ کرنے کے لئے مناسب وقت اختیار کیا جاتا ہے۔

متعہ کی حرمت پر ایک اور حدیث شیعہ اثنا عشریہ کی کتاب سے ملاحظہ ہو: مفصل نے کہا کہ میں نے امام جعفر (ع) سے سنا کہ متعہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس کو بلکل چھوڑ دو ، کیا تمہیں حیاء نہیں آتی کہ بیگانہ عورت کی فرج دیکھ کر اپنے بھائیوں اور دوستوں کے آگے اس کا حال بیان کرو۔

(فروع کافی: صفحہ 24 جلد 6 میں یہ روایت ہے)

اس روایت میں نہ صرف متعہ کو حرام کیا گیا بلکہ اس بےحیائی کا نہایت ہی مختصر مگر معنیٰ خیز الفاظ میں میں مرقع کھینچا گیا ہے جو متعہ کا لازمی نتیجہ ہے۔

صفحہ 4 از 18