متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 18

ترجمہ: نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آ جائیں (وہ مستثنی ہیں) اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیئے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کر دیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطورِ مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔ چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

اس آیت پاک میں اس امر کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جن عورتوں سے نکاح حلال ہے(یعنی بیوی اور لونڈی کیونکہ نکاح جن سے ہوتا ہے قرآن پاک اس بارے میں فیصلہ دے چکا ہے) انھیں چند شرطوں کے بعد اپنے نکاح میں لا سکتے ہیں یعنی ان کے ساتھ شادی جائز ہے ان شرائط میں سے خاص طور پر مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ کے الفاظ متعہ کی حرمت کو بہت وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

مُحْصِنِيْنَ: یعنی جن عورتوں سے تم نکاح کرو تو اس کا مقصد محض وقتی اور عارضی نہ ہو بلکہ دائمی ہو ایسا نہ ہو کہ چند دن کی عیش کی نیت سے اس کے ساتھ شادی رچاؤ اور پھر چھوڑ دو یہ طریقہ غلط ہے جب تم نے اس کے ساتھ نکاح کیا تو شرط یہ ہے کہ اسے ہمیشہ بیوی بنا کر رکھو یہ الگ بات ہے کہ کسی وجہ سے آپس میں نااتفاقی ہو جائے اور طلاق کی نوبت آ جائے لیکن تم پہلے سے ایسی نیت نہ کرو۔

غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ: تمہارا اس نکاح سے مقصد صرف مستی نکالنا نہ ہو یعنی محض شہوت اور خواہش پوری کرنے کی نیت نہ ہو جیسا کے زنا میں ہوتا ہے۔

اس کے بعد فَمَااسْتَمْتَعْتُمْ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ جن عورتوں (یعنی بیوی اور لونڈی) سے تم نے ان شرطوں کے ساتھ نکاح کر کے فائدہ اٹھا لیا (یعنی جماع اور صحبت کر لی) تو ان عورتوں کا مہر جو بھی مقرر ہوا ہو وہ ان کو پورا دے دو یعنی مہر ادا کرنا ہوگا اگر صحبت سے پہلے طلاق کی نوبت آ جائے تو مرد کے ذمہ نصف مہر اور خلوت (رات گزارنے کے بعد) طلاق کی نوبت آ جائے تو پورا مہر ادا کرنا ہوگا اس میں ٹال مٹول کی کوشش مت کرو اور اس باب میں تم پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا کہ مقررہ مہر کے بعد تم آپس میں مہر کی رقم گھٹاؤ یا بڑھاؤ یعنی عورت اپنی مرضی سے مہر نہ لے یا کم لے یا مرد اپنی خوشی سے زیادہ دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔

اور دوسری جگہ فرمایا: 

وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ۞ (سورۃ البقرة آیت 237)

ترجمہ: اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے ہی اس حالت میں طلاق دی ہو جبکہ ان کے لیے (نکاح کے وقت) کوئی مہر مقرر کر لیا تھا تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا تھا اس کا آدھا دینا (واجب ہے) 

اور اس آیت میں فرمایا کہ جن عورتوں (یعنی بیوی یا لونڈی) سے نکاح کرنے بعد فائدہ نہیں اٹھایا (یعنی جماع اور صحبت نہیں کی) تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔

نتیجہ: ایک جگہ پر آدھا مہر ذکر کیا گیا اور دوسری جگہ پر پورا مہر ذکر کیا گیا سو معلوم ہوا قران پاک یہاں نکاح صحیحہ کا ہی ذکر کر رہا ہے نہ کہ متعہ کا۔

قرآن پاک کی اس آیت میں متعہ کا بیان سرے سے ہے ہی نہیں لیکن شیعہ نے متعی کو دیکھ کر اس سے متعہ کے جائز ہونے اور اپنے اصطلاحی متعہ کے ثبوت کا فتویٰ دے دیا حالانکہ جس کی قرآن کریم کے سیاق و سباق پر نظر ہوگی وہ ہرگز اس آیت سے متعہ کے جواز کی دلیل نہ لے گا۔

قرآن پاک نے یہاں تک فرمایا کہ:

اور اگر صبر سے کام لو اور لونڈیوں سے نکاح بھی نہ کرو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ (سورۃالنساء)

تو کیا ایسی صورت حال میں متعہ کا سوال پیدا ہو سکتا ہے؟

آنحضرتﷺ کا فرمان ہے: اے نوجوانو! تم میں سے جو شادی پر قدرت رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ شادی کر لے کہ یہ شادی نگاہ کو نیچا کر دیتی ہے اور اس کے ذریعے سے شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے اور جو شخص شادی پر قدرت نہیں رکھتا اس کو لازم ہے کہ روزہ رکھے کہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے۔ (صحیح بخاری: جلد 58)

نبی پاک نے متعہ کی کہیں تو گنجائش رکھی ہوتی؟

متعہ کی حرمت احادیث میں: اس سلسلہ میں احادیث "متواترہ" ہیں جس کی وجہ سے ان کا انکار کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلاً:

صحیح مسلم: «نکاح کا بیان (کتاب النکاح)»

 باب: اس بات کا بیان کہ نکاحِ متعہ جائز کیا گیا، پھر منسوخ کیا گیا، پھر جائز کیا گیا، پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی رکھی گئی۔

بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهٗ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهٗ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيٰی قَالَ قَرَأْتُ عَلٰی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ۔

حضرت علیؓ بن ابوطالب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے نکاح متعہ کرنے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

(صحیح مسلم: جلد 2 دوسرا پارہ: حدیث نمبر: 3422 حدیث مرفوع)

3422۔ وحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ بِهٰذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِفُلَانٍ إِنَّکَ رَجُلٌ تَائِهٌ نَهَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيٰی بْنِ يَحْيٰی عَنْ مَالِکٍ۔

صفحہ 3 از 18