متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 18

ترجمہ: بیوی اور باندی

فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌۞ (سورۃ المؤمنون آیت 7)

ترجمہ: پس جو ان کے سوا چاہے تو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔

یہی ایک فقرہ حرمتِ متعہ کے لئے ناقابل تردید سند ہے۔

تشریح: یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آ گئیں، بلکہ بعض مفسرین نے حرمتِ متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔

یہ آیت قرآنیہ صریح طور پر یہ ثابت کرتی ہے کہ اہک مدت متعنیہ کے لئے کسی عورت کا بطورِ بیوی رکھ لینا جائز نہیں، کیونکہ تھوڑی سی مقررہ مدت کے لئے رکھی جانے والی عورت داشتہ ہوتی ہے، بیوی نہیں۔ خود ام المؤمنین، فقہ الفقہاء سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا اس آیت سے متعہ کے خلاف تمسک حدیث میں ضروری ہے۔

ممتوعہ (متعہ والی عورت) نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔

لونڈی تو ظاہر ہے کہ نہیں اور بیوی اس لئے نہیں کہ زوجیت کے لئے جتنے قرآنی اور قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی ان پر اطلاق نہیں ہوتا، نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہیں، نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے، نہ اس کے لئے عدّت ہے، نہ طلاق، نہ نفقہ، نہ ایلا، نہ ظہار، بلکہ مقررہ چار بیویوں کی مقدار سے بھی وہ مستشنیٰ ہے۔ پس جو بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی وہ ان کے علاوہ کچھ اور میں شمار ہوتی ہیں جس کے طالب کو قرآن حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے۔

جہاں کہیں اللہ پاک نے زوجہ یا ازواج کا لفظ قرآن پاک میں استعمال کیا ہے اس کے معنیٰ منکوحہ یا منکوحات کے علاوہ کچھ نہیں۔

اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ (سورۃ اعراف آیت 19)

اے نبیﷺ اپنی عورتوں سے کہ دو۔ (سورۃ احزاب آیت 28)

اے نبیﷺ ہم نے اس عورت کو تیری زوجہ بنا دیا۔ (سورۃالأحزاب آیت 37)

کہ اپنی ازواج میں سے تبدیل کرو (سورۃالأحزاب آیت 52)

حضرت زکریا کے لئے ہم نے اس کی بیوی کو درست کیا۔ (سورۃ الانبیاء آیت 90)

ان سب مثالوں سے صاف ظاہر ہوتا کہ زوجہ جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اس کا اطلاق صرف منکوحہ پر ہی ہو سکتا ہے اور بس بیچاری ممتوعہ کسی طرح بھی ازواج کے زمرہ میں نہیں آتی۔

قرآن مجید نے چند لوازمات زوجیت کے لئے مقرر کیے ہیں کہ جن میں بھی یہ لوازمات پائے جائیں گے وہ (زوجہ، بیوی یا منکوحہ) میں شامل ہے اور جن میں نہیں پائے جاتے وہ غیر میں شامل ہے۔

میراث: اور تمھارے لئے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں اس کا نصف ہے۔ (سورۃالنساء آیت 12)

طلاق: ان کو اچھے طریقے سے روک لو۔ (سورۃالبقرہ آیت 231)

عدت: اور مدت عدت طلاق کی صورت میں تین حیض ہے۔ (سورۃالبقرہ آیت 238)

نفقہ: نکاح کے بعد شوہر اپنی زوجہ کو خرچہ دینے کا ذمدار (سورۃالنساء 34)

گواہ: دو نیک عادل گواہ ضروری ہیں۔ (سورۃ طلاق آیت 2)

ایلا: یعنی عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لینا اور کفارہ ادا کرنا

ظہار: یعنی اپنی عورت کو ماں، بہن کہ دینا اور نکاح میں کفارہ ادا کرنا۔

احصان: مرد کا شادی شدہ ہوتے ہوئے زنا وغیرہ کرنا اور سنگساری اور دوسری سزائیں ملنا۔

نتیجہ یہ نکلا: کہ آرزوئے اسلام زوجہ وہی ہے جس کے مذکورہ بالا احکام مراتب ہو سکیں جب مذکورہ بالا احکام کی ترتیب صرف نکاح صحیح میں ہوتا ہے متعہ میں نہیں۔ لہٰذا قاعدہ مشہور ہے جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے لوازم سے ہی ہوتی ہے اپنے لوازم مذکورہ سے نکاح تو ثابت ہو گیا لیکن متعہ میں تو نہ لوازم ہیں اور نہ ہی اسے نکاح حلال کہا جا سکتا ہے اس سے ثابت ہوا متعہ نکاح نہیں بلکہ زنا محض ہے۔

شیعہ روایات ملاحظہ ہوں:

اور امام جعفرؒ (ع) کا قول بھی ہے کہ ممتوعہ عورت زوجیت میں داخل نہیں۔

اعتقادات ابن بایویہ: امام جعفر (ع) سے روایت ہے متعہ کے متعلق فرمایا ممتوعہ عورت چار عورتوں میں سے نہیں یعنی زوجہ منکوحہ سے نہیں اور نہ وارث ہو گی اور سوائے اس کے نہیں کہ مستاجرہ ہے۔ (فروع کافی)

دوم روایت: امام باقر(ع)سے جس کے آخری الفاظ یہ ہیں: امام باقر نے فرمایا یہ ممتوعہ عورت زوجہ منکوحہ نہیں بلکہ یہ اُجرت پر خریدی گئی ہے کہ اس سے جماع کیا جائے۔ (فروع کافی)

فائدہ: امام جعفر اور امام باقر دونوں ممتوعہ کو زوجہ سے خارج فرما گئے ہیں جب آئمہ معصومین زوجہ منکوحہ سے ممتوعہ زن کو خارج فرمائیں تو علماء کی کیا ہستی کہ وہ اسے زوجہ میں داخل کریں۔

علاوہ ازیں امام رازی رحمۃاللہ، حضرت نواب صدیق حسنؒ، امام قرطبیؒ اسی آیت کی روشنی میں متعہ کی حرمت کو ثابت کرنا بتاتے ہیں۔

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اسی آیت کی بنا پر متعہ کو حرام قرار دیتی تھیں۔

نوٹ: زنا (متعہ) کا جب دروازہ کھل گیا تو کوئی مستقل قاعدہ و قانون نہ رہا تو پھر کسی خاص مرد کو کسی خاص عورت سے کوئی خاص لگاؤ باقی نہ رہے گا جس کو جہاں موقع مل گیا اور جو کچھ کر گزرنا ہو، کر گزرتا ہے اور یہی حال حیوانات کا ہے۔

اوپر دی گئی قرآنی آیت کو سامنے رکھتے ہوئے اب تیری پیش کردہ آیت پر غور و فکر کرتے ہیں:

اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں: 

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّاوَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَااسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا۞(سورۃ النساء آیت 24)

صفحہ 2 از 18