متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 17 از 18

بعض نے اس آیت سے نکاحِ متعہ پر استدلال کیا ہے۔ بے شک متعہ ابتدائے اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہو گیا۔

حضرت ابنِ عباسؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد حنبلؒ سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے۔

مجاہد رحمۃاللہ فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علیؓ والی روایت کر دیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرما دیا۔

شیخ الالسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃاللہ تفسیر عثمانی میں لکھتے ہیں: محرمات کا ذکر فرما کر اخیر میں اب ان عورتوں کی حرمت بیان فرمائی جو کسی کے نکاح میں ہوں یعنی جو عورت کسی کے نکاح میں ہے اس کا نکاح اور کسی سے نہیں ہو سکتا تاوقت یکہ وہ بذریعہ طلاق یا وفات زوج نکاح سے جدا نہ ہو جائے اور عدت طلاق یا عدت وفات پوری نہ کر لے اس وقت تک کوئی اس سے نکاح نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر کوئی عورت خاوند والی تمہاری مِلک میں آ جائے تو وہ اس حکم حرمت سے مستثنٰی ہے اور وہ تم پر حلال ہے گو اس کا خاوند زندہ ہے اور اس نے طلاق بھی اس کو نہیں دی اور اس کی صورت یہ ہے کہ کافر مرد اور کافر عورت میں باہم نکاح ہو اور مسلمان دارالحرب پر چڑھائی کر کے اس عورت کو قید کر کے دارالاسلام میں لے آئیں تو وہ عورت جس مسلمان کو ملے گی اس کو حلال ہے گو اس کا زوج دارالحرب میں میں زندہ موجود ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی اب سب محرمات کو بیان فرما کر اٰخیر میں تاکید فرما دی کہ یہ اللہ کا حکم اس کی پابندی تم پر لازم ہے۔ 

فائدہ: جو عورت کافرہ دارالحرب سے پکڑی ہوئی آئے اس کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک حیض گزر جائے اور وہ عورت مشرک بت پرست نہ ہو بلکہ اہل کتاب میں سے ہو۔

یعنی جن عورتوں کی حرمت بیان ہو چکی ان کے سوا سب حلال ہیں چار شرطوں کے ساتھ۔

 اول یہ کہ طلب کرو یعنی زبان سے ایجاب و قبول دونوں طرف سے ہو جائے۔ 

دوسری یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو۔ 

تیسری یہ کہ ان عورتوں کو قید میں لانا اور اپنے قبضہ میں رکھنا مقصود ہو صرف مستی نکالنا اور شہوت رانی مقصود نہ ہو جیسا کہ زنا میں ہوتا ہے یعنی ہمیشہ کے لئے وہ اس کی زوجہ ہو جائے چھوڑے بغیر کبھی نہ چھوٹے مطلب یہ کہ کوئی مدت مقرر نہ ہو اس سے متعہ کا حرام ہونا معلوم ہو گیا جس پر اہل حق کا اجماع ہے۔

 چوتھی شرط جو دوسری آیتوں میں مذکور ہے یہ ہے کہ مخفی طور پر دوستی نہ ہو یعنی کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورت اس معاملہ کی گواہ ہوں اگر بدون دو گواہوں کے ایجاب و قبول ہو گا تو وہ نکاح درست نہ ہوگا زنا سمجھا جائے گا۔

مفتی اعظم مولانا شفیع عثمانیؒ معارف القرآن میں لکھتے ہیں:

لفظ استمتاع کا مادہ م۔ت۔ع ہے جس کے معنیٰ کسی فائدہ کے حاصل ہونے کے ہیں۔ کسی شخص سے یا مال سے کوئی فائدہ حاصل کیا تو اس کو استمتاع کہتے ہیں، عربی قواعد کی رو سے کسی کلمہ کے مادہ میں س اور ت کا اضافہ کر دینے سے طلب و حصول کے معنیٰ پیدا ہو جاتے ہیں، اس لغوی تحقیق کی بنیاد پر فمااستمتعتم کا سیدھا مطلب پوری امت کے نزدیک خلفاء عن سلف وہی ہے جو ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے۔ لیکن ایک فرقہ کا کہنا ہے کہ اس سے اصطلاحی متعہ مراد ہے، اور ان لوگوں کے نزدیک یہ آیت متعہ حلال ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ متعہ جس کو کہتے ہیں اس کی صاف تردید قرآن کریم کی آیت بالا میں لفظ محصنین غیر مسافحین سے ہو رہی ہے، جس کی تشریح آگے آ رہی ہے۔

قرآن مجید نے محرمات کا ذکر فرما کر یوں فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ اپنے اصول کے ذریعہ حلال عورتیں تلاش کرو اس حال میں کہ پانی بہانے والے نہ ہوں یعنی محض شہوت رانی مقصود نہ ہو اور ساتھ ہی محصنین کی قید لگائی ہے یعنی یہ کہ عفت کا دھیان رکھنے والے ہوں۔ متعہ چونکہ مخصوص وقت کے لیے کیا جاتا ہے اور اس لیے جس عورت سے متعہ کیا جاتا ہے اس کو فریق مخالف زوجہ وارثہ بھی قرار نہیں دیتا، اور اس کو ازواج کی معروفہ گنتی میں بھی شمار نہیں کرتا اور چونکہ مقصد محض قضاء شہوت ہے اس لیے مرد و عورت عارضی طور پر نئے نئے جوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں، جب یہ صورت ہے تو متعہ عفت و عصمت کا ضامن نہیں بلکہ دشمن ہے۔

مندرجہ بالا حدیثوں اور حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ سورۃالنساء کی آیت 24 اوطاس کے موقع پر نازل ہوئی۔ اور وجہ نزول اوطاس میں قید ہونے والی مشرکین کی عورتوں کے بارے میں ہے نہ کہ متعہ کے بارے میں۔

اور جب فریق مخالف کی قرآنی دلیل نازل ہی 8 ہجری فتح مکہ کے بعد ہو رہی ہے تو پھر 8 ہجری تک کوئی اس آیت سے متعہ کی حلت پر استدلال کیسے کر سکتا ہے؟؟

شیعہ مذهب اور متعہ: متعہ زنا کا دوسرا نام ہے اور دین اسلام نے ان تمام ذرائع و وسائل کو ممنوع وحرام قرار دیا جو زنا کی طرف لے جانے والے ہوں کیونکہ دین اسلام طہارت و عفت کا دین ہے لہٰذا زنا کے قریب جانے کو بھی اسلام نے حرام قرار دیا، اس کے برخلاف شیعہ مذهب میں متعہ (زنا) صرف جائز وپسندیده ہی نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے، لہٰذا شیعہ کی مستند کتب سے چند حوالے پیش کروں گا عاقل و سمجھدار خود ہی فیصلہ کر لے کہ کیا شیعہ مذہب کو کوئی حیوان بھی قبول کر سکتا ہے چہ جائیکہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس غلیظ و خبیث مذہب کو قبول کرے۔۔۔ 

1: خمینی ملعون کہتا ہے کہ دودھ پیتی بچی کے ساتھ بھی متعہ جائز ہے۔

اور عورت سے متعہ پیچھے کی طرف سے بھی جائز ہے۔(معاذاللہ)

2: شیعہ مذہب میں زانیہ عورت سے بھی متعہ جائز ہے۔ (معاذاللہ)

3: شیعہ مذہب میں متعہ کا ثواب: متعہ کرنے والی عورت سے ہر بات کرنے پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب اس کے قریب جاتا ہے هے تو اللہ اس کے گناه معاف کر دیتا ہے، جب غسل کرتا ہے تو بالوں کی تعداد کے برابر اللہ اس کی بخشش کر دیتے ہیں۔

( معاذاللہ نقل کفر کفر نباشد)

5: شیعہ مذہب میں گھروں میں کام کرنے والی خادمہ سے بھی متعہ جائز ہے معاذاللہ 

6: شیعہ مذہب کے مشہور عالم نعمت الله الجزائری اور متعہ و لواطت

صفحہ 17 از 18