متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 16 از 18

عبید اللہ بن عمر بن میسرہ، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، صالح، ابوخلیل، ابوعلقمہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنگ حنین میں ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ کیا۔ (اوطاس ایک جگہ کا نام ہے) پس وہ اپنے دشمنوں پر جا پہنچے ان سے قتال کیا اور ان کو مغلوب کر لیا اور ان کی عورتیں گرفتار کر لیں۔ پس بعض اصحاب نے ان سے ان سے صحبت کرنا جائز نہ سمجھا کیونکہ ان کے کافر شوہر موجود تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

ترجمہ: تم پر شوہر والی عورتیں حرام ہیں لیکن جن کے تم مالک بن جاؤ یعنی وہ تمھارے لیے حلال ہیں۔ 

سنن ابو داؤد: 1841

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ وَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ فَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي الْمُشْرِکِينَ فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ أَيْ هَذَا لَکُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

محمد بن عبدالاعلی، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، ابوالخلیل، ابوعلقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریمﷺ نے اوطاس کی جانب لشکر روانہ فرمایا جو کہ طائف میں ایک جگہ کا نام ہے پھر دشمن سے مقابلہ ہوا اور انہوں نے ان کو مار ڈالا اور ہم لوگ مشرکین پر غالب آ گئے اور ہم کو باندیاں ہاتھ لگ گئیں اور ان کے شوہر مشرکین میں رہ گئے تھے (یعنی ان کی عورتیں ہاتھ لگ گئیں) اور مسلمانوں نے ان کے ساتھ ہمبستری کرنے سے پرہیز اختیار کیا پھر خداوند قدوس نے آیت کریمہ آخر تک نازل فرمائی یعنی وہ عورتیں تم پر حرام ہیں جو کہ دوسروں کے نکاح میں ہیں لیکن اس وقت حرام نہیں جس وقت تم مالک ہو تم ان کے پاس جاؤ اور اس حدیث میں جو تفسیر مذکور ہے اس سے بھی یہی مطلب نکلتا ہے اور وہ تفسیر یہ ہے یعنی یہ عورتیں تم کو حلال نہیں عدت گزرنے کے بعد اس لیے کہ جس وقت یہ خواتین جہاد میں گرفتار ہوئیں تو وہ باندیاں بن گئیں اگرچہ ان کے شوہر کافر زندہ ہوں لیکن عدت کے بعد مسلمان ان سے ہم بستری کر سکتے ہیں۔

سنن نسائی 3281

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهَکَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ

احمد بن منیع، ھشیم، عثمان، ابی خلیل، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جنگ اوطاس کے موقع پر کچھ ایسی عورتیں قید کیں جو شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر بھی اپنی اپنی قوم میں موجود تھے پس نبی کریمﷺ سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو یہ آیت نازل ہو (وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌) یہ حدیث حسن ہے۔ ثوری، عثمان بتی بھی ابوخلیل سے اور وہ ابوسعید سے اسی حدیث کی مثل بیان کرتے ہیں ابوخلیل کا نام صالح بن مریم ہے۔

جامع ترمذی 1051 ابواب تفسیر القرآن

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فِي قَوْمِهِنَّ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهَکَذَا رَوَی الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا ذَکَرَ أَبَا عَلْقَمَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مَا ذَکَرَ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ وَأَبُو الْخَلِيلِ اسْمُهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ

عبد بن حمید، حبان بن ہلال، ہمام بن یحیی، قتادة، ابوالخلیل، ابوعلقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس کے موقع پر ہم لوگوں نے مال غنیمت کے طور پر ایسی عورتیں پائیں جن کے شوہر مشرکین میں موجود تھے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے ان سے صحبت (جماع) کرنا مکروہ سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌

(ترجمہ: اور حرام ہیں خاوند والی عورتیں مگر یہ کہ وہ تمہاری ملکیت میں آ جائیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو تم پر فرض کر دیا ہے) یہ حدیث حسن ہے۔

جامع ترمذی 2942

تفسیر ابنِ کثیر میں حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ سورۃ النساء آیت 24 کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

یعنی خاوندوں والی عورتیں بھی حرام ہیں ہاں کفار کی عورتیں جو میدانِ جنگ میں قید ہو کر تمہارے قبضے میں آئیں تو ایک حیض گزارنے کے بعد وہ تم پر حلال ہیں، مسند احمد میں حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس میں قید ہو کر ایسی عورتیں آئیں جو خاوندوں والیاں تھی تو ہم نے نبی کریمﷺ سے ان کی بابت سوال کیا تب یہ آیت اتری۔ ہم پر ان سے ملنا حلال کیا گیا۔

ترمذی، ابن ماجہ اور صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، طبرانی کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے۔

صفحہ 16 از 18