متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 15 از 18

محمود، ابواسامہ، ہشام، اسماءؓ بنت ابوبکرؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے زبیرؓ نے جب شادی کی تو نہ انکے پاس مال تھا نہ زمین اور نہ لونڈی غلام تھے بجز پانی کھینچنے والے اونٹ اور گھوڑے کے کچھ نہ تھا، حضرت زبیرؓ کے گھوڑے کو میں چراتی تھیں، پانی پلاتی تھی، انکا ڈول سیتی تھی اور آٹا پیستی تھی البتہ روٹی پکانا مجھے نہیں آتا تھا میری روٹی انصاری پڑوسنیں پکا دیا کرتی تھیں وہ بڑی نیک عورتیں تھیں، حضرت زبیرؓ کی اس زمین سے جو آنحضرتﷺ نے انہیں دی تھی، میں اپنے سر پر چھوہاروں کی گٹھلیاں اٹھا کر لاتی، وہ مقام دو میل دور تھا ایک دن میں اپنے سر پر گٹھلیاں رکھے آ رہی تھی کہ مجھے آنحضرتﷺ ملے، آپﷺ کے ہمراہ چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے، آپﷺ نے مجھے پکارا پھر مجھے اپنے پیچھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو اخ اخ کہا، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے سے شرم آئی۔ حضرت زبیرؓ کی غیرت بھی مجھے یاد آئی کہ وہ بڑے غیرت والے ہیں، آپﷺ نے تاڑ لیا کہ اسماء کو شرم آتی ہے، چناچہ آپ چل پڑے، زبیر سے میں نے آ کر کہا کہ مجھے راستہ میں آپﷺ ملے تھے، میرے سر پر گٹھلیوں کا گٹھا تھا اور آپﷺ کے ہمراہ صحابہ کرامؓ تھے، آپ نے مجھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو ٹھہرایا، تو مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کو بھی میں جانتی ہوں، زبیر نے کہا اللہ کی قسم! مجھے تیرے سر پر گٹھلیاں لاتے ہوئے آپ کا دیکھنا آپ کے ساتھ سوار ہو جانے سے زیادہ برا معلوم ہوا اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک خادم بھیج دیا تاکہ وہ گھوڑے کی نگہبانی میں میرا کام دے۔ گویا انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔

(صحیح بخاری: 4823)

اور روایت کی تشریح میں چھپی بددیانتی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بقول مدعیان متعہ کے پورے دور نبیﷺ میں اور دور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما میں متعہ ہوتا رہا اور ایک ہی معزز خاتون کا نام سامنے آیا۔ وہ بھی حضورﷺ کے یار غار صدیقِ اکبرؓ کی بیٹی اور حضور نبی کریمﷺ کی زوجہ اور امت کی ماں حضرت عائشہؓ کی بہن کا۔ العیاذ باللہ۔

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَااسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا۞

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَی أَوْطَاسَ فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَکَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ أَيْ فَهُنَّ لَکُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

عبید اللہ بن عمر بن میسرہ قواریری، یزید بن زریع، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، صالح، ابی الخلیل، علقمہ ہاشمی، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حنین کے دن ایک لشکر کو اوطاس کی طرف بھیجا ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی اور ان کو قتل کیا اور ان پر صحابہ کرامؓ نے غلبہ حاصل کیا اور انہوں نے کافروں کو قیدی بنایا اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے بعض لوگوں نے ان سے صحبت کرنے کو اچھا نہ سمجھا اس لئے کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے تو اللہ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌) اور شوہر والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں مگر وہ جو قید ہو کر لونڈیوں کی طرح تمہارے قبضے میں آئیں۔ یعنی وہ تمہارے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہو جائے۔

صحیح مسلم 2643

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ

یحیی بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، قتادہ، ابی الخلیل، حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرامؓ کو اوطاس کی قیدی عورتیں ملیں جن کے خاوند تھے یعنی شادی شدہ تھیں۔ صحابہ کرامؓ نے خوف کیا تو یہ آیت مبارکہ نازل کی گئی (وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَامَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌) صحیح مسلم۔2644

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَی أَوْطَاسَ فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَکَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي ذَلِکَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ أَيْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

صفحہ 15 از 18