متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 14 از 18

شیعی عالم ڈاکٹر موسی الموسوی لکھتے ہیں: حضرت علی (ع) نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس حرمت کو برقرار رکھا اور جواز متعہ کا حکم صادر نہیں فرمایا۔ شیعی عرف اور ہمارے فقہاء شیعہ کی رائے کے مطابق امام کا عمل حجت ہوتا ہے خصوصاً جب کہ امام بااختیار ہو۔ اظہار رائے کی آزادی رکھتا ہو اور احکام الہٰی کے اوامر و نواہی بیان کر سکتا ہو اس صورت میں امام علی (ع) کی حرمت متعہ کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ عہد نبوی میں حرام تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ اس حکم تحریم کی مخالفت کرتے اور اس کے متعلق صحیح حکم الہٰی بیان کرتے اور عمل امام شیعہ پر حجت ہے میں نہیں سمجھ پایا کہ ہمارے فقہاء شیعہ کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ وہ اس کو دیوار پر مار دیتے ہیں۔ (اصلاح شیعہ: 112)

ایک روایت استبصار سے اس میں نہ فتح مکہ کا خبیر کا ذکر بھی نہیں مگر حرمت متعہ کا ذکر واضح ہے۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحرم الحمر الاھلیۃ ونکاح المتعۃ۔ (الاستبصار: جلد 3 صفحہ 142)

علی بن یقطین سے روایت ہے کہ میں موسیٰ کاظم علیہ اسلام سے(متعہ) کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا تم کو متعہ سے کیا سروکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو تم کو اس سے بے نیاز فرمایا ہے۔

( حرم رسول الله صلى الله عليه وآله يوم خيبر لحوم الحمر الأهلية ونكاح المتعة) انظر (التهذيب: جلد 2 صفحہ 186، الاستبصار: جلد 2 صفحہ 142)، (وسائل الشيعہ: جلد 14 صفحہ 441)

امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے خیبر کے روز گدھے کے گوشت اور متعہ النساء کی ممانعت کر دی تھی۔

عن عبد الله بن سنان قال سألت أبا عبد الله عليه السلام عن المتعة فقال: (لا تدنس نفسك بـها)

 (بحار الأنوار: جلد 31 صفحہ 100)

عبداللہ بن سنان بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے متعہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا مت گندہ کرو اپنے نفس کو اس سے۔ 

عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ نَحَرْنَا عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَکَلْنَاهُ۔

عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ ذَبَحْنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَکَلْنَاهُ۔

(صحیح بخاری: 5086، 5087)

شیخ الاسلام حافظ بن حجر عسقلانی رحمۃاللہ نے شرح بخاری میں "ذبحنا" والی روایت بھی نقل فرمائی ہے۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 53)

حضرت اسماءؓ سے روایت ہے ہم نے حضور اکرمﷺ کے دور میں گھوڑا ذبح کیا اور ہم اسے کھا گئے۔

تو کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ پورا گھوڑا حضرت اسماءؓ نے ذبح بھی کیا اور کھا بھی گئیں۔

مذکورہ بالا روایت میں نحرنا (ہم نے نحر کیا) اور ذبحنا (ہم نے ذبح کیا) کے الفاظ سامنے رکھیے۔ عورتوں کا اونٹ کو نحر کرنا اور جانوروں کو ذبح کرنا اس دور میں نہ تو معروف تھا اور نہ ایسا ہوتا تھا۔ مرد ہی جانوروں کو نحر اور ذبح کیا کرتے تھے۔ 

حضرت اسماءؓ اس حدیث میں ایک واقعہ کی حکایت نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں گھوڑوں کو نحر اور ذبح کیا جاتا تھا۔ آپ کا یہ مطلب نہیں کہ میں جانوروں کو نحر اور ذبح کیا کرتی تھی۔

اس اسلوب بیان سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ فعلناھا سے حضرت اسماءؓ کی مراد یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ایک وقت تک نکاح مؤقت ہوتا رہا ہے اور یہ ممنوع نہ تھا اور لوگ کیا کرتے تھے۔

اگر پھر بھی اعتراض قائم ہے تو مندرجہ ذیل روایت کہ وضاحت کیجیے۔

لقد کنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقتل اٰباءنا وبنائنا و اخواننا اوعمامنا (نہج البلاغہ: جلد ا صفحہ 120)

بے شک ہم حضورﷺ کے ساتھ اپنے باپوں بیٹیوں بھائیوں اور چچاؤں کو قتل کرتے تھے۔

(تقتل کا معنیٰ ہے ہم قتل کرتے تھے)۔

حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیقؓ اور متعہ کا الزام

تاریخ مسعودی اہل تشیع کی کتاب ہے اور بغض صحابہ سے بھری پڑی ہے۔ اس لئے یہ ہمارے لئے حجت نہیں۔

 مگر پھر بھی اگر مذکورہ روایت کو دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ شیعہ مجتہدین نے اس روایت میں خیانت کا ارتکاب کیا ہے یہ قصہ متعہ الحج کا نہ کہ متعہ النساء کا۔ جس جگہ مذکورہ عبارت درج ہے اس کے بلکل ساتھ یہ الفاظ موجود ہیں

یرید متعہ الحج:اسماء یعنی اس سے مراد متعہ الحج ہے

اور تو اپنے سکین کی تیسری لائن میں دیکھ لے متعہ الحج لکھا ہوا ہے

شیعہ مجتہد کا کہنا کہ حضرت عبدللہ بن زبیرؓ متعہ کی پیداوار تھے (ھٰذہ بہتان العظیم ) انتہائی غلط بیانی ہے۔ حضرت زبیرؓ اور اسماءؓ کا نکاح ایک ایسی کھلی حقیقت ہے کہ تقریباً تمام مؤرخوں اور تذکرہ نگاروں نے اسے ذکر کیا ہے خود تیرے مسودی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت زبیرؓ اور حضرت اسماءؓ کی باقاعدہ شادی ہوئی تھی اور اس وقت اسماءؓ کنواری تھیں۔

(شیعہ عالم المسعودی مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 82) پر اپنے ہی لوگوں کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

لان الزبیر تزوج اسماء بکر ا فی الاسلام و زوجہ ابوبکر معلنا فکیف تکون متعۃ النساء۔ (مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 82)

حضرت زبیرؓ نے حضرت اسماءؓ کے ساتھ باکرہ ہونے کی حالت میں اسلام کی شادی کی تھی اور حضرت ابوبکرؓ نے کھلے عام یہ شادی کرائی تھی۔ پس اس سے کیسے متعہ النساء ثابت ہو سکتا ہے۔

امام بخاریؒ صحیح بخاری میں حضرت زبیر اور اسماء رضی اللہ عنہما کی غیرت کے بارے میں حدیث درج کرتے ہیں:

صفحہ 14 از 18