متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 13 از 18

"نزل عن قولہ فی الصرف و قولہ فی المتعۃ"(احکام القرآن: جلد 6 صفحہ 147-179)"ابن عباس سے صرف اور متعہ سے رجوع کر لیا تھا۔''

 علامہ بدر الدین عینی المتوفی 855ھ نے “عمدۃ القاری“جز 17 صفحہ 246 پر اور علامہ ابن حجر عسقلانی المتوفی 852ھ نے “فتح الباری“ جلد 11 صفحہ 77 پر حضرت ابنِ عباس کا متعہ سے رجوع بیان فرمایا ہے اور اہلسنت کے تمام محقیقین نے اسی پر اعتماد کا اظہار فرمایا ہے، پھر کس قدر حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ جس بات سے حضرت ابن عباس رجوع فرما چکے ہیں اسے ان کا مسلک قرار دے کر اس کی بنیاد پر اپنے مسلک کی دیوار استوار کی جائے۔

حضرت علامہ ابو عمرو یوسف بن عبدالبر مالکی لکھتے ہیں:

اصحاب ابن عباس من اھل مکۃ والیمن علیٰ اباحتھاتم اتفق فقھاء الامصار علیٰ تحریمھا۔ 

مکہ اور یمن میں مقیم اصحاب ابنِ عباس پہلے اباحت متعہ کے قائل تھے پھر جب ان کو صریح حدیث مل گئی اور ابنِ عباس کا رجوع بھی معلوم ہوا تو تمام فقہاء کرام متعہ کی حرمت پر متفق ہو گئے۔ (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 2)

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:

 وقہ نقل ابو عوانہ فی صحیحہ عن ابن جریج انہ رجع عنھا۔

 حضرام امام ابو عوانہ نے اپنی صحیح میں اس بات کو نقل کیا ہے کہ حضرت ابن جریج نے (اپنے اباحت والے قول سے ) رجوع کر لیا تھا۔

رقہ اعترف ابن حزم مع ذٰلک بتحریمھا لثبرت قولہ علیہ السلام انھا حرام الیٰ یوم القیامۃ۔

علامہ ابن حزم نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ متعہ حرام ہے کیونکہ حضرت محمدﷺ سے ثابت ہے کہ متعہ اب قیامت تک حرام ہے۔

 (فتح الباری: جلد 9 صفحہ 209)

علامہ ابن جریر طبری مختلف اقوال درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

واولی التاویلین فی ذٰلک بالصواب تاویل من تاولہ فما نکحتموا منھن فجا معتموھن فاتوھن اجورھن لقیام الحجۃ بتحریم اللہ تعالیٰ متعۃ النساء علیٰ غیر زوجہ النکاح الصحیح او الملک علیٰ لسان رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

دونوں تفسیروں میں سے اولیٰ اور بہتر تفسیر یہ ہے کہ جن عورتوں سے تم نکاح کرو پھر ان سے مجامعت کرو تو ان کو ان کے مہر ادا کر دو کیونکہ نکاح صحیح اور مملوکہ باندی کے سوا متعۃ النساء کا حرام ہونا آنحضرتﷺ کی زبان مبارکہ سے ثابت ہو چکا ہے اور اس پر حجت قائم ہو چکی۔ 

عن زید بن علی عن آباء علیھم السلام قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحوم الحمر الاھلیۃ و نکاح المتعۃ۔ (الا ستبصار: جلد 3 صفحہ 201)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے پالتو گدھوں کو اور متعہ کو حرام فرما دیا ہے۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے پالتو گدھوں کو اور متعہ کو حرام فرما دیا ہے۔

"استبصار" کے علاوہ امامیہ کی دوسری کتب صحاح میں بھی حرمت متعہ کی روایات موجود ہیں۔ شیعہ حضرات ان کے جواب میں بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے ایسی روایت تقیۃً بیان فرمائی ہیں اور جان کے خوف سے تقیۃً بیان فرمائی ہیں اور جان کے خوف سے تقیۃً جھوٹ بولنا عین دین ہے۔ کیونکہ "کافی کلینی" میں ہے: "من لا تقیۃ لہ لا دین لہ" جو ضرورت کے وقت تقیہ نہ کرے وہ بے دین ہے۔

سوال یہ ہے کہ حضرت سیدنا حسینؓ نے جب یزید کے خلاف آواز حق بلند کیا اور ہزار ہا مخالفوں کے سامنے تلواروں کے جھنکار اور تیر و تفنگ کی بوچھاڑ میں بیعت یزید سے انکار کیا تو کیا اس وقت امام حسین(ع) تعک تقیہ کی وجہ سے (معاذ اللہ) بے دین ہوگئے تھے؟ اور اگر ایسے شدید ابتلاء میں بھی تقیہ نہ کرنا ہی حق و صواب تھا تو حضرت علی کا بغیر کسی ابتلاء کے بے حساب روایات تقیۃً بیان کرنا کس طح حق و ثواب ہوگا؟ کاش! امامیہ حضرات میں سے کوئی شخص اس نکتہ کو حل کر کے لاکھوں انسانوں کی ذہنی خلش کو دور کر سکے۔

(تہذیب الاحکام: جلد 2 صفحہ 182 مطبوعہ) 

ایران میں روایت کو مانا گیا ہے اور تقیہ کہا گیا۔ 

ان هذا الرواية وردت موردة التقية

 یہ روایت یقیناً تقیہ کے طور پر وارد ہوئی ہے۔

وسائل الشیعہ: جلد 5 صفحہ 438 میں درج ہے۔

اباحۃ المتعۃ من ضروریات مذہب الامامیۃ۔ شیخ محمد بن حسن۔

شیخ الطائفہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ روایت تقیہ ہے۔

فالوجہ فی ہذا الروایۃ ان علی التقیۃ لانہا موافقۃ لذاھب العامۃ و الاخبار الادلۃ موافقۃ لظاھر الکتاب و اجماع الفرقۃ علی موجھا فیحب ان یکون العمل بھادون ھذہ الروایۃ الشاذۃ۔

شیخ محمد بن حسن الحر العاملی کہتا ہے۔ اقول حملہ الشیخ وغیرہ علي التقية يعني في الرواية لان اباحة المتعة من ضروريات مذهب الامامية۔

یعنی جن روایات میں حضرت علی سے متعہ کی ممانعت آتی ہے اس کو ہم تقیہ پر محمول کرتے رہیں گے۔ کیونکہ شیعہ امامیہ کی دوسری مستند روایات سے متعہ کا حلال ہونا واضح ہے اور متعہ کی اباحت مذہب امامیہ کی ضروریات دین میں سے ہے۔ اس لیے ممنوع والی روایتوں سے استدلال کرنا صحیح نہیں بلکہ عمل اسی پر ہوگا جن پر شیعوں کا اجماع ہے۔ 

(وسائل الشیعہ: جلد: 7 صفحہ 441 مطبوعہ تہران)

حضرت علامہ ابو جعفر احمد بن محمد نحوی مصری لکھتے ہیں:

ان ابن عباس لما خاطبه علي بهذا لم يحاجه فصار تحريم المتعۃ اجماھا لان الذین یحلونھا اعتمادھم علی ابن عباس۔

حضرت علیؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے بات چیت کی تو حضرت ابن عباسؓ نے حضرت علیؓ سے کوئی حجت نہ کی پس اس کے ذریعہ متعہ کی حرمت پر اجماع ہو گیا اس لیے کہ جو لوگ متعہ کی اباحت کے قائل تھے ان کا سارا دارومدار ابن عباس کے قول پر تھا۔

 (تفسیر نحاس: صفحہ 106)

قاضی عبدالجبار متعزلی لکھتے ہیں: وانکر ذالک علی رضی اللہ عنہ لما بلغہ اباحۃ ابن عباس انکار ظاہر اوقد عنہ رضی اللہ عنہ الرجوع عن ذالک فصار اجماعا من کل صحابۃ۔

جب حضرت علیؓ کو حضرت ابن عباسؓ کے متعہ کے مباح ہونے کے قول کی خبر پہنچی تو آپ نے حضرت ابن عباسؓ پر سخت انکار کیا اور مروی ہے کہ ابن عباسؓ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔پس حرمت متعہ پر تمام صحابہ کرامؓ کا اجماع ہو گیا۔ (تفسیر تنزیہ القرآن: صفحہ 84)

اور اب ایک شعیہ عالم کی رائے:

صفحہ 13 از 18