متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 12 از 18

ابن جریر طبری اس روایت کی سند بیان کرتے ہیں:

حدثنا محمد بن الحسین قال حدثنا احمد بن المفضل قال ثنا اسباط عن السدی فما استمتعتم بہ منھم الی اجل مسمی فاتو ھن اجورھن۔

(تفسیر طبری: جلد 5 صفحہ 12)

اس سند کا ایک راوی احمد بن مفضل ہے، ازدی نے کہا: یہ منکرالحدیث ہے اور ابو حاتم نے بیان کیا کہ یہ رؤسا شیعہ میں سے تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ 96) 

اس سند کا تیسرا آدمی اسباط ہے، امام نسائی نے کہا: یہ قوی نہ تھا۔ ابن معین نے کہا۔"لیس بشیء" یہ کچھ بھی نہیں۔ ابو نعیم نے کہا: بہت ضعیف تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 81) 

اس سند کا چوتھا راوی اسماعیل بن عبدالرحمٰن السدی ہے، جو زجانی نے کہا: یہ کذاب تھا، صحابہ کرامؓ کو سب و شتم کرتا تھا۔ حسین واقدی نے کہا: میں سماع حدیث کے لیے اس کے پاس آیا، جب دیکھا کہ یہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو برا بھلا کہتا ہے تو میں چلا آیا اور پھر کبھی اُس کے پاس نہیں گیا۔

 ان ابی سلین نے کہا کہ یہ شیخین کی شان میں بدگوئی کرتا تھا۔

طبری نے کہا: اس کی روایات لائق استدلال نہیں ہیں۔(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 317)

اس روایت کی دوسری سند ملاحظہ ہو۔

حدثنا ابو کریب قال حدثنا یحیی بن عیسی قال حدثنا نصیر بن ابی الاشعث قال حدثنی حبیب بن ابی ثابت قال اعطانی ابن عباس مصحفا فقال ھذا علی قراۃ ابی قال ابو بکر قال یحیی فرایت المصحف عند نصیر فیہ فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی۔ (تفسیر طبری: جلد 5 صفحہ 263)

اس سند میں ایک راوی ہے یحییٰ بن عیسٰی، نسائی نے کہا: یہ قوی نہ تھا۔

(میزان الاعتدال: جلد 4 صفحہ 401-402) 

سلمہ نے کہا: اس میں ضعف تھا۔

ابن معین نے کہا: "لیس بشیء" یہ کچھ نہ تھا۔ عجلی نے کہا: اس میں تشیع تھا۔ (تہذیب التہذیب: جلد 11 صفحہ 263)

ان دونوں سندوں میں رافضی منکرالحدیث اور کذاب راوی موجود ہیں۔ پس ایسے لوگوں کی بنیاد پر کوئی روایت کس طرح قابل قبول ہوسکتی ہے، ان دونوں سندوں کے بعد ایک اور سند پیش خدمت ہے:

حدثنا ابن المثنی قال ثنی عبدالاعلی قال ثنی داؤد عن ابی نضر ۃ قال سالت ابن عباس عن المتعہ فذکر نحوہ۔ (طبری: جز 5 صفحہ 12)

اس سند میں ایک راوی ہے عبدالاعلیٰ، ابن سعد نے کہا: یہ قوی نہ تھا۔ 

ابن حبان اور امام محمد نے کہا: یہ قدریہ عقائد کا حامل تھا۔(تہذیب التہذیب: جلد 6 صفحہ96) 

اس سند کا ایک راوی ہے داؤد ابن ابی ہند، اس کے بارے میں تصریح ہے کہ اس کی روایات میں اضطراب تھا اور یہ کثیر الخلاف تھا۔

(تہذیب التہذیب: جلد 3 صفحہ 205)

 ان حوالوں سے ظاہر ہو گیا کہ اس روایت کے طرق میں بکثرت رافضی قدری جیسے بدعقیدہ اور کذاب، منکرالحدیث، کثیرالخلاف اور ضعیف راوی موجود ہیں۔ لہٰذا یہ روایت قطعاً باطل اور جعلی ہے۔

رابعاً ابن عباس اس آیت کو کس طرح پڑھتے تھے اور استمتاع سے ان کی مراد متعہ تھی یا نکاح، اس بارے میں ابن جریر نے جو روایت صحیح سند کے ساتھ ذکر کی ہے وہ یہ ہے:

حدثنی المثنی قال ثنا عبد اللہ بن صالح قال ثنی معاویۃ بن صالح بن ابی طلحۃ عن ابن عباس قولہ فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضۃ یقول اذا تزوج الرجل المرأۃ ثم نکحھا مرۃ واحدۃ وجب صداقھا کلہ والا ستمتاع ھو النکاح۔

(تفسیر طبری: جز 5 صفحہ 11)

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے"فما استمتعم بہ منھن فاتوھن اجورھن"پڑھا (بغیر"الی اجل مسمی"کے) اور اس کی تفسیر میں فرمایا: جب شادی کے بعد کوئی شخص ایک بار بھی عمل زوجیت کرے تو اس پر پورا مہر واجب ہو جاتا ہے اور فرمایا: اسمتاع سے مراد نکاح ہے۔

اگر "فما استمتعتم" کے بعد "الی اجل مسمی" پڑھا جائے تو استمتاع سے مراد نکاح کسی صورت میں نہیں ہو سکتا۔ متعہ ہی مراد لینا پڑے گا اور جب ابن عباس نے فرمایا: استمتاع سے مراد نکاح ہے اور بغیر "الی اجل مسمی" اس آیت کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ "الی اجل مسمی" پڑھنے کی نسبت اس کی طرف کرنا سراسر افتراء ہے اور یہ روایت صحیح السند ہے اور مصاحف مسلمین کے مطابق ہے۔ اسے چھوڑ کر رافضیوں اور قدریوں کی روایت کو لینا جو مصاحف مسلمین کے مخالف اور نظم قرآن سے متصادم ہے، صریح ہٹ دھرمی کے سوا اور کیا ہے۔ امامیہ حضرات کہتے ہیں کہ ابن عباس جواز متعہ کا فتویٰ دیتے تھے اور چونکہ اہل سنت کے نزدیک حضرت ابن عباس کی شخصیت واجب التسلیم ہے اس لیے اس پر لازم ہے کہ ان کے فتویٰ کا احترام کریں۔

ہماری گزارش یہ ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے مطلقاً جواز کا فتویٰ نہیں دیا، وہ متعہ کو مردار اور خنزیر کی طرح حرام سمجھتے تھے اور جس حالت اضطرار میں مردار اور خنزیر کھانا جائز ہے اسی طرح ان کے نزدیک حالت اضطرار میں متعہ کرنا بھی جائز تھا۔

 چنانچہ علامہ نیشا پوری المتوفی 728ھ فرماتے ہیں:

ان الناس لما ذکروا الاشعار فی فتیا ابن عباس فی المتعۃ قال قاتلھم اللہ الی ما افتیت با باحتھا علی الاطلاق لکنی قلت انھا تحل للمضطر کما تحل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر۔

"جب لوگوں نے ابن عباس کے فتویٰ کی وجہ سے ان کی ہجو میں اشعار کہے تو انہوں نے کہا: خدا ان کو ہلاک کرے، میں نے علی الاطلاق متعہ کی اباحت کا فتویٰ نہیں دیا، بلکہ میں نے کہا تھا کہ متعہ مضطر کے لیے حلال ہے جیسے مُردار، خنزیر اور خون کا حکم ہے۔

اس روایت کو ابوبکر رازی الجصاص نے "احکام القرآن" جلد 2 صفحہ 147 پر اور ابن ہمام المتوفی 861ھ نے "فتح القدیر" جلد 2 صفحہ 386 اور علامی آلوسی المتوفی 1270ھ نے "روح المعانی" جز 5 صفحہ 6 پر ذکر کیا ہے۔

حضرت ابن عباس کا مضطر کے لیے اباحت متعہ کا فتویٰ دینا بھی ان کی اجتہادی خطاء پر مبنی تھا اور جب ان پر حق واضح ہو گیا تو انہوں نے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی۔

چنانچہ علامہ نیشاپوری لکھتے ہیں:

انہ رجع عن ذالک عند موتہ وقال انی اتوب الیک فی الصرف والمتعۃ (غرآئب القرآن: جز 5 صفحہ 16)

"ابن عباس نے اپنے مرنے سے پہلے اپنے فتویٰ سے رجوع کیا اور کہا: میں صرف اور متعہ سے رجوع کرتا ہوں۔

"فالصحح حکایت من حکی عنہ الرجوع عنھا" "صحیح روایت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے جواز متعہ سے رجوع کرلیا تھا"۔

نیز فرماتے ہیں:

صفحہ 12 از 18