متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 11 از 18

اس کا رد یہ ہے کہ: رافضی و شیعہ اپنی خواہشات پر چلتے ہیں اور ان میں اتباع ھواء ہے ، وہ تو سب صحابہ کرامؓ کو (نعوذ باللہ) کافر قرار دیتے ہیں، اور پھر آپ دیکھیں کہ ان کے افعال سے استدلال بھی کرتے ہیں جیسا کہ یہاں اور اس کے علاوہ بھی کئی ایک مواقع پر کیا ہے۔

اور جن سے متعہ کے جواز کا قول ملتا ہے انہیں تحریم متعہ کی نص نہیں پہنچی اس لیے انہوں نے جواز کا قول کہا، ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اباحت معتہ کے قول پر صحابہ کرامؓ نے تو رد بھی کیا ہے (جن میں علی بن ابی طالب، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) شامل ہیں۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباسؓ کے بارے میں سنا کہ وہ عورتوں سے متعہ کے بارہ میں نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو حضرت علیؓ کہنے لگے:

اے ابن عباس ذرا ٹھہرو! بلاشبہ نبی اکرمﷺ نے خیبر کے دن اس سے اور گھریلو گدھوں سے روک دیا تھا۔

(صحیح مسلم حدیث نمبر (1407)

حلّتِ متعہ پر امامیہ کے استدلال کا جواب: حضرات امامیہ نے جوازِ متعہ پر قرآن کی حسب ذیل آیت سے استدلال کیا ہے۔ 

جن بیویوں سے تم نے عمل زوجیت کر لیا ہے انہیں ان کا پورا مہر ادا کرو۔

امامیہ حضرات کہتے ہیں: اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن عورتوں سے تم نے متعہ کر لیا ہے ان کو اس کی اجرت ادا کرو اور یہ استدلال متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ اوّلاً اس لیے کہ متعہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں مدت متعین ہو اور اس آیت میں تعین مدت کا اصلاً ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا "استمتعتم" کا معنیٰ متعہ کرنا صحیح نہیں ہے۔اصل میں یہ لفظ "استمتاع" سے ماخوذ ہے جس کا معنیٰ ہے نفع حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا اور آیت کا صاف اور صریح مطلب یہی ہے کہ جن بیویوں سے تم عمل زوجیت کر کے جسمانی نفع حاصل کر لیا ہے، انہیں ان کا پورا مہر ادا کرو، ثانیاً اس آیت میں سے پہلے اور بعد کی آیات میں نکاح کا بیان اور اس کے احکام ذکر کیے گئے ہیں۔ اب درمیان میں اس آیت کو متعہ پر محمول کرنے سے نظم قرآن کا اختلال اور آیات کا غیر مربوط ہونا لازم آئے گا۔

ثالثاً اس آیت سے متصل پہلی آیت میں فرمایا:

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ 

(سورۃ النساء آیت 24)

یعنی محرمات کے سوا باقی عورتیں تمھارے نکاح کے لیے حلال کردی گئی ہیں، تم مہر دے کر اس سے فائدہ اٹھاؤ بشرطیکہ تم انہیں حصن بناؤ اور سفاح نہ کرو۔

حصن کا معنیٰ ہے: قلعہ، یعنی عورت سے نفع اندوزی تب حلال ہے جب وہ تمہارے نطفہ کی حفاظت کے لیے قلعہ بن جائے اور متعہ سے عورت قلعہ نہیں بنتی، ہر ہفتہ دوسرے کے پہلو میں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے متعہ سے نسب محفوظ نہیں رہتا، اب اگر "فمااستمتعتم" کا معنٰی متعہ کرلیا جائے تو قرآن کریم کی دو متصل آیتوں میں کھلا تصادم لازم آئے گا کہ پہلی آیت سے متعہ حرام ہوا اور دوسری آیت سے حلال اور قرآن کریم اس تضاد کا متحمل نہیں ہے۔ 

رابعاً سفاح کا معنیٰ ہے: محض قضاء شہوت اور نطفہ گرا دینا اور مطلب یہ ہے کہ عورت سے نفع اندوزی حلال ہے، بشرطیکہ تمہارا مقصد محض قضاء شہوت اور جنسی تسکین نہ ہو بلکہ اولاد کو طلب کرنا مقصود ہو اور ظاہر ہے کہ متعہ سوائے قضاء شہوت اور جنسی تسکین کے اور کچھ مقصود نہیں ہوتا۔ پس متعہ جائز نہ رہا اور جب اس آیت سے متعہ حرام ہوا تو اس سے اگلی آیت میں حلّت متعہ کا معنیٰ کرنا باطل ہوگا۔ امامیہ حضرات کہتے ہیں کہ بعض روایات میں مذکور ہے کہ بعض قرأت میں "فما استمتعتم بہ منھن" کے بعد"الی اجل مسمی" بھی پڑھا گیا ہے، اب معنیٰ یوں ہوگا: جن عورتوں سے تم نے مدت معینہ تک فائدہ اٹھایا ان کو اُجرت دے دو یہ بعینہ متعہ ہے کیونکہ اب آیت میں مدت اور اُجرت دونوں کا ذکر آ گیا اور یہی متعہ کے ارکان ہیں۔

 یہ ٹھیک ہے کہ یہ روایت خبر واحد ہے اور اس روایت سے یہ الفاظ قرآن کا جزو نہیں بن سکتا۔ لیکن متعہ ثابت کرنے کے لیے اس قدر کافی ہے کہ بعض قرأت میں "الی اجل مسمی" کے الفاظ موجود ہیں۔

اس استدلال کے جواب میں اوّلاً معروض ہے کہ "الی اجل مسمی" سے استدلال تب ہوگا جب اسے "فما استمتعتم بہ" کے ساتھ لاحق کر کے قرآن کا جُزو مانا جائے اور شیعہ حضرات کو بھی یہ تسلیم ہے کہ بغیر تواتر کے محض خبر واحد سے کوئی لفظ قرآن کا جزو نہیں بن سکتا۔ لہٰذا اس قرأت سے جوازِ متعہ پر استدلال صحیح نہ رہا۔

ثانیاً تفاسیر میں جہاں اس روایت کو ذکر کیا ہے وہیں تصریح کر دی ہے کہ یہ روایت معتمد نہیں ہے اور قرآن کریم میں اس کی تلاوت کرنا اور اس سے کوئی حکم ثابت کرنا جائز نہیں ہے، چنانچہ ابوبکر رازی الجصاص المتوفی 370ھ فرماتے ہیں۔

فانہ لا یجوز اثبات الاجل فی تلاوتہ عند احد من المسلمین فالا جل اذا غیر ثابت فی القران۔

(احکام القرآن: جلد 2 صفحہ 14)

"تلاوت میں اجل پڑھنا کسی مسلمان کے نزدیک جائز نہیں ہے اور یہ لفظ قرآن میں ثابت نہیں ہے۔"

اور ابن جریر طبری المتوفی 310ھ فرماتے ہیں:

واما ماروی عن ابی بن کعب وابن عباس من قرأتھما فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی فقرا بخلاف ما جاء ت بہ صحائف وغیر جائز لاحد ان یلحق فی کتاب اللہ تعالی شیئا لم یات بہ الخیر القاطع (تفسیر طبری: جز 3 صفحہ 13)

"ابی بن کعب اور ابن عباس کی ایک قرأت میں جز "الی اجل مسمی" کے الفاظ مروی ہیں وہ تمام مصاحف المسلمین کے خلاف ہیں اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کتاب اللہ میں بغیر خبر متواتر کے کسی چیز کا اضافہ کرے۔"

ثالثاً صرف کسی روایت کا موجود ہونا اس کی ثقاہت کے لیے کافی نہیں۔

روایات تو صحیح سے لے کر موضوع تک ہر قسم کی موجود ہیں۔ کیونکہ رافضی، قدری، جہمی ہر طرح کے بدعقیدہ لوگوں نے اپنے اپنے مذہب کے موافق روایات وضع کر کے شائع کر دی تھیں۔ یہ محدثین کرام کا ملت اسلامیہ پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے علم اسماء رجال ایجاد کر کے ہر حدیث کی صحت اور وضع پرکھنے کا ذریعہ مہیا کردیا۔

جس روایت کے سہارے امامیہ حضرات نے"الی اجل مسمی" کی قرأت کو تسلیم کیا ہے، ہم آپ کے سامنے اس روایت کے طرق اور اسانید کا حال بیان کر دیتے ہیں، جس سے روایت کی حقیقت سامنے آجائے گی۔

صفحہ 11 از 18