متعہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ کی حقیقت

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 10 از 18

اسکے مقابلے میں ایک ایک قول علی ابن ابی طالبؓ سے منسوب کیا گیا ہے جس میں دونوں گدھے اور متعہ کی حرمت بیان کی گئی ہے (مگر متعہ کے کسی واقعہ کی ایک بھی تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے۔

یہ تو اب تک کے اعتراضات میں سب سے بھونڈا اعتراض ہے۔ علت کے بارے میں اختلاف رائے تو متفق علیہ روایتوں میں بھی ہوتا ہے، اس کیلئے اہل تشیع کی کتاب علل الشرائع ہی دیکھ لیں تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ اور پھر یہ اعتراض کہ باقی صحابہؓ نے متعہ کی حرمت کی بات نہیں کی، صرف حضرت علیؓ نے کی ہے، یہ اعتراض کوئی ناصبی کرتا تو بات سمجھ میں آتی، اہل تشیع کی طرف سے یہ اعتراض آرہا ہے، جو کہ مقام تعجب ہے۔

جھوٹ بولنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس احمق نے غزوہ خیبر پر متعہ کو حرام قرار دینے والی روایت گھڑی ہے، اُس کے جھوٹ کا پول کھول دینے کا پورا انتظام اللہ تعالیٰ نے کر رکھا ہے اور وہ یہ کہ سن 7 ہجری میں غزوہ خیبر تک اہل کتاب کے ساتھ نکاح یا کسی بھی قسم کے عقد کی اجازت ہی نہ تھی۔

علامہ ابن قیم اپنی کتاب زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 183 میں اس جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

وأيضا: فإن خيبر لم يكن فيها مسلمات وإنما كن يهوديات وإباحة نساء أهل الكتاب لم تكن ثبتت بعد إنما أبحن بعد ذلك في سورة المائدة بقوله۔

ترجمہ: غزوہ خیبر میں صحابہ کرامؓ کے ساتھ کوئی مسلمان عورت نہیں گئی تھی، اور خیبر میں صرف یہودی عورتیں تھیں اور اُس وقت تک اہل کتاب کی عورتوں سے عقد کرنے کی اجازت نازل ہی نہ ہوئی تھی۔ اور اہل کتاب کی عورتوں سے عقد کی اجازت غزوہ خیبر کے بعد سورۃ المائدہ میں نازل ہوئی۔"

یہ اعتراض بھی شیعہ کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں۔ کیونکہ نکاح دائمی اگر اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ جائز نہیں تھا، تو اس سے متعہ جو کہ نکاح غیر دائمی ہوتا ہے، اس کے جائز یا ناجائز ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اہل تشیع کے مطابق اہل کتاب کی عورتوں سے متعہ کرنا اب بھی جائز ہے۔

سوال: حلالہ اور متعہ میں کیا فرق ہے، اگر دونوں میں کچھ وقت کے لیے رشتہ ازدواج مقصود ہو اور اس رشتہ کے بعد میاں اور بیوی ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں؟ از راہ مہربانی جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب: متعہ خاص مدت کے لیے تمتع حاصل کرنے کا معاملہ کیا جائے جو کہ ناجائز و حرام ہے اور حلالہ میں نکاح کے وقت کی تعیین نہیں ہوتی بلکہ نکاح کی دوامی خصوصیت موجود رہتی ہے، کوئی جملہ اس کے منافی نہیں صادر کیا جاتا ہے جب کہ متعہ میں نکاح کی دوامی کیفیت کے خلاف مدت کی تعیین کی جاتی ہے کہ ہم مثلاً ایک ہفتہ ایک ماہ کے لیے تم سے نکاح کر دیتے ہیں۔

حدیث سے متعہ کی تنسیخ کے حکم کا ثبوت: ابتدائے اسلام میں حلال اور حرام کے بہت سے احکام رفتہ رفتہ نازل ہوئے، شراب اور سود کی حرمت کا حکم نبوت اور بعثت کے تقریباً 15-20 سال کے بعد نازل ہوا۔ اسی طرح متعہ کے بارے میں حکم خداوندی نازل ہونے سے پہلے جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق لوگ متعہ کیا کرتے تھے، اب تک اس بارے میں کوئی صریح اور واضح حکم نازل نہ ہوا تھا۔ سب سے پہلے خیبر کی لڑائی میں رسول اللہﷺ نے اس کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ جیسا کہ بخاری و مسلم میں حضرت علیؓ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔ پھر آپ نے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے دونوں بازو پکڑ کر فرمایا متعہ قیامت تک کے لیے ہمیشہ کے واسطے حرام کیا گیا۔ پھر غزوۂ تبوک میں اس کا اعادہ فرمایا۔ پھر حجۃ الوداع میں حرمت متعہ کا اعلان عام فرمایا تاکہ خواص اور عوام سب ہی کو اس کی حرمت کا علم ہو جائے۔

تفصیل کے لیے احکام القرآن للجصاص: جلد 2 صفحہ 148، اور تفسیر مظہری کا مطالعہ کریں، نیز علامہ امام حازمی کی کتاب الاعتبار: صفحہ 187 کی طرف مراجعت کریں۔

رافضی شیعہ نے متعہ کی اباحت پر ایسے دلائل سے استدلال کیا ہے جن میں سے کوئی دلیل بھی صحیح نہیں:

ا: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

 اس لیے جن سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو۔ سورۃ النساء آیت 24)

ان کا کہنا ہے کہ:

اس آیت میں متعہ کے مباح ہونے کی دلیل ہے، اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (ان کے مہر) کو اللہ تعالیٰ کے فرمان (استمتعتم) سے متعہ مراد لینے کا قرینہ بنایا ہے کہ یہاں سے مراد متعہ ہے۔

رافضيوں پر رد: اس کا رد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے قبل آيت میں یہ ذکر کیا ہے کہ مرد پر کونسی عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے اور اس آیت میں مرد کے نکاح کے لیے حلال عورتوں کا ذکر کیا اور شادی شدہ عورت کو اس کا مہر دینے کا حکم دیا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے شادی کی لذت کو یہاں پر استمتاع سے تعبیر کیا ہے، اور حدیث شریف میں بھی اسی طرح وارد ہے:

ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:

( عورت پسلی کی مانند ہے اگر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو توڑ بیٹھو گے، اور اگر اس سے فائدہ لینے کی کوشش کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے، اور اس میں کچھ ٹیڑھا پن ہے) 

صحیح بخاری: حدیث نمبر (4889) صحیح مسلم حدیث نمبر (1468)

اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہر کو اُجرت سے تعبیر کیا ہے یہاں سے وہ مال مراد نہيں جو متعہ کرنے والا متعہ کی جانے والی عورت کو عقد متعہ میں دیتا ہے، کتاب اللہ میں ایک اور جگہ پر بھی مہر کو اُجرت کہا گيا ہے:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: اے نبی (ﷺ) ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کردی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے سورۃ الاحزاب آیت 50 ) 

تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ کے الفاظ بولے ہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ شیعہ جس آیت سے متعہ کا استدلال کر رہے ہیں اس میں متعہ کی اباحت کی نہ تو کوئی دلیل ہی ہے اورنہ ہی کوئی قرینہ ہی پایا جاتا ہے۔

اور اگر بالفرض ہم یہ کہیں کہ آیت اباحت متعہ پر دلالت کرتی ہے تو ہم یہ کہيں گےکہ یہ آیت منسوخ ہے جس کا ثبوت سنت صحیحہ میں موجود ہے کہ قیامت تک کے لیے متعہ حرام کردیا گيا ہے۔

ب: ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ بعض صحابہ کرامؓ سے اس کے جائز ہونے کی روایت ملتی ہے اور خاص کر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔

صفحہ 10 از 18