شیعوں کے نزدیک متعہ کی اہمیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے نزدیک متعہ کی اہمیت

  محمد راشد حنفی

صفحہ 2 از 3

حضورﷺ نے فرمایا جو آدمی ايک مرتبہ متعہ (زنا) کرے اس کو حضرت امام حسین (ع) کا درجہ اور جو دو مرتبہ متعہ کرے اس کا حضرت حسن (ع) کا درجہ اور جو تین مرتبہ متعہ کرے اس کو حضرت علی(ع) کا درجہ اور چار مرتبہ متعہ (زنا) کرے اس کو میں محمد (ﷺ) کا درجہ ملے گا۔ استغفراللہ 

بقول شیعہ متعہ (زنا) کے غسل سے ستر ہزار فرشتے پیدا ہوتے ہیں، جو قیامت تک دعا کرتے ہیں

(برہان المتعہ: صفحہ 50۔ وسائل الشیعہ: جلد 14 صفحہ 442)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص متعہ (زنا) کرے اور پھر غسل کرے تو اللہ تعالیٰ پانی کے ہر قطرہ کے بدلے جو اس کے بدن سے گرتا ہے ايک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک اس کے ليے استغفار کرتا ہے۔

آگے يہ بھی ہے

اور متعہ (زنا) نہ کرنے والوں پر قیامت تک خدا کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔

بقول شیعہ متعہ (زنا) کرانے والی عورتوں کو خدا پاک نے بخش دیا۔

(من لایحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 295۔ برہان المتعہ: صفحہ 47۔ وسائل الشیعہ: جلد 14 صفحہ 442۔ کتاب النکاح)

جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جب میں معراج کی رات آسمان کی طرف جا رہا تھا تو مجھے جبرئیل علیہ السلام ملے اور کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تیری امت کی متعہ (زنا) کرنے والی عورتوں کو بخش دیا ہے۔

بقول متعہ (زنا) کرتے وقت ہر فعل کے بدل کا بےحساب انعام حاصل ہوتے ہیں۔

(تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 493۔ خلاصة المنہج: صفحہ 292۔ عجالہ حسنہ: صفحہ 15)

اور جب متعہ (زنا) کرنے والا مرد اور عورت دونوں متعہ (زنا) کے ليے بیٹھے ہیں تو خدا کی طرف سے ايک فرشتہ ان کی حفاظت کے لئے نازل ہوتا ہے جو متعہ کی مجلس ختم ہونے تک ان کی حفاظت کرتا ہے۔ متعہ (زنا) کے وقت جب دونوں زبان سے کلمہ نکالیں گے ان کے لئے تسبیح اور ذکر بن جائے گا۔ اور جب ايک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں گے ہر گناہ ان کی انگلیوں سے گر جائے گا۔

اور جب ايک دوسرے کو بوسہ دیں گے تو ہر بوسے کے بدلے حج اور عمرہ کو ثواب ملے گا۔

اور جب متعہ (زنا) کرنے کے لئے الگ ہوں گے ہر لذت اور شہوت پر ان کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی ايک نیکی بلند پہاڑ کے برابر ہو گی۔ اس کے بعد فرمایا کہ جبرئیل نے مجھے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب متعہ (زنا) کرنے والا مرد اور عورت متعہ سے فارغ ہو کر غسل میں مشغول ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں ان کا پروردگار ہوں اور يہ متعہ بہترین طریقہ ہے ميرے پیغمبر کا۔ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! میرے ان دو بندوں کو ديکھو جو کہ متعہ سے فارغ ہو کر غسل میں مشغول ہو گئے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ میں ان کا رب ہوں تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے جان لو کہ ان کے بدن پر غسل کا پانی ان کے جس بال سے گزر ے گا تو اللہ تعالیٰ ہر بال کے بدلے میں ان کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دے گا اور دس گناہ معاف کر دے گا اور دس درجے بلند کر دے گا۔

حضرت علی(ع) يہ تقریر سن کر کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ میں تصدیق کرتا ہوں جو کچھ آپ نے کہا۔

اس شخص کے لئے اجر ہے جو متعہ (زنا) کو رواج دينے میں کوشش کرتا ہے۔ فرمایا اس کو متعہ کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔

پھر حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کا اجر کیا ہے آپ نے فرمایا وہ غسل میں مشغول ہوتے ہیں اور جو پانی کا قطرہ ان کے بدن سے زمین پر گرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر قطرہ کے بدلے ايک فرشتہ پیدا کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کا ثواب متعہ (زنا) کرنے والے کے لئے جمع ہوتا رہتا ہے۔ اے علی! جو آدمی متعہ (زنا) کو ہلکا جانے اور اس کے کرنے سے کترائے وہ میرے شیعہ سے نہیں ہے اور میں اس سے بری ہوں۔

(اور تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 489پر ہے۔)

نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا سے گیا اور متعہ نہیں کیا قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ناک کٹا ہوا ہوگا۔

بقول شیعہ متعہ (زنا) نہ کرنے والا خدا پاک کا دشمن ہے۔

(تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 488)

ايک اور روایت میں ہے کہ ايک شخص حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس آیا اور پوچھا اے رسول اللہ کے بیٹے میں متعہ (زنا) نہ کرنے پر قسم اٹھائی اور اب بہت پریشان ہوں تو آیا میرے ليے جائز ہے متعہ (زنا) کرنا حضرت امام باقر نے فرمایا اے شخص تو نے خدا کی اطاعت نہ کرنے پر قسم اٹھائی ہے اور اگر تو اس کی اطاعت نہیں کرے گا تو خدا کا دشمن ہو جائے گا۔ پس اس روایت سے ثابت ہوا جو آدمی متعہ (زنا) نہ کرے وہ خدا کا دشمن ہے۔

اور تفسیر منہج الصادقین: صفحہ487 میں ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا معراج کی رات کو جبرئیل علیہ السلام نے مجھے کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تیری امت میں سے ان لوگوں کو بخش دیا جو متعہ (زنا) کرتے ہیں۔

بقول شیعہ متعہ (زنا) کا انکاری حضور کی نبوت کا انکار کرنے والا ہے۔

تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 495 میں ہے کہ صحابہ کرام کو آپ نے فرمایا! کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور پروردگار کی طرف سے تحفہ لائے اور وہ مومن عورتوں سے متعہ (زنا) کرنا ہے جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نصیب نہیں ہوا اور میں تم کو اس کاحکم دیا۔

متعہ میری سنت ہے میری موجودگی میں اور میرے وصال کے بعد جو بھی اس سنت کو قبول کرے گا اور اس پر عمل کرے گا اور اس کی تشہیر کرے گا وہ میرا اور میں اس کا ہوں۔ اور جو مخالفت کرے گا اس کی جس کا میں نے حکم دیا ہے تو وہ خدا کی مخالفت کرے گا اور جان لو اے لوگو! جو بھی اس مجلس میں بیٹھنے والوں سے انکار کرے گا وہ میرے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ دوزخی ہے۔ خدا کی لعنت ہو اس کی مخالفت کرنے والے پر جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ میری مخالفت کرتا ہے۔ اور جو کوئی متعہ (زنا) کا انکار کرتا ہے وہ میری نبوت کا انکار کرتا ہے۔ متعہ (زنا) کی مخالفت میری مخالفت ہے۔ جو میرا مخالف خدا کا مخالف خدا کا مخالف دوزخی ہے۔ جان لو کہ متعہ کو اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ خاص کر دیا ہے جوشخص عمر میں ايک مرتبہ بھی متعہ کرے گا وہ جنتیوں میں سے ہوگا۔

صفحہ 2 از 3