شیعوں کے نزدیک متعہ کی اہمیت
محمد راشد حنفیشیعہ کے نزديک متعہ (زنا) کی اہمیت اور اس کی فضلیت
متعہ (زنا) شیعہ مذہب کا مشہور و معروف مسئلہ ہے جو ان کی کتابوں کا زنیت بنا ہوا ہے لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جو يہ جانتے ہوں کہ شیعہ مذہب میں متعہ (زنا) صرف جائز اور حلال ہی نہیں ہے بلکہ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے اور اس کا اجر و ثواب نماز، روزہ، حج اور زکوٰة جیسی عبادات سے درجہا زیادہ ہے۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا مذہب نہیں جس میں کسی ایسے فعل کو اس درجہ کی عبادت اور ترقی درجات کا ایسا وسیلہ بتایا گیا ہو۔اس سلسلہ میں شیعہ کی معتبر تفسیر منہج الصادقین کے حوالہ سے ايک روایت آگے آرہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ايک دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ امام حسینؓ کا مقام پائے گا اور جو شخص دو مرتبہ متعہ (زنا) کرے گا وہ امام حسنؓ کا مقام پائے گا اور جو شخص تین مرتبہ متعہ (زنا) کرے گا وہ حضرت علیؓ کا مقام حاصل کر ے گا اور جو شخص چار مرتبہ متعہ کرے گا وہ میرا درجہ حاصل کرے گا (نعوذ بااللہ) اسی روایت کو مدِنظر رکھ کر ہر انسان اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کے نزديک متعہ کا مقام کتنا اعلیٰ اور بلند ہے۔ علاوہ اس کے نماز، روزہ، حج، زکوة وغیرہ سے ائمہ کرام کا مقام حاصل نہیں ہو سکتا اگر کوئی ملنگ مقامِ رسول حاصل کرنا چاہتا ہے (نعوذ بااللہ) تو متعہ (زنا) سے حاصل کر سکتا ہے۔
باقی متعہ (زنا) کیا ہے؟
بہت سے حضرات اس سے ناواقف ہوں گے۔ اس لئے مختصراً گذارش ہے کہ متعہ کا مطلب يہ ہے کہ کوئی مرد کسی بھی بےنکاحی غیر محرم عورت سے وقت کے تعین کے ساتھ مقررہ اُجرت پر (جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے) متعہ (زنا) کے عنوان سے معاملہ طے کر لے تو اس وقت کے اندر اندر ہی دونوں مباشرت اور ہمبستری کر سکتے ہیں اور اس کے اندر نہ ہی کسی گواہ کا اور نہ قاضی اور وکیل کا ہونا ضروری ہے بلکہ کسی تیسرے آدمی کو بھی خبر دينے کی ضرورت نہیں ہے۔ چوری چھپے يہ سب کچھ ہو سکتا ہے جیسا کہ عموماً آج کل اس پر عمل ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر سنی مسلمان کو اس برائی سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین
متعہ (زنا) کی فضلیت جو شیعہ کتب میں موجود ہے۔ اس کی قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
بقول شیعہ متعہ (زنا) کی ابتدا جناب رسول اللہﷺ نے فرمائی (نعوذ بااللہ تعالیٰ)
(فروع کافی: جلد 5 صفحہ 449۔ تفسیر صافی: جلد 6 صفحہ 346۔ تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 492۔ ترجمہ مقبول: صفحہ 161 وغیرہ وسائل الشیعہ: جلد 7 صفحہ437)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا متعہ (زنا) کا حکم قرآن کریم میں نازل ہوا اور متعہ کا اجراء آنحضرتﷺ نے کیا۔
اور من لایحضرہ الفقہ: جلد 3 صفحہ297۔ تفسیر البرہان: صفحہ 45۔ وسائل الشیعہ: جلد 14 صفحہ 442 کتاب النکاح پر ہے۔
بے شک مومن کامل ایمان والا نہیں ہوتا جب تک متعہ (زنا) نہ کرے۔
اور تفسیر منہج الصادقین: جلد 3 صفحہ 487۔ من لا یحضرہ الفقہ: جلد 3 صفحہ 297۔ تفسیر البرہان: صفحہ 46۔ وسائل الشیعہ: جلد 4 صفحہ 442۔ کتاب النکاح پر ہے۔
ايک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ رسول خداﷺ نے بھی متعہ (زنا) کیا ہے تو جواب دیا ہاں رسول خدا نے بھی متعہ کیا ہے۔ استغفر اللہ
بقول شیعہ امام جعفر نے فرمایا متعہ (زنا) پر ایمان نہ رکھنے والا ہم سے نہیں ہے۔
(تفسیر صافی: جلد 1 صفحہ 347۔ تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 488۔ خلاصة المنہج: صفحہ 291۔ حق الیقین: جلد 2 صفحہ 248۔ برہان المتعہ: صفحہ 45۔ ترجمہ مقبول: صفحہ 71۔ من لایحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 291۔ وسائل الشیعہ: جلد 7 صفحہ 438)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص ہمارے دوبارہ آنے پر اور متعہ (زنا) کے حلال ہونے پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہم سے نہیں۔
اور تفسیر منہج الصادقین: جلد 2صفحہ 492۔ برہان المتعہ: صفحہ 51 پر ہے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا جو شخص ايک بار متعہ (زنا) کرے اس کے جسم کا تیسرا حصہ دوزخ سے آزاد ہوجاتا ہے اور شخص دو دفعہ متعہ (زنا) کرے اس کے دو ثلث آزاد اور جو تین بار متعہ (زنا) کرے اس کا سب جسم دوزخ سے آزاد ہو جاتا ہے۔
بقول شیعہ تین دفعہ متعہ (زنا) کرنے والا قیامت کے دن حضورﷺ کے ساتھ ہوگا۔
(تفسیر منہج الصادقین: صفحہ 493۔ برہان المتعہ: صفحہ 51)
جو آدمی ايک دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ دوزخ کی آگ سے بےخوف ہو جاتا ہے اور جو آدمی دو دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ نیک لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور جو آدمی تین دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ میرے ساتھ (یعنی محمدﷺ کے ساتھ) جنت کے باغات میں ہو گا۔
(اور من لایحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 298۔ برہان المتعہ: صفحہ 48۔ وسائل الشیعہ: جلد 7 صفحہ 438 میں ہے)
اللہ تعالیٰ نے ہمارے شیعوں پر ہر نشہ والی چیز کو حرام کر دیا اور اس کے بدلے میں متعہ (زنا) کرنے کی اجازت دی۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کرنے میں جسم کے بالوں کے برابر نیکیاں حاصلی ہوتی ہیں۔
(منہج الصادقین: صفحہ 488۔ برہان المتعہ: صفحہ 49۔ من لایحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 295۔ رسائل الشیعہ: جلد 9 صفحہ 442)
صالح بن عقبہ کے باپ نے حضرت امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ متعہ (زنا) کرنے والے کے لئے ثواب سے تو حضرت کے لئے کیوں نہیں۔ جب صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے اور متعہ (زنا) کے منکروں کی مخالفت کے لئے متعہ (زنا) کرے تو متعہ (زنا) کرنے والوں جنتی بھی باتیں خلوف میں عورت کے ساتھ کرے گا اتنی نیکیاں لکھی جائیں گے۔ اور جس وقت اس کی شہوت کے ساتھ ہاتھ کرے گا تو اس کے لئے نیکی لکھی جائے گی اور جب اس کے قریو مخصوص کام کے لئے جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور جس وقت غسل کرے گا تو جتنے اس کے بدن پر بال ہیں اس کے برابر رحمتیں اور نیکیاں عطا کرے گا۔ ميں نے کہا بالوں کے برابر نیکیاں فرمایا ہاں بالوں کے برابر۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کرنے سے حسین (ع)۔
شیر خدا رضی اللہ عنہ اور خاتم الانبیاء کا درجہ حاصل ہوتا ہے (نعوذ بااللہ)
(منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 493۔ برہان المتعہ: صفحہ 52)
حضورﷺ نے فرمایا جو آدمی ايک مرتبہ متعہ (زنا) کرے اس کو حضرت امام حسین (ع) کا درجہ اور جو دو مرتبہ متعہ کرے اس کا حضرت حسن (ع) کا درجہ اور جو تین مرتبہ متعہ کرے اس کو حضرت علی(ع) کا درجہ اور چار مرتبہ متعہ (زنا) کرے اس کو میں محمد (ﷺ) کا درجہ ملے گا۔ استغفراللہ
بقول شیعہ متعہ (زنا) کے غسل سے ستر ہزار فرشتے پیدا ہوتے ہیں، جو قیامت تک دعا کرتے ہیں
(برہان المتعہ: صفحہ 50۔ وسائل الشیعہ: جلد 14 صفحہ 442)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص متعہ (زنا) کرے اور پھر غسل کرے تو اللہ تعالیٰ پانی کے ہر قطرہ کے بدلے جو اس کے بدن سے گرتا ہے ايک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک اس کے ليے استغفار کرتا ہے۔
آگے يہ بھی ہے
اور متعہ (زنا) نہ کرنے والوں پر قیامت تک خدا کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کرانے والی عورتوں کو خدا پاک نے بخش دیا۔
(من لایحضرہ الفقیہ: جلد 3 صفحہ 295۔ برہان المتعہ: صفحہ 47۔ وسائل الشیعہ: جلد 14 صفحہ 442۔ کتاب النکاح)
جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا جب میں معراج کی رات آسمان کی طرف جا رہا تھا تو مجھے جبرئیل علیہ السلام ملے اور کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تیری امت کی متعہ (زنا) کرنے والی عورتوں کو بخش دیا ہے۔
بقول متعہ (زنا) کرتے وقت ہر فعل کے بدل کا بےحساب انعام حاصل ہوتے ہیں۔
(تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 493۔ خلاصة المنہج: صفحہ 292۔ عجالہ حسنہ: صفحہ 15)
اور جب متعہ (زنا) کرنے والا مرد اور عورت دونوں متعہ (زنا) کے ليے بیٹھے ہیں تو خدا کی طرف سے ايک فرشتہ ان کی حفاظت کے لئے نازل ہوتا ہے جو متعہ کی مجلس ختم ہونے تک ان کی حفاظت کرتا ہے۔ متعہ (زنا) کے وقت جب دونوں زبان سے کلمہ نکالیں گے ان کے لئے تسبیح اور ذکر بن جائے گا۔ اور جب ايک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں گے ہر گناہ ان کی انگلیوں سے گر جائے گا۔
اور جب ايک دوسرے کو بوسہ دیں گے تو ہر بوسے کے بدلے حج اور عمرہ کو ثواب ملے گا۔
اور جب متعہ (زنا) کرنے کے لئے الگ ہوں گے ہر لذت اور شہوت پر ان کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی ايک نیکی بلند پہاڑ کے برابر ہو گی۔ اس کے بعد فرمایا کہ جبرئیل نے مجھے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب متعہ (زنا) کرنے والا مرد اور عورت متعہ سے فارغ ہو کر غسل میں مشغول ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں ان کا پروردگار ہوں اور يہ متعہ بہترین طریقہ ہے ميرے پیغمبر کا۔ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! میرے ان دو بندوں کو ديکھو جو کہ متعہ سے فارغ ہو کر غسل میں مشغول ہو گئے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ میں ان کا رب ہوں تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے جان لو کہ ان کے بدن پر غسل کا پانی ان کے جس بال سے گزر ے گا تو اللہ تعالیٰ ہر بال کے بدلے میں ان کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دے گا اور دس گناہ معاف کر دے گا اور دس درجے بلند کر دے گا۔
حضرت علی(ع) يہ تقریر سن کر کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ میں تصدیق کرتا ہوں جو کچھ آپ نے کہا۔
اس شخص کے لئے اجر ہے جو متعہ (زنا) کو رواج دينے میں کوشش کرتا ہے۔ فرمایا اس کو متعہ کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔
پھر حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کا اجر کیا ہے آپ نے فرمایا وہ غسل میں مشغول ہوتے ہیں اور جو پانی کا قطرہ ان کے بدن سے زمین پر گرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر قطرہ کے بدلے ايک فرشتہ پیدا کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کا ثواب متعہ (زنا) کرنے والے کے لئے جمع ہوتا رہتا ہے۔ اے علی! جو آدمی متعہ (زنا) کو ہلکا جانے اور اس کے کرنے سے کترائے وہ میرے شیعہ سے نہیں ہے اور میں اس سے بری ہوں۔
(اور تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 489پر ہے۔)
نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا سے گیا اور متعہ نہیں کیا قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ناک کٹا ہوا ہوگا۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) نہ کرنے والا خدا پاک کا دشمن ہے۔
(تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 488)
ايک اور روایت میں ہے کہ ايک شخص حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے پاس آیا اور پوچھا اے رسول اللہ کے بیٹے میں متعہ (زنا) نہ کرنے پر قسم اٹھائی اور اب بہت پریشان ہوں تو آیا میرے ليے جائز ہے متعہ (زنا) کرنا حضرت امام باقر نے فرمایا اے شخص تو نے خدا کی اطاعت نہ کرنے پر قسم اٹھائی ہے اور اگر تو اس کی اطاعت نہیں کرے گا تو خدا کا دشمن ہو جائے گا۔ پس اس روایت سے ثابت ہوا جو آدمی متعہ (زنا) نہ کرے وہ خدا کا دشمن ہے۔
اور تفسیر منہج الصادقین: صفحہ487 میں ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا معراج کی رات کو جبرئیل علیہ السلام نے مجھے کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تیری امت میں سے ان لوگوں کو بخش دیا جو متعہ (زنا) کرتے ہیں۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کا انکاری حضور کی نبوت کا انکار کرنے والا ہے۔
تفسیر منہج الصادقین: جلد 2 صفحہ 495 میں ہے کہ صحابہ کرام کو آپ نے فرمایا! کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور پروردگار کی طرف سے تحفہ لائے اور وہ مومن عورتوں سے متعہ (زنا) کرنا ہے جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نصیب نہیں ہوا اور میں تم کو اس کاحکم دیا۔
متعہ میری سنت ہے میری موجودگی میں اور میرے وصال کے بعد جو بھی اس سنت کو قبول کرے گا اور اس پر عمل کرے گا اور اس کی تشہیر کرے گا وہ میرا اور میں اس کا ہوں۔ اور جو مخالفت کرے گا اس کی جس کا میں نے حکم دیا ہے تو وہ خدا کی مخالفت کرے گا اور جان لو اے لوگو! جو بھی اس مجلس میں بیٹھنے والوں سے انکار کرے گا وہ میرے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ دوزخی ہے۔ خدا کی لعنت ہو اس کی مخالفت کرنے والے پر جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ میری مخالفت کرتا ہے۔ اور جو کوئی متعہ (زنا) کا انکار کرتا ہے وہ میری نبوت کا انکار کرتا ہے۔ متعہ (زنا) کی مخالفت میری مخالفت ہے۔ جو میرا مخالف خدا کا مخالف خدا کا مخالف دوزخی ہے۔ جان لو کہ متعہ کو اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ خاص کر دیا ہے جوشخص عمر میں ايک مرتبہ بھی متعہ کرے گا وہ جنتیوں میں سے ہوگا۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کا انکار کرنے والا کافر اور مرتد ہے۔
(تفسیر منہج الصاقین: جلد 2 صفحہ 495)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ متعہ (زنا) کرنا میرا اور میرے آبا ؤ اجداد کا دین ہے اور جو کوئی متعہ کرے گا ہمارے دین پر عمل کرے گا اور جو متعہ کا انکار کرے وہ ہمارے دین پر عمل کرے گا اور جو متعہ کا انکار کرے وہ ہمارے دین کا منکر ہے اور ہمارے دین کے علاوہ اس کا اعتقاد ہے۔
اور متعہ امان ہے تمہارے لئے شرک سے اور متعہ (زنا) سے پیدا شدہ بچہ یہ افضل ہے اپنی بیوی سے حاصل شدہ بچہ سے اور متعہ کا منکر کافر اور مرتد ہے۔
(فروع کافی: جلد 5 صفحہ 451۔ تہذیب الاحکام: جلد 7 صفحہ 260۔المعة الدمشقیہ: جلد 5 صفحہ 206۔ استبصار: جلد 3 صفحہ 147 پر ہے۔)
زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق(ع) سے پوچھا کتنی عورتوں سے متعہ (زنا) کرنا جائز ہے فرمایا جتنی عورتوں سے تیرا دل چاہے۔
بقول شیعہ چکلے والی عورت سے بھی متعہ (زنا) کرنا جائز ہے۔
(استبصار: جلد 3 صفحہ 143۔ تہذیب الاحکام: جلد 7 صفحہ 260۔ النہایہ شیخ مفید: صفحہ 490)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عمار نے سوال کیا۔ بدکارعورت کے ساتھ متعہ (زنا) کرنے کے بارہ میں۔ فرمایا کوئی حرج نہیں بدکار عورت کے ساتھ متعہ (زنا) کرنے میں۔
چونکہ متعہ (زنا) کے اندر عورت کو راضی کرنے کے لئے نقدی وغیرہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اسلئے شیعہ نے اس مسئلہ کو بھی اماموں سے حل کروا لیا ہے جس کے اندر خصوصی طور پر پیشہ ور ذاکروں کے علاوہ غریب ملنگوں کی رعایت رکھی گئی ہے تاکہ وہ بچارے بھی اس میں شریک ہو کر آنحضرت کے درجہ کو حاصل کریں۔(معاذ اللہ) اور اس کے انکار سے کافر، مرتد اور بےدین دشمن رسول نہ بنے۔
ملاحظہ فرمائیں:
(فروع کافی: جلد 5 صفحہ 457۔ تہذیب الاحکام: جلد 7 صفحہ 260۔ وسائل الشیعہ: جلد 7 صفحہ 481 پر ہے۔)
احوال نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہ کتنی رقم دے کر آدمی عورت سے متعہ (زنا) کر سکتا ہے ۔فرمایا ايک مٹھی گندم کی دے کر۔
(فروغ کافی: صفحہ457۔ تہذیب الاحکام: جلد 7 صفحہ 260 پر ہے۔)
ابو بصیر نے کہا میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سوال کیا عورتوں کے ساتھ متعہ (زنا) کرنے کے بارے میں۔
فرمایا حلال ہے اور متعہ (زنا) کاعوض ايک درہم یا آدھا درہم کافی ہے۔
(فروع کافی: جلد 5 صفحہ 457۔ وسائل الشیعہ: جلد 7 صفحہ 481 میں ہے۔
ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق(ع) سے متعہ (زنا) کی فیس کے بارے میں پوچھا وہ کتنی ہو۔ فرمایا آٹے یا ستووں یا کھجور کی ايک مٹھی۔
بقول شیعہ ايک دفعہ متعہ (زنا) کرنا ستر مرتبہ بیت اللہ کی زیارت کے برابر ہے۔
(عجالہ حسنہ: صفحہ 16)
حضرت سید عالم نے فرمایا کہ جس نے زن مومنہ سے متعہ (زنا) کیا گویا اس نے خانہ کعبہ کی ستر مرتبہ زیارت کی۔
خدا پاک نے اپنے نفس پر قسم کھائی ہے کہ جس مرد اور جس عورت نے متعہ (زنا) کیا ہوگا اس کو آتش دوزخ سے معذب نہیں کروں گا ايک دفعہ متعہ (زنا) کرنے والا نارِ جہنم سے بےخوف ہوگا۔ دو مرتبہ کرنے والا نیک بندوں کے ساتھ محشور ہوگا۔ تین مرتبہ متعہ (زنا) کرنے والا داخل ہوگا۔ جو شخص جس قدر زیادہ متعہ کرے حق تعالیٰ اس کے مدراج اسی قدر زیادہ فرمائے گا۔
متعہ (زنا) کرنے والے بجلی کی طرح پل صراط سے گزر کر جنت میں داخل ہوں گے۔
(عجالہ حسنہ: صفحہ 16)
اے علی! قیامت کے دن زوج اور زوجہ ایسی نورانی سواریوں پر ہوں گے جن کے پاؤں مردارید کے اور کان زبرجدسبز کے آنکھیں یاقوت کی پیٹ لولو اور مرجان کے ہوں گے يہ لوگ بجلی کی طرح پل صراط سے گزریں گے اور ان کے ساتھ فرشتوں کے ستر صفیں ہوں گے ديکھنے والے کہیں گے کہ يہ ملائکہ مقرب میں یا انبیاء مرسل۔ فرشتے جواب دیں گے کہ يہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سنتِ نبوی کو دنیا میں زندہ کیا یعنی متعہ (زنا) کیا
اور وہ لوگ بغیر حساب کتاب لئے ہوئے بہشت میں داخل کيے جائیں گے۔
محمد راشد حنفی
