صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 8 از 8

اس کے بعد بھی اگر کوئی گنجائش نکالتا ہے، تو وہ جھوٹی حدیثیں گھڑنے والا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرما دیا تھا: جو بھی میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی حدیث منسوب کرے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ تو جن لوگوں نے بھی ان مجرموں کے بارے میں حدیثیں وضع کیں، جھوٹی حدیثیں گھڑیں۔ںم جن کے بارے میں محدثین کا فیصلہ ہے کہ ان کی فضیلت میں ایک حدیث بھی صحیح ثابت نہیں ہے ان جھوٹی حدیثوں سے کام چلانے والے گندے، جھوٹے لپاڑیے، بدمعاش اور مجرم قسم کے لوگ جو قاتل کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے۔ وہ گویا اس کا اعلان کر رہے ہیں کہ: "ہم بھی اس قاتل کے ساتھ ہیں، ہم بھی مومنوں کے قاتل کے ساتھ ہیں، ہم بھی صحابۂ کرامؓ کے قاتلوں کے ساتھ ہیں، ہم بھی ان کو گالی دینے والوں کے ساتھ ہیں، ہمارا نام بھی انہی میں لکھا جائے، ہمارا حشر بھی یزید کے ساتھ کیا جائے، ہم یزیدی ہیں۔ ہمیں حسین نہیں چاہئیں۔ جو ایسے بدمعاش خبیث ،بدبخت بیہودہ اور گندے لوگ ہیں، ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں بھی جہنمی ہیں اور آخرت کی جہنم ان کی منتظر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظالم کے خلاف بات کرنے کا حق ایک مظلوم کو دیا گیا ہے کہ وہ کھل کر ظالم کے خلاف بولے۔ اس لیے جو یہ کہتے ہیں کہ مشاجرات کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، وہ دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں اور خود مجرم ہیں۔

ثبوت

یہ خبیث قسم کی تکفیری رافضی سوچ ہے، جس کے زیر اثر ندوی صاحب سیدنا معاویہؓ کی جماعت جن میں متعدد اجلہ و اکابر صحابہ بھی تھے کو مجرم باغی قاتل اور ظالم وغیرہ قرار دے رہے ہیں اور تمام ائمہ و علماء اہل سنت کو مجرم قاتل ظالم جھوٹے مکار اور جہنمی وغیرہ ہر طرح کی گالی دے رہے، یہ باتیں اس قدر واضح طور پر باطل ہیں کہ ان کی تردید و ابطال کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

10: ندوی صاحب نے صحابہ کرامؓ کے بارے میں اہل سنت کے اس متفقہ عقیدے کہ الصحابہ کلہم عدول" (تمام صحابہ عادل ہیں) کا صراحتاً انکار کیا ہے اور اس اصول کا تمسخر اڑاتے ہوئے امت کے اکابرین کو جاہل، احمق، اور بےشرم قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں: سارے صحابہ مقدس ہیں، سب عدول ہیں! اے بے شرموں، بے حیاؤں نبی کے منکروں، حدیثوں کے منکروں، جاہلوں، احمقوں کچھ تو شرم کرو۔ حضرت زید بن وہبؓ، حضرت حذیفہؓ اور دیگر حضرات سے منقول ہے کہ حضور اکرمﷺ نے اپنے صحابہ میں سے متعدد لوگوں کے نفاق کے بارے میں حضرت حذیفہؓ کو مطلع کر دیا تھا۔ لہٰذا جب جب ان میں سے کسی کا جنازہ آتا تو حضرت حذیفہؓ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، یعنی صحابی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔"

ثبوت

ندوی صاحب نے انتہائی مکاری سے احادیث میں موجود لغوى لفظ "اصحابی" کو شریعت کی اصطلاح"صحابی" کے ساتھ خلط ملط کیا ہے۔ 

اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے نزدیک "صحابی" وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہﷺ سے ملاقات کی ہو اور اسی ایمان پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔ منافقین، چاہے وہ رسول اللہ کے ساتھ ہی کیوں نہ رہے ہوں، شرعی اعتبار سے ہرگز صحابی نہیں ہیں۔ ان پر صحابیت کا اطلاق کرنا دراصل صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کی توہین اور انہیں بدنام کرنے کا گھناؤنا رافضی حربہ ہے۔


صفحہ 8 از 8