صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 7 از 8

اور جو منافق تھے، مجرم تھے، خبیث تھے جن کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا اور امام بخاریؒ نے لکھا کہ وہ باغی اور جہنم کے داعی تھے، ان کی روایتیں مردود ہیں، ان کی زندگی ان کی زبانیں مردود ہیں، ان پر لعنتیں، قیامت تک لعنتیں اور محشر میں دیکھ لو گے کہ انہی کے بارے میں نبیﷺ فرمائیں گے، جب دیکھیں گے کہ صحابہ کو فرشتے دھکے دے رہے ہیں تو نبی فرمائیں گے، صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کہیں گے: "ارے یہ تو میرے صحابہ ہیں، یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ تو فرشتے کہیں گے حضور آپ کو یہ نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا حرکتیں کیں، کتنے ظالم، کیسے ملعون کتنے بدمعاش تھے! انہوں نے علی کو پانی سے روکا انہوں نے حسین کو پانی سے روکا، انہیں شہید کیا آپ کے صحابہ کو شہید کیا ، آپ کے صحابہ کے تابعین کو شہید کیا، یہ مرتد ہوئے، یہ ملعون ہیں۔

اس لیے حوض کوثر پر انہیں حاضر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اور جو بھی ان کو ماننے والے تابعین، تبع تابعین اور ملا، مولوی، مفتی قاضی تھے، سب ملعون ہیں اور سب محشر کے دن حوض کوثر کے قریب حاضر نہیں ہو سکیں گے۔"

ثبوت

حوض كوثر والی حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہﷺ کی وفات کے فوراً بعد مرتد ہو گئے تھے جیسے مسیلمہ کذاب کے پیروکار وغیره یا منافقین تھے۔ ان احادیث کا اطلاق مشاجرات صحابہ میں شریک جلیل القدر صحابہ فاتحین اور حضرت امیر معاویہؓ پر کرنا روافض کا بدترین اور باطل ترین عقیدہ ہے۔ صحابہ کرامؓ کو مرتد اور ملعون کہنا دین کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے۔

اسی طرح حضرت امیر معاویہؓ پر حضرت حسنؓ کو زہر دے کر شہید کرنے کا الزام قطعی طور پر باطل اور ابو مخنف بشام کلبی جیسی شیعہ کذاب مورخین کی گھڑی ہوئی جھوٹی روایات پر مبنی ہے۔ علامہ ابن خلدون قاضی ابوبكر ابن العربی اور حافظ ابن كثير سميت تمام محققین اہل سنت نے اس الزام کو صریح جھوٹ اور بہتان قرار دیا ہے۔

حضرت حسنؓ نے خود امت کے مفاد میں خلافت حضرت معاویہؓ کے سپرد کی تھی، جسے ندوی صاحب "لپاڑیوں اور گندے لوگوں کا عقیدہ کہہ کر دراصل حضرت حسنؓ کے اس عظیم فیصلے کی توہین کر رہے ہیں، جس پر نبیﷺ نے سیدنا حسنؓ کی تعریف کی تھی اور انہیں "سید" کہا تھا۔

اس کے علاوہ بھی اشارہ کنایہ میں متعدد اجلہ و اکابر صحابہ پر طعن کیا ہے، مثال کے طور پر کہتے ہیں خلافت پر قبضہ کرنے کے چکر میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے آخری وقت میں حضورﷺ کی کھل کر مخالفت کی تھی ۔

(دیکھیے: علماء اہلسنت سے چند سوالات: صفحہ 11) مزید کہتے ہیں: حضورﷺ کے بعد خلافت کے حقدار حضرت ابوبکر و عمر نہیں بلکہ حضرت علی تھے۔

تمام صحابہ نے حضرت علیؓ کے تعلق سے حضورﷺ کی وصیت کو ٹھکرا دیا تھا، اگر وہ آپ کے حکم کو مانتے اور علی کو خلیفہ بنا لیتے تو یہ اختلافات جنم ہی نہ لیتے۔

 (دیکھیے: علماء اہلسنت سے چند سوالات: صفحہ 10-13)

ثبوت

مزید کہتے ہیں: حضرت علیؓ کے خلاف نکلنے والے تمام صحابہ (جن میں حضرت طلحہ، زبیر، ام المؤمنین عائشہ، مغيرة بن شعبہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل تھے فاسق ہیں اور ان کی روایت و شہادت مردود ہے۔

(لفظ صحابہ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 18) 9: ندوی صاحب نے اپنی متعدد تقریروں میں کھل کر یہ بات کی ہے کہ حضرت علیؓ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابہ باغی، مجرم، قاتل، ظالم اور فاسق ہیں، اس لیے انہیں حوض سے بھگا دیا جائے گا، ان کا ساتھ دینے والے بھی قاتل ظالم مجرم اور جہنمی ہیں، کہتے ہیں: "جو یہ کہتے ہیں کہ "مشاجرات صحابہ کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، وہ دھوکہ دیتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں، وہ خود مجرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ بری باتیں کھلم کھلا کہی جائیں، ہاں! یہ اللہ ضرور کہتا ہے کہ جو مظلوم ہے وہ ظالم کے خلاف کھل کر بات کر سکتا ہے۔ مظلوم کو یہ حق دیا گیا ہےکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ: یہ ظالم ہے، یہ مجرم ہے یا یہ خطاکار ہے۔"

ظالم کی تعریف کرنے والے خود ظالم ہیں، ظالم کا ساتھ دینے والے خود ظالم ہیں، قاتل کا ساتھ دینے والے خود قاتل ہیں اور مجرم و بدمعاش کا ساتھ دینے والے خود مجرم اور بدمعاش ہیں۔ خلیفہ راشد امیر المومنين سيدنا و امامنا على ابن ابی طالب علیہ السلام اور سیدا شباب اہل الجنة الحسن والحسين اور عظیم صحابۂ کرام اجلہ عظام کے خلاف جس نے ہتھیار اٹھائے، جنگ کی یا بغاوت کی وہ مجرم تھے، ظالم تھے اور قاتل تھے۔ ان کا جو ساتھ دے یا ان کی تعریف کرے، وہ مجرم اور جہنمی ہے۔ اس وقت جس نے یہ کیا وہ مجرم تھا، اس کے بعد کی نسلوں میں جس نے یہ کیا وہ مجرم ہے اور آج جو ان ظالموں، ان قاتلوں، ان مجرموں اور ان باغیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنے جرائم کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔ جنہوں نے نبی کو ستایا نبی کا کلیجہ پھاڑ دیا سینہ چھلنی کر دیا اور نبی کے محبوبوں کے خلاف ہتھیار لے کر نکلے، ان پر حملے کیے، کیا ان سے زیادہ کوئی مبغوض کوئی شقی کوئی بدبخت اور کوئی مجرم ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

صفحہ 7 از 8