صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 6 از 8

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صحابہ کو قتل کیا، بےشمار صحابہ کو قتل کیا چونکہ وہ باغی ہو گئے تھے۔ سیدنا علیؓ نے قتل کیا ان کو جو باغی تھے اور جو باغی تھے انہوں نے صحابہ کو قتل کیا، تابعین کو اہل بیت کو کیونکہ وہ ظالم اور جہنم کے داعی تھے۔"

ثبوت

غزوہ احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کے ساتھ واپس پلٹنے والے 300 منافقین کو بار بار "صحابہ" کہنا امت مسلمہ کے اجتماعی عقیدے پر سیدھا حملہ ہے تاکہ صحابہ کرامؓ کی مجموعی عدالت پر شک پیدا کیا جا سکے۔ حوض کوثر کی حدیث مرتدین یا منافقین کے بارے میں ہے، اسے زبردستی جلیل القدر صحابہ، فاتحین اور حضرت امیر معاویہؓ پر چسپاں کرنا بدترین دجل اور کھلی ضلالت ہے۔

اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جن کے ساتھ قتال کیا تھا وہ صحابہ نہیں تھے بلکہ مرتد ہو گئے تھے۔

ایسا لگتا ہے موصوف صحابہ کی اصطلاح سے واقف نہیں ہیں یا جان بوجھ کر تلبیس کاری کر رہے ہیں تاکہ منافقین و مرتدین کو صحابہ باور کرا کر امت کو صحابہ سے متنفر اور بیزار کر دیا جائے اور ان کے دلوں میں صحابہ کرامؓ کی نفرت ڈال دی جائے۔

اہل السنہ جب تمام صحابہ عادل ہیں"کہتے ہیں تو اس سے لغوی صحابہ مراد نہیں ہوتے جو نبی کے ساتھ رہے ہوں اور دل میں کفر چھپائے بیٹھے ہوں، یہ تو منافقین تھے جن کو خود قرآن نے منافقین کہا ہے اور ان کی مذمت کی ہے جبکہ مؤمنین صحابہ کرامؓ کی تعریفیں کی ہیں اور انہیں جنت کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے ہم بھی انہیں منافقین ہی کہتے ہیں۔

 صحابی تو ایک خاص اصطلاح ہے جس سے مراد وہ مکرم ہستیاں ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ سے ملاقات کی ہیں اور ایمان پر وفات پائی ہیں۔

7: سلمان ندوی نے حضرت ابو سفیان اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اسلام پر شک و شبہ اور اعتراض وارد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا اسلام بس ظاہری اور برائے نام تھا، کہتے ہیں: "صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اور اس کا باپ اسلام لایا وہ ظاہری اسلام تھا۔

حضور نے تو اس کو 100 اونٹ دیے تھے کہ اونٹ چراتا چراتا یہ مر جائے، اس کا شر ہم سے دور رہے۔

ثبوت

اسی طرح انہوں نے ایک قصے کا سہارا لیتے ہوئے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریمﷺ کو شہید کرنے کی سازش کرنے والے منافقین کو صحابی قرار دیا اور اس گھناؤنی سازش کا الزام جلیل القدر صحابی حضرت ابو سفیانؓ اور ان کے بیٹوں پر عائد کر کے ان پر لعنت بھیجنے کی جسارت کی ہے۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی ان پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں: چند دن پہلے بھارت کی ایک شخصیت جو مذہبی حلقوں میں متعارف بھی ہے اور معروف بھی جس کا نام سید سلمان حسینی ندوی ہے، ان کا ایک ویڈیو بیان سننے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے غزوۂ تبوک کے حوالے سے ایک قصہ بیان کیا ہے کہ غزوۂ تبوک میں نبی کریمﷺ تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: "ہمارے ہمسفر ساتھیوں اور صحابہ میں 12 شخص منافق ہیں۔ اور پھر بلاذری کے حوالے سے اس پر گرہ لگائی کہ وہ 12 لوگ جو منافق تھے، وہ نبی کریمﷺ کو اس سفر کے دوران شہید کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو محفوظ رکھا۔ پھر موصوف نے غالباً شیطان کی طرف سے الہام پا کر اسے حضرت ابوسفیان اور ان کے صاحبزادوں پر منطبق کرنے کی کوشش کی۔ ان 12 افراد کے نام تو نہیں لیے، لیکن اسی کہانی یا اس سے ملتی جلتی کہانی کا یہ حصہ بھی شامل کیا کہ اونٹ پر تین افراد سوار تھے؛ ان میں سے ایک حضرت ابوسفیانؓ تھے، ایک ان کے پیچھے ان کا بیٹا تھا اور ایک ان کے آگے ان کا بیٹا تھا اور حضورﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ: اونٹ پر سوار یہ تینوں شخص جو ہیں، ان پر اللہ کی لعنت ہے۔"

ثبوت

حضرت ابو سفیانؓ صحابی رسول ہیں، اور فتح مکہ کے بعد ان کا اسلام لانا اور نبی کریمﷺ کی ان پر شفقت احادیث صحیحہ سے قطعی ثابت ہے۔ ان کے بارے میں یہ خبيث الزام تراشنا کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کے قتل کی سازش کی سراسر بہتان اور شیعہ راویوں کی گھڑی ہوئی جھوٹی اور مردود روایات کا شاخسانہ ہے۔

8: ندوی صاحب نے حوض کوثر کی حدیث جو مرتدین کے بارے میں مرتدین کے بارے میں ہے) کو جلیل القدر صحابہ کرام، تابعین اور مشاجرات صحابہ پر منطبق کیا ہے۔ انہوں نے حضرت امیر معاویہؓ اور دیگر افراد کے لیے انتہائی غلیظ بازاری اور شرمناک گالیاں ملعون ،خبیث ،گندی ،ناپاک، جھوٹے لپاڑیے) استعمال کی ہیں اور ان پر حضرت حسنؓ کو زہر دینے کا من گھڑت الزام لگایا ہے اور حضرت معاویہؓ کی جماعت جن میں صحابہ کرامؓ کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی کو باغی اور جہنم کے داعی قرار دیا ہے، ان کی روایتوں کو مردود اور انہیں ملعون قرار دیا ہے۔ مزید برآں ان صحابہ کا دفاع کرنے والے تمام تابعین، تبع تابعین، قاضیوں اور مفتیوں پر بھی گھٹیا زبان استعمال کی ہے اور ان پر قیامت تک کی لعنتیں بھیجی ہیں۔

کہتے ہیں: "حدیثوں سے صحیح طور پر یہ ثابت ہے۔ جو ناصبی بھی ہیں، وہ حضرت حسنؓ کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں، کیونکہ وہ پھر یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ کو حضرت حسنؓ نے مان لیا تھا۔ وہ جھوٹے لپاڑیے، گندے ناپاک مجرم خبیث، اتنے بے شرم ہیں! حضرت حسنؓ کو زہر دے کے مروانے والا معاویہ اور یزید تھا۔ وہ گندے ناپاک اس پر غور نہیں کرتے کہ حضرت حسنؓ مسجد نبوی میں ہوتے تھے اور معاویہ کا گورنر مروان ملعون خبيث، حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا۔ حضرت حسنؓ کو شہید کیا گیا اور جب ان کی لاش حضرت عائشہؓ کی اجازت سے اپنے نانا کے پاس دفن ہونے کے لیے لے جائی جانے لگی تو وہی ملعون مروان تھا جس نے روکا۔ وہ ملعون تھا، ہزار لعنتیں ہوں اس پر جس نے حضرت حسنؓ کی لاش کو اپنے نانا کے پاس دفن نہیں ہونے دیا۔ جب اس سے کہا گیا کہ عائشہ کہتی ہیں کہ اجازت ہے، تو اس نے کہا: "عائشہ جھوٹ بولتی ہے، تم جھوٹ بولتے ہو، ہم نہیں ہونے دیں گے۔

صفحہ 6 از 8