صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 5 از 8

تو نبیﷺ ایک ہزار صحابہ کو لے کر نکلے۔ ابھی آدھے راستے پر پہنچے تھے کہ عبداللہ ابن ابی جو منافقوں کا سردار بنا رہا اول سے آخر تک اس نے اعلان کیا، ہم لوگ نہیں جائیں گے، ہمارے لوگ واپس چلیں۔ تو 300 صحابہ اس کے ساتھ نبی سے بغاوت کر کے غداری کر کے دھوکہ دے کر واپس آ گئے۔

ہر سیرت کی کتاب میں یہ واقعہ لکھا ہے، ہر کتاب میں یہ واقعہ موجود ہے۔ کوئی انکار کرے گا؟ کوئی اس کو جھٹلا سکتا ہے؟

 ظاہر ہے کہ جنہوں نے یہ حرکت کی نبی سے غداری کی انہی کی طرح کے لوگ تھے جن کو آگے چل کر سیدنا عثمانؓ سے غداری کرنا تھی، سیدنا علیؓ سے غداری کرنا تھی، انہی میں وہ لوگ تھے جو آگے چل کر سیدنا حسنؓ کو شہید کرنے والے تھے۔ یہ سب وہ مجرم و بدمعاش تھے جو صبح شام نبی کو دیکھتے تھے اور نبی کی مجلس میں بھی جاتے تھے اور نبی کا کھانا بھی کھاتے تھے، لیکن ان کے دل سیاہ تھے۔ اسی لیے نبی پاک علیہ الصلوة والسلام نے جو کھلے منافق تھے ان کے بارے میں تو تفصیلات نہیں بتائیں علامتیں بتا دیں، لیکن جو چھپے ہوئے اپنی صفوں میں تھے اور ان کو لوگ ملّا سمجھتے تھے، صوفی سمجھتے تھے، شیخ سمجھتے تھے، ان کے نام حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو باقاعدہ بتائے کہ فلاں فلاں فلاں فلاں میرے صحابی منافق ہیں۔ اس کو اخفاء میں رکھنا یہ راز ہے، اس کو بیان نہ کرنا تاکہ معلوم رہے، تم کم از کم سمجھتے رہو ضرورت ہو تو کسی کو بتا سکتے ہو۔ تو حضرت عمر بن الخطابؓ کا حال یہ تھا، ایک گھبراہٹ کی کیفیت کہ وہ حضرت حذیفہؓ سے پوچھنے لگے، ارے میرا نام تو نہیں ہے؟ تو حضرت حذیفہؓ نے ان کو اطمینان دلایا کہ آپ کا نام نہیں ہے، لیکن اب آئندہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔

اسی طرح حضور پاک علیہ السلام نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ سے فرمایا کہ "میرے بہت سے صحابہ ہیں جو مرنے کے بعد مجھے نہیں دیکھیں گے، میں انہیں نہیں دیکھوں گا، یعنی وہ مجھ سے جدا کر دیے جائیں گے۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ حضرت ام سلمہؓ سے ایک موقع پر جب ملنے گئے تو انہوں نے یہ حدیث سنائی تو وہ پریشان ہو گئے، گھبرا گئے کہ بھائی جی پتہ نہیں کون کون لوگ ہوں گے۔

وہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ام سلمہؓ یہ حدیث سنا رہی ہیں۔ حضرت عمرؓ پر تو بڑا غلبہ رہتا تھا خشیت الہٰی کا، ڈرتے رہتے تھے کہیں اللہ کی کوئی پکڑ نہ ہو جائے، تو وہ حضرت ام سلمہؓ کے پاس گئے اور حضرت عمرؓ نے حضرت ام سلمہؓ سے کہا کہ ام المؤمنین، مومنوں کی ماں آپ کو جو راز نبی نے بتایا ہے، جن صحابہ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ مجھے نہیں دیکھیں گے، میں انہیں نہیں دیکھوں گا، ان میں میں تو نہیں ہوں؟

حضرت ام سلمہؓ نے کہا کہ آپ نہیں ہیں، لیکن اب میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ کس کس کا نام ہے۔ کھلی ہوئی باتیں ہیں اور وہ حدیث کہ نبی پاک علیہ السلام حوض کوثر پر ہوں گے اور اس وقت ایک بھیڑ آ رہی ہوگی جن کو فرشتے دھکے دے رہے ہوں گے۔ تو نبیﷺ کہیں گے، یہی الفاظ ہیں صحیح روایتوں کے، "أصحابي، أصحابي" (میرے صحابہ، میرے صحابہ)۔ تو فرشتے جواب میں کہیں گے کہ اے نبیﷺ! آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا ہے۔ آپ کے بعد انہوں نے آپ کے جگر گوشوں کو کاٹ دیا ہے، کلیجے چھلنی کر دیے ہیں۔ آپ کے بعد یہ علی سے لڑے اور صحابہ کو قتل کیا اور تابعین کو قتل کیا۔ آپ کے بعد انہوں نے حسین کو شہید کرنے کے لیے اپنے ملعون بیٹے کو مسلط کیا۔ آپ کے بعد آپ کے نواسے حسن کو زہر دے کے مارا۔ آپ کے بعد یہ وہ مجرم لوگ ہیں کہ جن کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کی مغفرت نہیں ہو سکتی، اس لیے ان کو دھکہ دیا جا رہا ہے کہ حوض کوثر کے قریب نہ بھٹکنے پائے۔

ظاہر ہے کہ جو بھی ان کی تائید کرنے والے ہیں، ان ظالموں کی ان مجرموں کی تو وہ اسی بھیڑ کے پیچھے ہوں گے، دور۔ جب آگے صحابہ کا یہ حال ہوگا کہ ان کو دھکے مل رہے ہوں گے تو پھر جو ان کے تابعین ان کے تابعین جو ان کے ساتھ، جو ان کا دفاع کرتے ہیں، جو ان کی بولی بولتے ہیں، جو ان کی بات کرتے ہیں، وہ سب اسی بھیڑ میں ہوں گے جن کو فرشتے دھکے دے کر حوض کوثر سے ہٹا دیں گے۔

 پھر اللہ یہ فرماتا ہے کہ انہی (صحابہ) میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا حال یہ ہے کہ کوئی ان کو خوشی ملتی ہے، کوئی مال ملتا ہے، کوئی نفع حاصل ہوتا ہے تو کہتے ہیں ہاں اللہ کا فضل ہے، اللہ کا کرم ہے، اللہ کا فضل ہے، اللہ کا کرم ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے، کوئی مشکل آتی ہے، کوئی مصیبت آتی ہے تو نعوذ باللہ کہتے ہیں نبی کو مخاطب کر کے، یہ آپ کی طرف سے، یعنی آپ کی غلطیوں کے سبب سے ایسا ہوا، ویسا ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون کیسی تکلیف نبی کو دیتے تھے وہ کیسا دکھ دیتے تھے، کس طرح کی باتیں کرتے تھے۔ تو اللہ جواب میں کہتا ہے ، قل کل من عند اللہ"۔ اے نبی کہہ دیجیے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک موقع پر نبیﷺ کی ایک حدیث بیان کی تو جو صحابہ مخاطب تھے، وہ بھی صحابی تھے، انہوں نے کہا ابوبکر تو یہ کہتے ہیں عمر نے تو یہ کہا، تو عبداللہ ابن عباس غصے میں بالکل سرخ ہو گئے اور کہا کہ جاہل میں کہہ رہا ہوں رسول اللہ نے یہ کہا، تو کہتا ہے ابوبکر نے کہا، عمر نے کہا، اے مجرم تیری عقل ماری گئی۔ ظاہر ہے کہ سیدنا عمرؓ اور ابوبکرؓ نبی کے غلام تھے۔

جو نبی کہہ دیں وہ ماننا ابوبکرؓ کو بھی عمرؓ کو

بھی عثمانؓ کو بھی علیؓ کو بھی۔

ہر عالم کو ہر ولی کو۔ نبیﷺ کی بات صاف طور پر سامنے آ جائے، اس کے بعد ایچ پیچ کرنا تاویلیں کرنا، کترانا جھوٹ بولنا اور صحیح حدیث کے مقابلے میں موضوع اور جھوٹی حدیثیں پیش کر کے عوام کو گمراه کرنا، یہ دجالوں کا کام ہے۔ یہ وقت کے شیطانوں کا کام ہے جو ملّا کی شکل میں دِکھتے ہیں، صوفی کی شکل میں دِکھتے ہیں لیکن یہ ڈکیت ہیں امت کے۔

تو یاد رکھو اس حقیقت کو، یہ ہے قرآن جو صاف کھول کھول کر بات کرتا ہے، صحابہ کی بات کرتا ہے۔ 

یہاں انہوں نے منافقین کے بارے میں قرآن کی اور بھی بہت ساری آیتوں کو نقل کر کے صحابہ پر چسپاں کیا ہے)

ثبوت

صفحہ 5 از 8