صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 4 از 8

میری گفتگو میں اس کا ذکر آیا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی ایک حدیث ہے جس سے اس دور کی صورتِ حال کو سمجھا جا سکتا ہے۔

وہ فرماتے ہیں کہ نبیِ پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے علم کے دو خزانے میں نے لیے۔ ایک خزانہ میں نے پھیلا دیا، عام کر دیا، بتا دیا اور ایک خزانہ وہ ہے کہ اگر میں اس کو پھیلا دوں، نشر و اشاعت کروں تو میری گردن کاٹ دی جائے گی۔

تو جو دور تھا جنابِ معاویہ کا، اس دور میں کیونکہ ملک عضوض تھا، یہ نبی کا فرمانا ہے، ہمارا اور آپ کا نہیں کہنا ہے۔ جب نبیِ پاک علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کو بیان کر رہے ہیں اور ابو ہریرہؓ جانتے ہیں کہ نبیِ پاک علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے اور انہیں معلوم ہے کہ اگر میں بتا دوں گا نام لے لے کر تو یہ قاتل مجھے مار دیں گے، جیسے کتنوں کو مارا، بدری صحابہؓ کو قتل کر دیا، حدیبی صحابہؓ کو قتل کر دیا، محمد ابن ابی بکر کو قتل کیا اور اس کے بعد گدھے کی کھال میں ان کا جسم ڈالا اور آگ لگا دی۔

جب حضرت عائشہ صدیقہؓ کو معلوم ہوا کہ میرے بھائی کے ساتھ یہ کیا ہے تو امام ذہبیؒ اور دیگر محدثین یہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؒ اپنی نماز میں معاویہ اور عمرو بن عاص کا نام لے کر قنوتِ نازلہ پڑھتی تھیں، بددعا کرتی تھی۔ ہمارے محدثین لکھ رہے ہیں۔

یہ روایت باہر کی کسی شخص کی نہیں ہے، اپنے گھر کے جلیل القدر محدثین کی روایت ہے۔

 حضرت حجر بن عدی اور چھ صحابہ کے ساتھ جو جرم ہوا کہ ان سے کہا گیا کہ علی پر لعن طعن کرو، جب وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے تو گردن ان کی کاٹ دی گئی۔ یہ سارے حقائق ظاہر ہے کہ ہمارے ائمہ محدثین نے بیان کیے ہیں، یہ محدثین کے بیانات ہیں جو نقل کیے گئے ہیں۔

 تو بہرحال اب میں نے جب یہ بات کہی تو میں نے ایک بات ساتھ ساتھ یہ کہی کہ جو لوگ سرکاری اور درباری مولوی تھے، یعنی جن کو لگا دیا گیا تھا کہ وہ جمعہ کے خطبوں میں حضرت علی پر لعن طعن کریں، وہ کرتے تھے، شام کی ہر مسجد میں اور جہاں جہاں پر غلبہ تھا ملکِ عضوض کا، وہاں حضرت علی پر سب و شتم ہوتا تھا، یہاں تک کہ مسجدِ نبوی میں مروان حضرت علی پر لعن طعن کرتا تھا۔

یہ بات ثابت ہے اتنے قوی دلائل سے ثابت ہے کہ جن کا اگر انکار کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اب حضرت ابوبکرؓ کی سیرت باقی رہ جائے گی نہ حضرت عمرؓ کی رہ جائے گی کیونکہ جو بھی سیرتیں ہیں حضرت عثمانؓ کی، حضرت عمرؓ کی، حضرت علیؓ کی، وہ انہی کتابوں کی رہینِ منت ہیں۔ انہی کتابوں سے تو ہم ان کی سیرت کا خاکہ بناتے ہیں۔ اور جب یہ کتابیں ان حقائق کو بیان کرتی ہیں جن سے ناصبی چڑتے ہیں، بدکتے ہیں تو اس وقت یہ حدیث، یہی روایات اور کتابیں غیر معتبر ہو جاتی ہیں۔

 معاویہ کی خانہ جنگی کی وجہ سے کئی لاکھ لوگ غیر مسلم ہوئے، کئی لاکھ لوگ اسلام سے دور ہوئے۔ پورا روم کا جو علاقہ ہے وہ اسلام سے محروم ہو گیا، دیکھا خانہ جنگی ہو رہی ہے۔ یہ تو نبی کے مؤتمِن لوگوں کو مار رہے ہیں، نبی کے صحابہ کو مار رہے ہیں تو ان کے دلوں میں اسلام کی نفرت بیٹھ گئی۔ پورا ایران نکل گیا، خراسان نکل گیا، اور سارا یہ علاقہ جو امام ابو حنیفہ کے حلقے کا علاقہ، وہ نکل گیا۔

تو ظاہر ہے کہ یہ اس خانہ جنگی اور خلافتِ راشدہ کے خلاف میں کوشش کے نتیجے میں گیا اور پھر جب لوگوں نے دیکھا یزید کے دور میں کہ حضور کے لاڈلے پوتے، سید شباب اہل الجنہ، اور ان کے خاندان کے لوگ کربلا میں کاٹے جا رہے ہیں تو اسلام سے بے شمار لوگوں میں نفرت ہو گئی کہ اگر یہ اسلام سکھاتا ہے کہ نبی ہی کے لاڈلوں کو، نبی کا نام لینے والے مارے، تو پھر ایسے اسلام کا کیا اعتبار؟

 اس لیے لاکھوں انسانوں کو حق سے دور کرنے کا جرم ان مجرموں نے کیا جنہوں نے خلافتِ راشدہ کے خلاف پوری جنگ چھیڑی اور پھر اس کے بعد یزید جیسے ملعون کو مسلط کیا گیا، جس کی وجہ سے بے شمار مسلمان ایمان سے محروم ہو گئے اور بے شمار کافر ایمان سے دور رہ گئے۔"

ثبوت

یہ بیان سلمان ندوی کی علمی خیانت اور تاریخ کو مسخ کرنے کی بدترین مثال ہے۔ حضرت عائشہؓ کی طرف سے جلیل القدر صحابہ پر بددعا کرنے کی من گھڑت اور ضعیف تاریخی روایات کو بنیاد بنا کر وہ صحابہؓ کی پاکیزہ جماعت میں پھوٹ اور نفرت دکھانا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کو دباؤ کا شکار ثابت کرنا اور حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت کو دہشت گردانہ اور کفر پھیلنے کا سبب بتانا سراسر دجل اور جھوٹ ہے۔ صحابہ کرامؓ کے مابین مشاجرات کو حق و باطل کا معرکہ بنا کر پیش کرنا اور ایک فریق کو ظالم و مجرم قرار دینا صریح ضلالت اور عقیدہ اہل سنت کے منافی ہے۔

6: انہوں نے جنگِ احد کے موقع پر رسول اللہﷺ کا ساتھ چھوڑنے والے منافقین کو صحابہ باور کرا کر، اور حوضِ کوثر کی حدیث کو صحابہ پر منطبق کر کے، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جن مرتدین سے قتال کیا تھا انہیں بھی صحابی قرار دے کر لوگوں کو صحابہ کرامؓ سے متنفر کرنے کی کوشش کی بارہا کوشش ہے۔

کہتے ہیں: "(ہجرت کے) دوسرے سال وہ موقع آیا جس میں جنگِ بدر ہوئی۔ اب ظاہر ہے کہ جنگِ بدر میں جانے کے لیے لوگ تیار نہیں تھے۔ جو مخلص تھے، سچے صحابہ، جانثار صحابہ، قربانی دینے والے صحابہ، صرف وہی چن چن کے آئے، وہ 313 ہوئے۔ بس 313 تھے جو نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نکلے اور بدر تک گئے اور باقی جو مدینے میں رہے، ان میں ایسے بھی تھے جو یہ کہتے تھے کہ بھائی یہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ ان کی لاشیں ہی واپس آئیں گی۔ یہ حالات تھے اور یہ تو بدر کی بات ہوئی۔

میں بار بار بیان کر چکا ہوں کہ ایک سال کے بعد احد کی جنگ ہوئی۔ جب تین ہزار کفار یلغار کر کے مدینے تک پہنچے اور نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ہزار صحابہ سے مسجد نبوی میں مشورہ کیا۔ اور مشورے میں خود نبی نے طے کیا کہ اب نکلنا ہے احد پہاڑ کے دامن کی طرف اور وہ وہاں پھر ان سے جنگ کرنا ہے، کیونکہ اس کے شمالی حصے میں کافروں کی فوج موجود تھی۔

صفحہ 4 از 8