صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 3 از 8

مزید یہ کہنا کہ "خراسان کا لشکر امام مہدی کے ساتھ ہوگا، جو چن چن کے ناصبیوں کا خاتمہ کریں گے" یہ در اصل رافضی اثر کا کمال ہے، یہ روافض کے امام مہدی ہیں، جن کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ ابو بکر وعمر وعثمان کو قبروں سے نکال کر قتل کریں گے، حضرت عائشہ صدیقہؓ پر حد نافذ کریں گے اور سنیوں کا قتل عام کریں گے۔

اسی طرح حضرت معاویہؓ کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ کی طرف منسوب رافضیوں کی ایک جھوٹی روایت کا سہارا لے کر کہتے ہیں: "رسول اللہ نے فرمایا کہ معاویہ کو جب میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا" 

ثبوت

مزید کہتے ہیں: "بڑے معصوم بن کر کہتے ہیں کہ بھائی! یزید ایسا تھا، ویسا تھا۔ یزید کو کس نے پالا تھا؟ کس نے پوسا تھا؟ کس گھر میں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی؟ وہ بڑی تفصیل سے بڑے بڑے علماء ومحدثین کے اقوال میں بیان کر چکا ہوں۔ *کہ معاویہ کے یہاں شراب کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ معاویہ کے یہاں سود جائز تھا۔ معاویہ کے یہاں ریشم کے کپڑے پہنے جاتے تھے۔ معاویہ کے یہاں صحابہ کی گردنیں کاٹی جاتی تھیں۔ معاویہ کے یہاں حضرت علی کو گالی دی جاتی تھی۔ حضرت فاطمہ، جو خواتینِ جنت کی سردار ہیں، ان کو گالی بک جاتی تھی۔ حسین اور حسن کو قتل کروایا، اور دھمکیاں دیں، اور گالیوں سے نوازا جاتا تھا۔ وہ گھر تھا جہاں یہ سب ہوتا تھا۔ اور میں بہت تفصیل سے بتا چکا ہوں کہ جس وقت حضرت حسین کا سر اور دیگر افراد کے سر یزید کے دربار میں لائے گئے، تو فخر کے ساتھ یہ شعر پڑھ رہا تھا کہ:

کاش! میرے وہ اجداد جن کو بدر میں کاٹ کے پھینکا تھا علی نے، کاش! وہ ہوتے تو خوش ہوتے کہ میں نے محمد کے خاندان سے بدلہ لے لیا ہے" 

ثبوت

3: سلمان ندوی نے بار بار راوی اسلام، جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہؓ کی ذات پر براہ راست حملہ کیا ہے، انہیں "سرکاری مولوی" قرار دیا ہے اور ان پر بزدلی، خوف اور مصلحت کے تحت احادیث کا بڑا ذخیرہ چھپا لینے ("گول کر دینے") کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

کہتے ہیں: "یہ جو ایک عقیدہ گھڑا گیا ہے، (یعنی تمام صحابہ کے عادل ہونے کا) جھوٹا عقیدہ ہے، اور ملمع سازی کر کے اہل سنت پر اس کو مڑھ دیا گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے بیانات اس کے بالکل خلاف ہیں۔ ان کے بیانات پڑھیے مثلاً حضرت حذیفہؓ کے، حضرت عمارؓ کے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے، حضرت علی بن ابی طالبؓ کے، اور اس کے بعد آگے آئیے تو حضرت حسنؓ کے اور حضرت حسینؓ کے؛ ان کے بیانات پڑھیے، وہی ہیں جو (حق کی) نمائندگی کر رہے ہیں۔

بعد کے جو مُلّا مولوی ہیں، جو بنی امیہ کے ان حاضر باش اور ان کے سرکاری مولوی بن گئے، ان کے دباؤ میں رہے؛ جن میں سب سے بڑے مشہور صحابی اور جن کی 5000 حدیثیں ہیں، ابوہریرہؓ، ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے آدھی حدیثیں "گول" کر دیں۔ اب یہ جملہ برا نہیں لگنا چاہیے۔ وہ خود کہتے ہیں اور بخاری اسے روایت کرتے ہیں کہ "حضورِ پاک علیہ السلام سے میں نے دو خزانے لیے، ایک تو تمہیں بتا دیا، ایک نہیں بتایا؛ اس لیے کہ اگر میں اسے بتا دوں گا تو گردن کاٹ دی جائے گی۔"کون کاٹ دے گا؟ وہ کس دور میں تھے؟

ظاہر ہے کہ اس وقت گردن کاٹنے کی طاقت صرف اور صرف معاویہ کے پاس تھی؛ کیونکہ وہ حاکم تھے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ظالم حکومت تھی، اس کا خوف تھا، اور جو امراء تھے وہ ظالم تھے۔ 

تو انہوں نے حدیثوں کا ایک بڑا ذخیرہ چھوڑ دیا۔ یہ خود ان کا بیان ہے، اب وہ حدیثیں اگر وہ بیان کرتے تو کتنا اچھا ہوتا! جو کام مہدی بعد میں آ کر کریں گے، اسی وقت ہو جاتا۔ تو نبیﷺ نے حدیثیں بیان کی، کسی کو حق ہے کہ حضور کی حدیثوں کو چھپائے؟ حضورﷺ فتنوں اور ملاحم کے بارے میں بتائیں اور پھر اس کے بعد کوئی ٹولہ یہ کہے کہ "اس موضوع کو نہ چھیڑا جائے"، مشاجرات کے بارے میں گفتگو نہ کی جائے؛ یہ دھوکہ ہے، یہ فراڈ ہے، یہ جھوٹ ہے۔"

ثبوت

حضرت ابوہریرہؓ امت کے لیے احادیث کا سب سے بڑا اور مستند ذریعہ ہیں۔ ان پر سرکاری مولوی ہونے اور احادیث چھپانے اور بزدلی کا الزام دراصل دین کی حفاظت اور بنیاد پر سیدھا حملہ ہے جو خالص مستشرقین اور روافض کا حربہ ہے۔ 

4: سلمان ندوی نے سیدنا عمرو بن العاصؓ کو برا بھلا کہنے اور ان پر لعن طعن کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عائشہ ان کے لیے بددعا کرتی تھیں: 

"امام ذہبی اور دیگر محدثین یہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنی نماز میں معاویہ اور عمرو بن عاص کا نام لے کر قنوت نازلہ پڑھتی تھیں بددعا کرتی تھیں۔"

 ثبوت

5: حضرت ابو ہریرہؓ پر تنقید کے سلسلے میں سلمان ندوی نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جو کہ "عذر گناہ بدتر از گناہ" کے قبیل سے ہے، جس میں وہ اپنی پہلی گستاخی پر پردہ ڈالنے کے بجائے مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہؓ کو تو ناصبیوں کے دباؤ میں دکھاتے ہی ہیں، ساتھ ہی فاتح مصر صحابی رسول عمرو بن العاص اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما پر حضرت عائشہؓ کی طرف سے بددعا کیے جانے کا من گھڑت الزام بھی تراشتے ہیں، اور مزید طعن و تشنیع کے نشتر چلاتے ہیں۔

کہتے ہیں: "جو ہمارے عزیز ہیں، ہمارے شاگرد ہیں، ہمارے ساتھی ہیں، ہماری باتیں سنتے ہیں، کوئی بات ہوتی ہے تو ناصبیوں کی، مجرموں اور بدمعاشوں کی پروپیگنڈا مشنری جب متحرک ہوتی ہے تو یہ گھبرا جاتے ہیں، ارے ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا، مولانا آپ نے ایسی کوئی بات کہہ دی، تو بہرحال میں ان کو سمجھاتا ہوں بتاتا ہوں، ذرا تھوڑا سا ٹھہرو۔

ان کے پروپیگنڈا سے متاثر نہ ہو، یہ شیطانی پروپیگنڈا ہے، ناصبی پروپیگنڈا ہے، یہ باغیوں کا پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے نہ ابوبکر کو بخشا، نہ عمر کو، نہ عثمان کو، نہ علی کو، یہ ایسے لوگ ہیں کہ جو حکمرانوں کے پٹھو ہیں، شیطانوں کے ایجنٹ ہیں اور جب کوئی بات ہوتی ہے ادھر جزیرہ عرب میں، کہ اس کو مسخ کیا جاتا ہے اور صہیونی کے اڈے قائم کیے جاتے ہیں، اور عورتوں کا پردہ اتار دیا جاتا ہے اور فحاشی کے اڈے قومِ ثمود اور قومِ لوط کے علاقے میں قائم کیے جاتے ہیں تو یہ اندھے، بہرے، گونگے بن جاتے ہیں۔ یہی مولوی چھوٹے چھوٹے، چھٹ بھئے جو ہیں، یہ اس وقت ایسے بن جاتے ہیں جیسے کوئی واقعہ نہیں پیش آیا۔

صفحہ 3 از 8