صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 2 از 8

بہرحال آج کے درس میں قتلِ خطا اور قتلِ عمد، عمد کہتے ہیں جان بوجھ کر قتل کرنا، اس کا ذکر ہے اور میں نے بتایا کہ ابوبکر صدیق نے صحابہ کو قتل کیا، بے شمار صحابہ کو قتل کیا چونکہ وہ باغی ہو گئے تھے۔ علی نے قتل کیا ان کو جو باغی تھے اور جو باغی تھے انہوں نے صحابہ کو قتل کیا، تابعین کو، اہل بیت کو کیونکہ وہ ظالم اور جہنم کے داعی تھے۔

اور یہ بھی نبیﷺ نے بیان فرمایا تو اب نبی کی باتوں کو نبی کے منہ پہ مارا جائے؟ بدمعاش جو اپنے کو اہل سنت کہتے ہیں۔ سنت کے قاتل، نبی کے قاتل، نبی کے صرف گستاخ نہیں، نبی کا کلیجہ پھاڑنے والے، سینہ چھلنی کرنے والے، وہ *فراڈی اہل سنت جو ناصبی ہی صرف نہیں ہیں، بڑے مجرم، قاتل، جہنمی ہیں۔

 ان کے بارے میں قرآن بھی یہی کہتا ہے، حدیثیں یہ کہتی ہیں لیکن ایک بھیڑ ہے جس کو گمراہ کر دیا گیا ہے۔ پاگلوں کی بھیڑ، مجنونوں کی بھیڑ، منافقوں کی بھیڑ ہے، اس بھیڑ میں کوئی مومن پھنس جائے تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ارے شیطانوں کے مجموعے اور ابلیس کے جتنے بھی تعلق رکھنے والے اس کے شاگرد اور اس کے چیلے چپاٹے ہیں، وہ ایسوں کے خلاف ہوتے ہیں جو نبی کی بات کریں، قرآن کی بات کریں۔

 کیونکہ ان کے نظریات ٹوٹتے ہیں، ان کا نظامِ ابلیسی ٹوٹتا ہے، ان کا نظامِ دجالی ٹوٹتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے دفاع میں وہ اپنی جانیں دیتے ہیں۔ حقائق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور ہر مسلمان کو یہ آیتیں یاد رکھ لینا چاہیے، یاد کر لینا چاہیے تاکہ اس کے علاوہ کوئی بات چلنے نہ پائے۔ قرآن کی بات چلے گی وہی آخری اور قطعی ہوگی۔

ایک مومن کا بھی جو قاتل ہے وہ جہنمی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اور جو صحابہ کا قاتل ہے، اہل بیت کا قاتل ہے، تابعین کا قاتل ہے، اوہو اس سے تو قصاص ہزاروں مرتبہ لیا جائے گا۔ ہزاروں مرتبہ قصاص لیا جائے گا۔ اس کی بوٹی بوٹی کاٹی جائے گی۔ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی سزا دی جائے گی۔ یہ قرآن کہتا ہے کوئی ملا نہیں کہتا، کوئی مفتی نہیں کہتا۔

 تو وہ مفتی جو اس سے ہٹ کر بات کرے۔ وہ ملا جو اس سے ہٹ کر بات کرے۔ خوب یاد رکھو کہ وہ ابلیس کا شاگرد اور شیطان کی اولاد ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔"

ثبوت

سلفِ صالحین اور اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) عادل ہیں۔ حضرت امیر معاویہؓ جلیل القدر صحابی، کاتبِ وحی اور مسلمانوں کے ماموں (خال المؤمنین) ہیں۔ ان کو "اچھوت"، "شودر"، "بدمعاش" اور "خبیث" کہنا صریح رافضیت، ضلالت اور رسول اللہﷺ کی صحبت کی کھلی توہین ہے۔ احادیث کے مفہوم کو مسخ کر کے ایک صحابی کی تذلیل کرنا، اور ان کا دفاع کرنے والے علمائے حق کو "شیطان کی اولاد" اور "درباری مولوی" قرار دینا دراصل خوارج اور سبائیوں کا منہج ہے۔ صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا دراصل دینِ اسلام کی بنیادوں پر حملہ آور ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ ہستیاں ہیں جن کے ذریعے ہم تک دین پہنچا ہے۔

2: ندوی صاحب نے ایک گمراہ اور رافضی ذہنیت کے حامل شخص (حسن بن فرحان مالکی) کی کذب و افترا پر مبنی ایک کتاب کی خوب تعریف کی ہے اور اس کا سہارا لے کر نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ایک من گھڑت اور باطل روایت کا دفاع کرتے ہوئے حضرت امیر معاویہؓ کو نعوذ باللہ "اس امت کا فرعون" قرار دیا ہے۔

کہتے ہیں: "بڑی بحث چلی کہ معاویہ کو فرعون کہہ دیا مولانا نے!

یہ کتاب ذرا دیکھیے: ضخیم کتاب ہے، سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے اور اس کتاب کے لکھنے والے ایک محدثِ جلیل علامہ حسن بن فرحان مالکی ہیں، جو سعودیہ کے ہیں۔

علامہ حسن بن فرحان مالکی کی یہ جو کتاب ہے، اس حدیث پر "معاویہ فرعونُ الأمۃ"، اس میں زبردست تحقیقات کی گئی ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ کم از کم درجے میں حسن ہے۔

انہوں نے اس کے متعدد شواہد بیان کیے ہیں، رجال پر زبردست بحث کی ہے؛ کیونکہ حسن بن فرحان متونِ حدیث پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور اسانید پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور انہوں نے تقابلی مطالعہ بھی کیا ہے۔

اور خاص طور پر چونکہ انہوں نے سلفیوں کی تردید کی ہے، اس لیے ان کے خلاف طوفان اٹھایا گیا، ورنہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جہاں تک تعلق ہے حضرت علیؓ اور اہل بیتؓ کے فضائل کا، اور باغیوں کے جو پہلو ہیں۔ ظالمانہ، جابرانہ، ان کے وہ ایکسپرٹ ہیں، ان کے متخصص ہیں۔

میں طلبہ سے یہ کہوں گا، دارالمحجۃ البیضاء سے یہ کتاب شائع ہوئی ہے، اس کو آپ نیٹ سے نکال سکتے ہیں، اس کتاب کو ضرور پڑھیں اور یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ کم از کم درجے میں حسن ہے۔

اور اس حدیث کے طرق کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، محاکمہ کیا ہے، زبردست بحث کی ہے، محدثانہ بحث کی ہے؛ صرف متکلمانہ بحث نہیں ہے بلکہ محدثانہ بحث ہے۔

اس لیے پڑھنا چاہیے، جو تحقیق ہے اس کو سامنے رکھنا چاہیے، اول فول بکنا اور چیخنا اور چلانا نہیں چاہیے، اب ظاہر ہے کہ جنہوں نے حضرت علیؓ کو گالیاں دیں، جنہوں نے حضرت حسنؓ کو زہر دیا، جنہوں نے حضرت حسینؓ کو شہید کیا، جو ان کے راستے پر چلیں گے، ان سے تو سب کچھ متوقع ہے۔

اور خدا کا عذاب ان پر کب اترے گا یہ تو نہیں معلوم، لیکن جس طرح بنی امیہ پر اللہ کا عذاب آیا اور پھر خراسان کا لشکر تھا، جس نے بنی امیہ کو چن چن کے ختم کیا؛ خراسان کا لشکر۔ یہی خراسان کا لشکر حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے، امام مہدی کے ساتھ ہوگا، جو چن چن کے ناصبیوں کا خاتمہ کریں گے، ان شاء اللہ"

ثبوت

حسن بن فرحان مالکی ایک معروف گمراہ شخص ہے۔ جس کے افکار شیعیت اور اعتزال سے بھرے ہوئے ہیں۔ ایک جلیل القدر صحابی کو "فرعونِ امت" کہنا بدترین بغض کی علامت اور زندیقیت ہے۔ سلف کے نزدیک جو شخص صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرے وہ گمراہ، زندیق اور بدعتی ہے۔ ایسی باطل اور مردود روایات کو "حسن" یا "صحیح" قرار دے کر ان کی ترویج کرنا، اور سلفی علماء کی تردید پر خوش ہونا اس بات کا غماز ہے کہ یہ شخص علمی دیانت سے مکمل عاری اور ایرانی و سبائی ایجنڈے کا پیروکار ہے۔

صفحہ 2 از 8