اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ - ردِ…

اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ

  مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

صفحہ 3 از 3

ہم دعویٰ کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ سیدنا علی، سیدنا حسن، سیدنا حسین، رضی اللہ عنہم اور علی زین العابدینؒ وغیرہ جو شیعہ کے ہاں ائمہ اہل بیت، معصوم عن الخطاء شمار ہوتے ہیں، ان سے صحیح سند کے ساتھ تو کیا ضعیف سند کے ساتھ بھی ان کلمات کا اذان میں کہنا ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سیدنا علیؓ کے زمانے میں بھی نماز کے لیے اذان دی جاتی تھی تو کیا سیدنا علیؓ نے یہ کلمات اذان میں کہلوائے تھے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ اذان میں یہ کلمات نہیں کہتے ان کو سیدنا علیؓ اور ائمہ اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ یہ بات سراسر غلط ہے، اگر محبت کی یہ علامت ہے کہ جس کے ساتھ محبت ہو اس کا نام اذان میں لیا جائے تو ان حضرات کو سیدہ فاطمہؓ اور ان کی تمام اولاد، اسی طرح ان کے مزعومہ بارہ امام اور ان کی اولاد کے نام بھی اذان میں لینے چاہئیں تاکہ کھل کر محبت کا اظہار ہو اور اگر اس طرح اذان شروع کر دی جائے تو ہو سکتا ہے چوبیس (24) گھنٹوں میں اذان بھی مکمل نہ ہو اور نماز کا وقت ہی نہ ملے۔ اوپر شیعہ مجتہدین سے صراحت کے ساتھ نقل کر دیا ہے کہ جو بات امر واقع میں درست ثابت ہو، اسے اذان میں اپنی طرف سے داخل کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اذان کے کلمات اللہ اور اس کے رسولﷺ سے منقول ہیں اور متعین ہیں، ان میں اضافہ کرنا اپنے آپ کو لعنت کا حق دار بنانے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو سنتِ نبوی پر عمل کی کماحقہ توفیق عنایت فرمائے۔


صفحہ 3 از 3