اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ - ردِ…

اذان میں اشهد ان امير المؤمنين على ولي الله کا اضافہ

  مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

صفحہ 2 از 3

ابن بابویہ قمی شیعہ محدث کی اس صراحت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اشهد أن عليا ولي الله وغیرہ کلمات اصل اذان کے کلمات نہیں بلکہ اس لعنتی فرقہ مفوضہ نے یہ گھڑے ہیں اور اذان میں داخل کر دیے ہیں۔ ائمہ محدثین کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں۔ الفقیہ من لا یحضرہ الفقیہ: جلد 1 صفحہ 188) کے حاشیہ میں مفوضہ فرقے کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے:

 فرقة ضالة قالك بأن الله خلق محمدا و فوض إليه خلق الدنيا فهو الخلاق و قيل بل فوض ذلك إلى على عليه السلام

مقوضہ ایک گمراہ فرقہ ہے۔ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف محمد (ﷺ) کو پیدا کیا، اس کے بعد دنیا کی پیدائش کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کے سپرد کر دیا۔ لہٰذا آپ ہی خلاق (بہت زیادہ پیدا کرنے والے) ہوئے اور ان کے عقائد کر میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدائش کا معاملہ نبی کریمﷺ کی بجائے سیدنا علیؓ کے سپرد کر دیا۔ “مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ مفوضہ ایک لعنتی فرقہ ہے، جس نے یہ کلمات اذان میں بڑھائے ہیں، سنت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ شیعہ مذہب کی معتبر کتاب ”المبسوط: جلد 1 صفحہ 99)“ طبع تہران، لأبی جعفر بن محمد حسین الطوسی میں لکھا ہے:

 فَاَمَّا قَوْلُ اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَآلُ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ عَلٰي مَا وَرَدَ فِيْ شَوَاذِّ الْأَخْبَارِ فَلَيْسَ بِمَعْمُوْلٍ عَلَيْهِ فِي الْأَذَانِ وَلَوْ فَعَلَهُ الْاِنْسَانُ يَأْثَمُ بِهِ غَيْرَ اَنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَضِيْلَةِ الْأَذَانِ وَلَا كَمَالِ فُصُوْلِه 

”بہرحال اذان میں اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَآلَ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةَ کہنا جیسا کہ شاذ روایات میں آیا ہے، ان کے کہنے پر کوئی کاربند نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اذان میں یہ کلمات کہے تو وہ گناہ گار ہو گا، علاوہ ازیں یہ کلمات اذان کی فضیلت اور کمال میں سے نہیں ہیں۔''

اسی طرح شیعہ مذہب کی معتبر کتاب ”اللمعۃ الدمشقیۃ: جلد 1 صفحہ 240)“ میں لکھا ہے:

”مذکورہ اذان (جو اہل سنت کے مطابق ہے ) یہی شرع میں منقول ہے۔ اس کے علاوہ زائد کلمات کا شرعی طور پر درست سمجھنا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ اذان کے اندر ہوں یا اقامت میں۔

جیسا کہ سیدنا علیؓ کی ولایت کی گواہی کے الفاظ اور محمد و آل محمد کے خیر البریہ یا خیر البشر ہونے کے الفاظ ہیں۔ 

اگرچہ جو کچھ ان الفاظ میں کہا گیا ہے وہ واقعی درست ہے (یعنی سیدنا علیؓ کا ولی اللہ ہونا اور محمد و آل محمد کا بہترین مخلوق ہونا) لیکن ہر وہ بات جو واقعتاً درست اور حق ہے، اسے ایسی عبادات میں داخل کر لینا جو شرعی وظیفہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حد بندی کی گئی ہو، جائز نہیں ہو جاتا۔ لہٰذا ان کلمات کا اذان میں کہنا بدعت ہے اور ایک نئی شریعت بنانا ہے۔''

اسی طرح شیعہ حضرات کی کتاب ”فقہ امام جعفر صادق لمحمد جواد: جلد 1 صفحہ 166)“ طبع ایران میں لکھا ہے:

 وَاتَّفَقُوْا جَمِيْعًا عَلٰي اَنَّ قَوْلَ اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ لَيْسَ مِنْ فُصُوْلِ الْأَذَانِ وَاَجْزَائِهِ وَاَنَّ مَنْ اَتٰي بِنِيَّةِ اَنَّهُ مِنَ الْأَذَانِ فَقَدْ اَبْدَعَ فِي الدِّيْنِ وَاَدْخَلَ فِيْهِ مَا هُوَ خَارِجٌ عَنْهُ 

”سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ کلمات اذان اور اس کے اجزاء میں سے نہیں ہیں، اور اس پر بھی کہ جو شخص ان الفاظ کو اس نیت سے کہتا ہے کہ یہ بھی اذان میں شامل ہیں تو اس نے دین میں بدعت نکالی اور وہ بات دین میں داخل کر دی جو اس سے خارج تھی۔"

اسی طرح شیعہ محدث و مفسر شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن الطّوسی نے اپنے فتاویٰ ”النھایۃ فی مجرد الفقہ والفتاویٰ (69)“ طبع قم، ایران میں لکھا ہے:

 وَاَمَّا مَا رُوِيَ فِيْ شَوَاذِّ الْاَخْبَارِ مِنْ قَوْلِ ”اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ وَآلَ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ “ فَمِمَّا لَا يُعْمَلُ عَلَيْهِ فِي الْاَذَانِ وَالْاِقَامَةِ فَمَنْ عَمِلَ بِهَا كَانَ مُخْطِئًا

شاذ روایات میں جو یہ قول مروی ہے: اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللهِ وَآلَ مُحَمَّدٍ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ یہ ان کلمات میں سے ہے جن پر اذان اور اقامت میں عمل نہیں کیا جاتا، جس شخص نے اس پر عمل کیا وہ غلطی پر ہے۔" 

مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اذان کے کلمات شعائر اسلام میں سے ہیں اور یہ اللہ کے رسولﷺ نے مقرر کیے ہیں۔ کسی شخص کو ان میں نہ اضافہ کرنے کی اجازت ہے اور نہ کمی کی۔ جو شخص اذان میں اضافہ یا کمی کرتا ہے، وہ بدعتی ہے اور موجب لعنت ہے۔

فقہ جعفریہ کی امہات الکتب میں بھی یہی اذان جو اہل سنت کے ہاں مشروع ہے، نقل کی گئی ہے سوائے حَيَّ عَلٰي خَيْرِ الْعَمَلِ کے اور فقہ جعفریہ کی رو سے اَشْهَدُ اَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّٰہ   کے کلمات کا اذان میں درج کرنا گناہ ہے اور بدعت ہے بلکہ یہ الفاظ لعنتی فرقہ مفوضہ نے گھڑے ہیں اور اذان میں داخل کر دیے ہیں۔ حالانکہ یہ کلمات اذان میں شامل نہیں ہیں۔

صفحہ 2 از 3