شیعہ مذہب کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ اقتدار اور باغ فدک کے لئے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گدھی پر بٹھا کر گھماتا رہا معاذاللہ
علیانشیعہ مذہب کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ اقتدار اور باغ فدک کے لئے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو گدھی پر بٹھا کر گھماتا رہا معاذاللہ
پھر وہ (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا) غصے کی حالت میں کھڑی ہوئیں اور فرمایا: اے اللہ! ان دونوں نے تیرے نبی کی بیٹی کا حق مارا ہے، پس تو ان پر اپنی پکڑ سخت کر دے۔ پھر وہ نکلیں اور حضرت علی (علیہ السلام) نے انہیں ایک مادہ گدھی پر سوار کیا جس پر اونی کپڑے کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ حضرت علی انہیں لے کر چالیس دن تک صبح کے وقت مہاجرین اور انصار کے گھروں پر جاتے رہے۔ حسن اور حسین (علیہما السلام) بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے اور وہ (حضرت فاطمہ) فرماتی تھیں: ''اے گروہِ مہاجرین و انصار! اللہ کی اور اپنے نبی کی بیٹی کی مدد کرو۔ تم نے رسول اللہﷺ سے جس دن بیعت کی تھی، اس دن یہ عہد کیا تھا کہ تم ان کی اور ان کی اولاد کی اس طرح حفاظت کرو گے جیسے تم اپنی اور اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہو۔ پس رسول اللہﷺ سے کیا ہوا اپنا بیعت کا عہد پورا کرو۔''
(راوی) کہتا ہے کہ: کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی، نہ کسی نے (ان کی پکار کا) جواب دیا اور نہ ہی کسی نے نصرت کی۔"
(الاختصاص صفحہ 181)
(بحارالانوار: جلد 29 صفحہ 191)