ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44) - سنی…

ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44)

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 4

 امر واقعہ یہ ہے کہ امام المحدثین، امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی تعدیل و توصیف سے اسماء الرجال کی کتب بھری پڑی ہیں۔ اب اس قدر جلیل القدر امام زہری رحمہ اللہ کے معاصر فقہاء، محدثین اور ائمہ کی شہادت امام زہری رحمہ اللہ کے حق میں ہم رد کر دیں اور مستشرقین اور آج کے ان جدید محققین یا متجددین کی قبول کر لیں جو تیرہ صدیوں بعد ان کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنا رہے،الغرض و قصہ مختصر اہلبیت علیہم السلام کا موقف یہی تھا کہ جاگیر فدک ان کی میراث تھا۔(سو باتوں کی ایک بات قرآن سے نبیوں کے گمان کا غلط ہونا ثابت ہے۔ جب معصوم کا گمان غلط ہونا ممکن ہے اور معیوب نہیں تو غیر معصوم راویوں کا گمان سو فیصد درست کیسے ممکن ہے؟ اور معیوب کیوں؟ دوسری بات میراث نبویﷺ سے 9   ازاج مطہرات اور چچا حضرت عباس  کس دلیل سے خارج ہیں؟)

خلفاء سے یہ معاملہ بھی کم از کم مس ہینڈل ہوا ہے۔ (نبیﷺ پر عمل کرنا شیعہ کے نزدیک مس ہینڈل ہونا ہے۔ اللہ کی پناہ) خلفاء اور اہلبیت آپس میں اس معاملے میں بھی سخت مخالفت  رکھتے ہیں۔ (ہرگز نہیں۔ کئی دلائل ہیں۔ کچھ اس مناظرے میں زیربحث آچکے ہیں۔)میں شیعہ مناظر جناب محمد دلشاد کو وکالت جناب سیدہ سلام اللہ علییا پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اہلسنت بھائیوں سے خو کو قبول کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔

نامعلوم ممبر: میں دونوں مناظر صاحبان کو مبارک باد کا مستحق قرار دونگا انہوں نے مستند روایات و علوم سے لاعلم اور بھٹکے ہوۓ لوگوں پہ حقیقت کو واضح کیا جو پرائمری اور مڈل کلاسوں سے بھاگے ہوۓ مولویوں کی چالاکیوں میں آکے اپنی آخرت تباہ کر رہے تھے اور ایسے مولوی تو پیٹ کی خاطر شیعہ سنی فسادات برپا کرواتے ہیں,میں دلشاد صاحب کی بجاۓ ممتاز صاحب کی کاوش کو زیادہ داد دونگا جنہوں نے اپنی مستند کتابوں سے  یہ بات تو واضح کردی کہ شیخین سے بی بی س ناراض تھیں تو وہ بی بی س کے دروازے پہ  معافی کیلیے آئے ۔

(اس واقعے پر سیدہ کی رنجش کی فکر کرنا ، سیدہ کی عیادت کرنا، دلجوئی کرنا بھی شیخین کے ایمان کی علامت   ہے۔جسے آخرت کی فکر ہوگی وہی ایسے عمل کرے گا۔لیکن شیعہ تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ جو ناپسند ہو اس کے اچھے کام بھی ناپسند ہی ہوتے ہیں۔)

ان کو یہ تو پتہ تھا نہ کہ سند رسول ص کے ٹکڑے کرنا,بی بی س کا گھر جلانا بی بی کو زخمی کرنا ان کی آخرت کیلیے کیا ثابت ہوگا  (پتہ بھی  تھا اور پھر یہ سب کیا بھی!! کیا یہ ممکن ہے؟ یہ سب مشہور تاریخی افسانے ہیں برادر۔ تحقیق کریں)

اب بیچارے ممتاز صاحب اس سے زیادہ اور کیا سچ بولتے,انہوں نے گھر بار بھی تو چلانا ہے اپنے اور اپنے بچوں کے  پیٹ کے بارے میں بھی تو سوچنا تھا،انہوں نے یہی سوچ کے اشاروں میں ہی بی بی س کے دروازے پہ معافی کیلیے شیخین کا آنا بتایا ہے کہ عقل مند کیلیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔(اہل سنت اشاروں میں نہیں کہتے۔ اوپر گفتگو دوبارہ پڑھیں۔ جو مؤقف بیان کیا ہے دوٹوک بیان کیا ہے۔ یہ لگی لپٹی مجھے نہیں آتی۔ میں لفظوں کا غلام نہیں ہوں۔ لفظ میرے غلام ہیں۔ اپنا مؤقف الفاظ بدل بدل کر بھی بیان کرنے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ الحمدلللہ)

 عقل والوں کی ہی اہلیبیت ع کو ضرورت ہے حق انہوں نے واضح کردیا ہے،اب سمجھنا عقل والوں نے ہے  ہمیں پوری امید ہے وہ دن دور نہیں  ممتاز صاحب بھی جلد حق کی حمایت میں کھل کےآجائیں گے۔

(شیعیت پر میرے بیشمار اشکالات ہیں۔ جس مسلک کی بنیاد ہی نہ ہو اس کی حمایت کم عقل، اندھا، بہرا کر سکتا ہے۔  منصف مزاج ذہن کبھی بھی شیعیت کی تائید نہیں کرے گا۔صرف  نام سے اہل بیت کی محبت کا دعویٰ کافی نہیں ہے۔ سیرت اہل بیت  پر عمل کرنا لازمی ہے۔)

     علی: سلام علیکم یا علی مدد د میں بہت بہت مبارک پیش کرتا ہوں قبلہ   محمد دلشاد  کو جنہوں نے دختر رسول بیبی خاتوں جنت ۔سیدہ النسا العالمین  کے دفاع میں بہت ہی مضبوط دلیل دیے ۔

اہل سنت مناظر کو اس نکتے پر بات کرنے کو آمادہ کیا گیا تھا کے ۔بی بی سلام اللہ علیہا ناراضگی کی حالت میں شیخین  سے اس دنیا سے رحلت فرما گئیں ۔تو ممتاز کو چاہیے تھا کہ اس کے رد میں کوئی دلیل دیتا بجائے اس کے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا اور کہا کی میراث کا حق نہیں تھا  سیدہ کا  اور زہری کی بات کو گمان  کا نام دے کر اہل سنت کے مذہب کو ذلیل کروایا اگر آپ کی زہری کی یہ بات جو بی بی سلام اللہ علیہا کے حق میں ہے یہ گمان ہے تو وہ جو حضرت  عائشہ سے روایت نقل ہوئی اس پر آپ جواب کیوں نہیں دے رہے تھے ۔(یہ مشورہ اپنے مناظر کے دینا تھا کہ نمبر ڈال کر سوال پوچھے گئے تو جواب ترتیب سے دینے میں کتنی دیر لگتی ہے، دع دیتے۔ لمبی تحریریں لکھنے کا وقت تھا، اصل نکات لکھنے کا وقت نہیں تھا۔) ممتاز ابن تیمیہ اور آصف اشرف دجالالی جیسی حرکت کر گیا لیکن یہ منہ پر نہیں لایا ورنہ اس کا مقصد وہی تھا کے بیبی معاذ اللہ خطاء پر تھی ۔ (حضرت موسی و حضرت ھارون دونوں نبی تھے۔ بنص قرآن دونوں میں سخت اختلاف، جھگڑا  بلکہ ہاتھا پائی بھی ہوگئی! آپ کے خیال میں  دونوں میں سے کون حق پر تھا؟ سوچئے گا ضرور!شیعہ منطق کے مطابق  ہر معاملہ ، ہر اختلاف، ہر لڑائی  حق و باطل کے بیچ ہوتی ہے تو  اس اعتراض  کا جواب قیامت تک آپ نہیں دے سکتے!اگر اہل سنت منطق قبول کریں گے تو  جواب دینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔ یہی حق ہے محترم!)اور یہ کہتا رہا کہ  ممتاز صاحب آپ خود کو بچانے کے چکر میں دختر رسول کو جھٹلا رہے تھے آپ کل رسول کو کیا منہ دکھاؤ گے روز محشر رسول اکرم  آپسے  سوال کریں گے کہ آپ نے میرے جگر کے ٹکڑے کے ساتھ کیا وفا کی  (سیدہ فاطمہ کو کسی نے نہیں جھٹلایا، نبیﷺ کا فیصلہ سنانا جھٹلانا نہیں ہوتا۔شیعہ روز محشر نبیﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ جو قول متفقہ بین الفریقین ہے اس پر عمل نہ  کرکے   ایسا عقیدہ کیوں بنالیا جس سے خاتون جنت کی شان و عظمت پر حرف آتا ہے!)زهری کا گمان آپ نے بیبی کی وجہ سے لے لیا نہ ورنہ  بخاری نے تو نہیں لکھا گمان آپ اپنی طرف سے کیوں گمان کو لا رہے ہیں ؟ آپ گمان کا رٹہ لگا کر باقی آپکے امام و اكابر کو بھی پیچھے چھوڑ گے  (مناظرہ دوبارہ پڑھئے گا)وسلام


صفحہ 4 از 4