ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44) - سنی…

ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4

و عندی ما أدرج لتفسیر غریب لا یمنع ولذلک فعلہ الزھری و غیر واحد من الأئمة

''اور میرے نزدیک کسی غریب لفظ کی تشریح کے لیے جو ادراج کیا جائے  وہ ممنوع نہیں ،اس کے پیش نظر  امام زہری اور دوسرے ائمۂ حدیث نے  ادراج کی اس صورت کو استعمال کیا ہے

(تدریب الراوی : جلد١' ص٢٣١)

  (ادراج کو ممنوع کس نے کہا؟ روایات میں کسی راوی کی طرف سے ادراج کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ  وہ بات مکمل سمجھائی جا سکے یا درست پسمنظر پہنچ سکے۔ ادراج درست بھی ہوسکتے  ہیں اور غلط بھی۔ )

پس   امام زہری کی اس روایت کو بالفرض ادراج مان بھی لیں تو امام زہری امی عائشہ کی حدیث کی شرح کر رہے ہہں. تاکہ قاری کو حدیث کی صحیح سمجھ حاصل ہوجائے۔ (بالکل درست فرمایا۔ امام زہری کا ارادہ یہی تھا، لیکن جو تین گمان اس نے بیان کئے وہ تینوں دیگر سنی و شیعہ روایات سے غلط ثابت ہوتے ہیں اس سے واضح ہوا کہ وہ حقائق ان کے علم میں نہیں تھے۔ کسی بات کا علم نہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے، اس نے وہی مفہوم سمجھا  اور سمجھایا جو عام طور پر ایسی صورتحال میں ممکن ہوسکتا ہے، لیکن ہم اگر واقعے پر غور و فکر کریں تو سیدہ فاطمہ کی شان کے خلاف ہے کہ اپنے والد نبیﷺ کا فیصلہ سن کر بھی شدید ناراضگی اور غصہ کیا ہو۔)

پس صحیحین اور دیگر معتبر کتب و احادیث صحاح میں ناراضگی فاطمہ س  ثابت تھی ترک تعلق بھی ثابت تھا .

بعد میں رضایت مل جابے والی بات بھی مرسل اور مدلس راوی سے ہے اور علماء جرح و تعدیل کے اصول کے خلاف بھی ہے اور قرین عقل بھی یہی ہے کہ الیقین لا یزول بالشک۔یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ہے

  اس کے علاوہ امام زہری کے مقابلے میں ویسے بھی شعبی کی مرسل روایت کی اتنی حیثیت نییں بنتی. امام زہری 2200 سے زائد روایات کا راوی کدھر اور شعبی کی ارسال شدہ مدلس روایت کدھر۔(مقابلہ راوی کی صحیح روایت سے نہیں ہے بلکہ مقابلہ راوی کے ایسے گمان سے ہے جو دیگر قرائن کی موجودگی میں درست نہیں ہے)

اہلسنت مناظر نے امام زہری کی شخصیت کو مجروح کرنے کیلئے ایسے پیش کرنے کوشش کی کہ جیسے یہ ادراج( بمعنی گمان ھھھھ) کرنے میں مشہور تھے۔ذیل میں چند بزرگ تابعین علماء متقدمین و متاخرین کے اقوال پیش کرتے ہیں. جس کی طرف شیعہ مناظر بار بار متوجہ کرانے کی کوشش کرتے رہے. (امام زہری کی شخصیت کیسے مجروح ہو رہی ہے؟ اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا، اپنا اندازہ بیان کیا۔)

 امام زہری ائمہ جرح و تعدیل، ائمہ محدثین اور ائمہ فقہاء اور ان کے معاصر علماء کی نظر میں  :

علماء جرح وتعدیل نے آپ کا تذکرہ خیر کے ساتھ کیا ہے آپ کی زندگی کا کوئی ایسا باب نہیں ہے جس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔حافظ ابن حجر :’فقیہ اورالحافظ‘ ہیں‘ ان کی بزرگی اور حافظے کی پختگی پر محدثین کا اتفاق ہے‘‘۔۔

(تقریب التہذیب:۵۰۶، رقم:۶۲۹۶)

حضرت عمر بن عبد العزیز نے کہا ہے: تم ابن شہاب کو لازمی پکڑو کیونکہ گزری ہوئی سنن کے بارے میں ان سے بڑھ کر کوئی جاننے والا نہیں  ہے۔‘‘

معروف تابعی قتادہ رحمہ اللہ ( متوفی ۱۰۹ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’گزشتہ سنن کے بارے میں ابن شہاب سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی بھی باقی نہیں رہا۔‘

تابعی مکحو ل رحمہ اللہ (متوفی ۱۰۹ھ) فرماتے ہیں:

’’زمین کی پشت پر گزری ہوئی سنت کے بارے میں زہری رحمہ اللہ سے بڑھ کر کوئی عالم باقی نہیں رہا ہے۔‘‘

امام مالک رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ابن شہاب باقی رہ گئے اور ان کی کوئی مثال اس دنیا میں نہیں ہے۔‘‘

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’لوگوں میں حدیث کے اعتبار سے سب سے بہتر اور سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ ہیں۔‘‘

امام لیث بن سعد (متوفی ۱۷۵ھ) فرماتے ہیں: ’’میں نے ابن شہاب زہری سے زیادہ جامع العلوم کسی عالم کو نہیں دیکھا ۔‘‘

امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھنے والوں میں سب سے زیادہ ’ثابت‘ امام زہری ہیں ۔‘‘

امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کسی ایک کے پاس بھی وہ علم نہیں رہا جو ابن شہاب کے پاس ہے۔ ‘‘

سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وہ تو علم کا ایک سمندر ہے ‘‘۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام زہری اہل مدینہ میں سب سے بڑے عالم ہیں۔‘‘

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سب سے بہتر اسناد جو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں وہ چار ہیں: امام زہری، حضرت علی بن حسین سے، وہ حسین بن علی سے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے اوروہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور امام زہری رحمہ اللہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔‘‘

امام ابن حبان رحمہ اللہ لکھتے ہیں: “انھوں نے دس صحابہ کی زیارت کی ہے اور اپنے زمانے کے سب سے بڑے حدیث کے حافظ تھے اور احادیث کے متون کو بیان کرنے میں سب سے اچھے تھے اور فقیہہ اور فاضل تھے۔ ‘‘

امام احمد العجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “تابعی اور ثقہ تھے”۔

امام ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’محمد بن مسلم الزہری ’الحافظ‘ اور ’الحجۃ‘ ہیں۔ ‘‘

ابو ایوب سختیانی رحمہ اللہ (متوفی ۱۳۱ھ) فرماتے ہیں: ’’میں نے ان سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

ابو بکر الھذلی رحمہ اللہ (متوفی ۱۶۷ھ) فرماتے ہیں: ’’میں حسن بصری اور ابن سیرین رحمہما اللہ کے ساتھ بیٹھا، لیکن میں نے زہری رحمہ اللہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا‘‘۔

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام دارمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ زہری آپ کو سعید بن مسیب سے زیادہ محبوب ہے یا قتادہ؟ تو انھوں نے کہا دونوں، تو میں نے پھر کہا کہ وہ دونوں آپ کو زیادہ محبوب ہیں یا یحییٰ بن سعید؟ تو یحییٰ بن معین نے کہا: یہ سب ثقہ راوی ہیں ۔‘‘

امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’حدیث کا علم اُمت محمد میں چھ افراد نے محفوظ کیا: اہل مکہ میں سے عمرو بن دینار  نے اور اہل مدینہ میں ابن شہاب الزہری نے۔‘‘

(حوالہ فکرِغامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ ازحافظ محمد زبیر)

صفحہ 3 از 4