ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44) - سنی…

ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 4

اور گرم توے میں ایک اور صحیح حدیث قالت عائشہ سے ناراضگی پر ٹھپہ لگا کر اہلسنت مناظر کے اوسان خطا کردیئے،جس کی تاب نہ لاکر موصوف نے جمعہ تک کا وقت مانگ لیا لیکن جب شیعہ مناظر جب جواب لکھنے لگے تو شیعہ مناظر کو  مداخلت کرکے روک نے کی کوشش کرتے رہے۔ (پتہ نہیں کیسی کیسی باتیں آپ لوگ کر لیتے ہو۔ سب  شیعہ مناظر ایک جیسے ہو!اوپر گفتگو پڑھیں۔ مجھے وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے)

جب باز نہ آئے تو شیعہ مناظر نے آدھا گھنٹہ کیلئے ایڈمن شپ سے ہٹانے کا اعلان کردیا،یہ آدھ گھنٹہ بجلی کی طرح اہلسنت مناظر پر گرا اور گروپ چھوڑ کر لفٹ کرگئے۔ (کیا میں لاکڈ گروپ میں فریق مخالف کی کاپی پیسٹ تحریریں پڑھتا رہتا، جبکہ نکتے پر موصوف جواب دینے سے عاجز ہوچکے تھے۔آپ اللہ کو حاضر ناضر سمجھ کر بتائیں کہ میری جگہ آپ سے یہ ہوتا   کہ فریق مخالف گروپ لاک کر کے من مانی کرتا تو آپ کا کیا ردعمل ہوتا؟)

کچھ دیر بعد واپس گروپ میں تشریف لائے اور اپنے لفٹ ہونے کو احتجاجی علامت قرار دیا ۔(جب بتایا گیا کہ آپ کے مناظر تو  فتح کا جشن منا رہے ہیں تو مجھے آنا پڑا۔ پھر جو حال اس کا ہوا وہ سب کے سامنے ہے)

 شعبی کی مرسل روایت جو کہ صحیح روایات کے معارض تھیں۔اس کے متعلق شیعہ مناظر نے شاہد کے طور پر متقدمین اور متاخرین علماء رجال میں  سے تین اقوال پیش کئے ۔امام  حافظ زہبی  سے امام حجر  عسقلانی سے  اور آلبانی سے کہ شعبی کی مرسل روایت صحیح قرار دینا سہل انگاری  اور اصول حدیث کے برخلاف ہے چونکہ یہ قول عجلی کا تھا ان کو متساهل قرار دیکر مسترد کردیا۔یوں شعبی والی مرسل روایت خود محدثین اہلسنت نے قبول نہیں کی۔ (اس پر تفصیل اوپر موجود ہے ویسے دلشاد صاحب کا وہ جواب پڑھ لیجئے گا جب باقر مجلسی کا دفاع کرتے ہوئے شیعہ صحیح  روایت اور راویوں کی ایسی تیسی  کر رہا تھا۔)

 محدثین اہلسنت کی کثیر جماعت کا یہی عقیدہ تھا اور ہے کہ صحیحین کی روایات درست ہیں جناب زہرا س ناراض ہوکر دنیا سے گزرگئی اور ابوبکر سے ترک کلام کیا الیقین لا یزول بالشک۔یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ہے۔آپ صحیح احادیث کو رد کرنے کیلئے  مرسل اور مدلس روایت سے کیسے استدلال کرسکتے ہیں۔(ایک طرف صحیح روایت میں سیدہ کی ناراضگی کا گمان صرف ایک راوی سے اور وہ بھی خود سیدہ کے الفاظ سے نہیں !! اس پر شیعہ کو اتنا یقین کہ باقی قرائن و سنی و شیعہ روایات مسترد، چاہے سیدہ کی شان بھی مجروح ہوتی رہے!! بس شیعہ  مسلک کی جیت ہونی چاہیئے! اللہ کی پناہ)

اس کے علاوہ شاہد کے طور پر شیعہ مناظر نے ترمزی شریف اور مصنف سمیت کئی کتب سے روایات پیش کی جو ناقابل تردید تھیں۔ (بس روایات کافی ہوتی ہیں۔ استدلال پیش کیا تھا؟ کاپی پیسٹ کرنے سے کوئی مناظر نہیں بن جاتا)

اس دفعہ اہلسنت مناظر نے اپنے اسلاف پر انٹرنیٹ اور جدید سہولیات نہ ہونے کی بنا پر کم علمی اور احادیث تک رسائی نہ حاصل کرسکنے والے قرار دے کر خود کو جدید دور کا ماڈرن سنی قرار دیا اور علماء سلف کے عقیدے کو مسترد  کردیا البتہ ان کیلئے دعا بھی کی۔(وقت گذرنے کے ساتھ وسائل میں اضافہ اور سہولتیں میسر ہوتی ہیں ، کیا آپ انکار کرتے ہیں؟ قرآن کے سافٹ ویئر میں عربی یا اردو کا ایک لفظ لکھیں آپ کو  ان آیات اور تفاسیر کی فہرست سیکنڈوں میں مل جائے جن میں وہ لفظ موجود ہوگا، کیا زمانہ قدیم میں یہ سہولت تھی؟۔ اگر وسائل نہ ہوں تو اس سے کم علمی کیسے ثابت ہوگئی؟کہاں کی بات کہاں فٹ کر رہے ہیں۔ بس مخالفت کرنی ہے، چاہےکیسے بھی ہو!)

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی شیعہ مناظر نے جناب صدیقہ کبری س کے دفاع اور مولا علی ع کی جناب فاطمہ کے مطالبے پر ڈٹ جانے کو صحیح مسلم اور بخاری سے احادیث دیں کہ مولا علی ع ابوبکر کی زندگی میں ان کے فیصلے کو خیانت دھوکہ دہی جھوٹ اور افترا سمجھتے رہے ییاں تک کہ حضرت عمر کی حکومت میں عمر سے بھی میراث فاطمہ س کا مطالبہ کرتے رہے جب حضرت عمر سے میراث فاطمہ س کا مطالبہ کیا تو حضرت عنر نے کہا تم علی اور عباس نے اس وقت ابوبکر کو جھوٹا خائن غدار سمجھا آج مجھے بھی خائن اور غدار جھوٹا سمجھتے ہو.  (شیعہ مناظر دلشاد نے فرار اختیار کیوں کیا؟ میں نے شرائط اور وہ نکات بھی لکھ کر دے دئے کہ آپ لوگ آرام سے جواب لکھ کر ان تک پہنچائیں پھر بھی بھاگ کھڑا ہوا۔ آخر کیوں؟ یہ مؤقف ایک جھٹکے کی مار ہے۔ دلشاد سمجھ گیا کہ میں اس کیسے زیر کروں گا۔اس لئے  ٹائیں ٹائیں فش)

ان صریح روایات سے شیعہ مناظر نے کمال علمی نکات بتائیں اور موقف اہلبیت کتب اہلسنت سے ثابت کیا

اور زہری کے گمان کہنے والوں کو آئینہ دکھایا۔معاملہ ختم ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو امام مسلم اور بخاری کی صحیحین سے حضرت علی کا احتجاج  حضرت عمر کا اعتراف حضرت عائشہ کی احادیث ان پر کم از کن بیس سے زائد   دلائل دے کر سنی مناظر کے منہ پر کالک مل دی۔( سوائے آپ لوگوں کی لمبی تحریروں کے اس بندے کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک موقعہ پر اسے کہا کہ یہ اتنی ساری روایات بھیج دی ہیں، ذرا  چند جملے لکھ کریہ تو بتائیں کہ ان سے آپ  ثابت کیا کر رہے ہیں تو موصوف کی سیٹی گم! اب ایسے ایسے کاپی پیسٹر بھی مناظر بن گئے ہیں۔ اللہ کی شان ہے!)

سچ کہتے ہیں جب انسان اپنے سلف علماء کے عقیدے اور ٹھوس دلائل کو یہ کہکر رد کردیں کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نہیں تھے. اور ان تک احادیث پہنچی نہیں تھیں ہم کمپیوٹر اور جدید آلات سے لیس ہیں ہم تک حدیثیں پہنچی ہیں اور سلف کا عقیدہ درست کرنے نکلے ہیں  تو طرف مقابل ایسے ہی کالک مل دیتا ہے۔(جو لوگ صحیح احادیث کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ ہم چھوٹے لوگوں کی باتیں کیا سمجھیں گے۔وہ بات کس تناظر میں کہی گئی اسے تھوڑی سمجھنا ہے، بس جم کے مخالفت کرنی ہے۔ )

شیعہ مناظر نے ایک اور نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بالفرض اگر امام زہری کی روایت کو اندراج قبول کرلیا جائے تب بھی اندراج کا معنی گمان نہیں ہوتا. کیونکہ جن علماء نے ادراج کی نسبت دی  ان کے نزدیک بھی ادراج سے مراد شرح حديث ہے. نہ کہ گمان بافتی. چنانچہ امام سیوطی لکھتے ہیں :

صفحہ 2 از 4