Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

32 ہجری اہل کوفہ اور اہل شام میں پہلا اختلاف

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے جامِ شہادت نوش کر لیا تو سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس شاخ کا امیر سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کی مدد کے لیے اہلِ شام کو سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ کیا، وہاں حضرت سلمان و حضرت حبیب رضی اللہ عنہما کے درمیان امارت کے سلسلہ میں اختلاف رونما ہوا، شامیوں نے کہا ہمارا ارادہ ہوا کہ ہم حضرت سلمانؓ کو قتل کر دیں، لوگوں نے کہا: ایسی صورت میں ہم سیدنا حبیبؓ کو قتل یا قید کر دیں گے، اور اگر تم لوگ نہیں مانتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان مقتولین کی تعداد بھاری ہو گی، چنانچہ اس مناسبت سے کوفیوں میں سے اوس بن مغراء نے کہا:

ان تضربوا سلمان نضرب حبیبکم

و ان ترحلوا نحو ابن عفان نرحل

ترجمہ: اگر تم حضرت سلمانؓ کو قتل کرو گے تو ہم تمہارے سیدنا حبیبؓ کو قتل کر دیں گے، اور اگر تم سیدنا عثمان بن عفانؓ کے پاس پہنچو گے تو ہم بھی ان کے پاس پہنچیں گے۔

وان تقسطوا فالثغر ثغر امیرنا

وہذا امیر فی الکتائب مقبل

ترجمہ: اور اگر تم لوگ انصاف سے کام لو تو حدود کے یہ میدان ہمارے امیر ہیں اور ہمارا یہ امیر فوج میں مقبول عام ہے۔

و نحن ولاۃ الثغر کنا حماتہ

لیالی ترمی کل ثغز و ننکل 

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 311 البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 166)

ترجمہ: ہم ہی ان حدود کے والی و محافظ رہے ہیں، ہم راتوں میں ان حدود کی حفاظت میں تیر برساتے اور زخمی ہوتے رہے ہیں۔

اللہ کی توفیق اور پھر سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات کی وجہ سے مسلمان یہ فتنہ دبانے میں کامیاب ہو گئے، آپؓ بھی اہلِ کوفہ کے ساتھ معرکوں میں شریک تھے، آپؓ نے حدود کے ان معرکوں میں سے تین میں حصہ لیا، آپؓ تیسرے معرکہ میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پیش آ گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 311)