صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کیوں کی؟ - ردِ رافضیت | دفاع…

صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کیوں کی؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

فكتب إليه ابن عباسؓ: أما بعد فقد جاءني كتابك، فأما تركي بيعۃ ابن الزبير فواللہ ما أرجو بذلك برك ولا حمدك ولكن اللہ بالذي أنوي عليم، وزعمت أنك لست بناس برى، فاحبس أيها الإنسان برك على فإني حابس عنك بري، وسألت أن أحبب الناس إليك وأبغضهم وأخذلهم لابن الزبير، فلا ولا سرور ولا كرامۃ، كيف وقد قتلت حسينا وفتيان عبد المطلب مصابيح الهدى ونجوم الأعلام غادرتهم خيولك بأمرك في صعيد واحد مرملين بالدماء، مسلوبين بالعراء، (مقتولين بالظماء، لا مكفنين ولا موسدين) تسفى عليهم الرياح، وينشى بهم عرج البطاح، حتى أتاح اللہ بقوم لم يشركوا في دمائهم كفنوهم وأجنوهم، وبي وبهم لو عززت وجلست مجلسك الذي جلست فما أنس من الأشياء فلست بناس اطرادك حسينا من حرم رسول اللہﷺ إلى حرم الله، وتسبيرك الخيول إليہ، فما زلت بذلك حتى أشخصتہ إلى العراق، فخرج خائفا يترقب، فنزلت بہ خيلك عداوة منك للہ ولرسوله ولأهل بيتہ الذين أذهب اللہ عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا، فطلب إليكم الموادعة وسألكم الرجعۃ، فاغتنمتم قلة أنصاره واستنصال أهل بيته وتعاونتم عليه كأنكم قتلتم أهل بيت من الشرك والكفر فلا شيء أعجب عندي من طلبتك ودي وقد قتلت ولد أبي وسيفك يقطر من دمي وأنت أحد ثأري ولا يعجبك أن ظفرت بنا اليوم فلنظفرن بك يوما، والسلام.

ترجمہ: سیدنا ابنِ عباسؓ نے یزید کو خط لکھا، اما بعد: تمہارا خط مجھے موصول ہوا، میں نے جو سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ کی بیعت نہیں کی تو واللہ اس سلسلہ میں میں تم سے حسنِ سلوک اور تمہاری تعریف کا خواہش مند نہیں ہوں، بلکہ جس نیت سے میں نے ایسا کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تمہیں جو یہ گمان ہے کہ میرے حسن سلوک کو فراموش نہ کرو گے تو اے انسان اپنے اس حسن سلوک کو اپنے پاس رکھو کیونکہ میں اپنے حسن سلوک کو تم سے اٹھا رکھوں گا اور تم نے جو مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں لوگوں کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا کروں اور ابن زبیر سے ان کو نفرت دلاؤں اور ان کو رسوا کر دوں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا، نہ تمہاری خوشی ہمیں منظور ہے اور نہ ہی تمہارا اعزاز، اور یہ ہو بھی کس طرح سکتا ہے حالانکہ تم نے حسین کو قتل کیا ہے اور جوانانِ عبدالمطلب جو ہدایت کے چراغ اور نامور ستارے تھے انہیں تمہارے سواروں نے تمہارے حکم سے خون میں آلود کھلے میدان میں اس حال میں ڈال دیا تھا کہ ان کے بدن پر جو کچھ تھا وہ چھینا جا چکا تھا، پیاس کی حالت میں ان کو قتل کیا گیا اور بغیر کفن بے سہارا پڑا رہنے دیا گیا، ہوائیں ان پر خاک ڈالتی رہیں اور بھوکے بجو باری باری سے ان کی لاشوں پر آتے جاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسی قوم کو بھیجا جن کے ہاتھ ان کے خون سے رنگین نہ تھے، ان لوگوں نے آکر ان کو کفن دیا اور دفن کیا، حالانکہ اللہ کی قسم انہی کے طفیل تجھے یہ عزت ملی ہے اور تجھے اس جگہ بیٹھنا نصیب ہوا جس جگہ اب بیٹھا ہوا ہے، اب میں خواہ سب چیزیں فراموش کر دوں، پر اس بات کو فراموش نہیں کر سکتا کہ تو نے ہی سیدنا حسینؓ کو مجبور کر کے رسول اللہﷺ کے حرم سے حرم الٰہی میں پہنچایا اور پھر تو اپنے سواروں کو برابر ان کے پاس بھیجتا رہا اور مسلسل لگا رہا، یہاں تک کہ ان کو عراق کی طرف روانہ کر کے چھوڑا، چنانچہ وہ حرم مکہ سے اس کیفیت میں نکلے کہ ان کو خوف لگا ہوا تھا اور پھر تیرے سواروں نے ان کو پکڑ لیا، یہ سب کچھ تو نے اللہ، رسول اللہﷺ اور ان اہلِ بیت کی دشمنی میں کیا کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے نجاست دور کر کے ان کو خوب پاک صاف کر دیا تھا، سیدنا حسینؓ نے تمہارے سامنے صلح کی بھی پیش کش کی اور واپس لوٹ جانے کی بھی درخواست کی مگر تم نے یہ دیکھ کر کہ وہ اس وقت بے یارو مددگار ہیں اور ان کے خاندان کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے موقع کو غنیمت جانا اور تم ان کے خلاف تعاون کر کے ان پر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ گویا تم مشرکوں یا کافروں کے خاندان کو قتل کر رہے ہو، اس لیے میرے نزدیک اب اس سے زیادہ اور کیا تعجب کی بات ہوگی کہ تو میری دوستی کا طالب ہے حالانکہ تو میرے دادا کے خاندان کو قتل کر چکا ہے اور تیری تلوار سے میرا خون ٹپک رہا ہے، اب تو تو میرے انتقام کا ہدف ہے، اور اس خیال میں نہ رہنا کہ آج ہم نے فتح پالی ہے ہم بھی کسی نہ کسی دن تجھ پر فتح پا کر رہیں گے۔ والسلام

فائدہ مذکورہ بالا خط سے معلوم ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے یزید کی بیعت برضا و رغبت نہیں کی تھی۔


صفحہ 3 از 3