صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کیوں کی؟ - ردِ رافضیت | دفاع…

صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کیوں کی؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: حضرت عامر بن مسعود جمحیؒ کہتے ہیں جب ایک قاصد حضرت معاویہؓ کی وفات کی خبر لے کر آیا تو اس وقت ہم مکہ مکرمہ میں تھے، ہم اٹھ کر سیدنا ابنِ عباسؓ کے پاس چلے گئے، وہ بھی مکہ میں تھے، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور دستر خوان لگ چکا تھا مگر ابھی تک کھانا نہیں آیا تھا، ہم نے ان سے کہا اے ابو عباس (یہ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کی کنیت ہے) قاصد سیدنا معاویہؓ کی موت کی خبر لے کر آیا ہے، اس پر وہ کافی دیر خاموش بیٹھے رہے، پھر انہوں نے کہا یا اللہ سیدنا معاویہؓ کے لیے اپنی رحمت کو وسیع فرما دے، خدا کی قسم وہ ان خلفاء کی طرح نہ تھے جو ان سے پہلے تھے اور نہ ہی ان کے بعد ان جیسا کوئی آئے گا، بلاشبہ ان کا بیٹا یزید ان کے نیک اہلِ خانہ میں سے ہے، لہٰذا تم لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو اور اپنی طاعت اور بیعت اسے دے دو۔

(انساب الاشراف للبلاذری: جلد 5 صفحہ 289، 290 امر یزید بن معاويہ)

2: حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) حضرت محمد بن الحنفیہؒ کا یہ واقعہ نقل کرتے ہیں:

ولما رجع أهل المدينۃ من عند يزيد مشى عبد اللہ بن مطيع وأصحابہ إلى محمد ابن الحنفيۃ فأرادوه على خلع يزيد، فأبي عليهم، فقال ابن مطيع إن يزيد يشرب الخمر ويترك الصلاة ويتعدى حكم الكتاب فقال لهم ما رأيت منه ما تذكرون، وقد حضرتہ وأقمت عنده فرأيتہ مواظبا على الصلاة متحريا للخير، يسأل عن الفقہ ملازما للسنة قالوا فإن ذلك كان منہ تصنعا لك فقال وما الذي خاف مني أو رجا حتى يظهر إلى الخشوع؟ أفأطلعكم على ما تذكرون من شرب الخمر؟ فلئن كان أطلعكم على ذلك إنكم لشركاؤه، وإن لم يكن أطلعكم فما يحل لكم أن تشهدوا بما لم تعلموا قالوا إنہ عندنا لحق وإن لم يكن رأيناه، فقال لهم أبى الله ذلك على أهل الشهادة فقال (إلا من شهد بالحق وهم يعلمون)

ترجمہ: جب اہلِ مدینہ یزید سے مل کر واپس آئے تو عبد اللہ بن مطیع اور ان کے ساتھی حضرت محمد ابن حنفیہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کی چاہت یہ تھی کہ حضرت محمد ابن حنفیہؒ بھی یزید کو معزول کر دیں، آپؒ نے ان کی بات نہ مانی، تو عبداللہ بن مطیع نے عرض کیا یزید شراب پیتا ہے، نمازیں چھوڑ دیتا ہے اور کتاب اللہ کے فیصلے سے تجاوز کر جاتا ہے، تو آپؒ نے ان سے فرمایا جو باتیں تم بیان کر رہے ہو میں نے یہ باتیں اس میں نہیں دیکھیں، میں تو خود اس کے پاس گیا تھا اور اس کے پاس قیام بھی کیا، میں نے اسے نماز کا پابند اور نیکی پر کاربند پایا، وہ فقہ کے مسائل پوچھتا رہتا تھا اور سنت کا پابند تھا، ان لوگوں نے کہا کہ یزید نے آپ کے سامنے یہ کام تصنع سے کیے ہیں، تو آپؒ نے فرمایا یزید کو مجھ سے کیا خوف یا امید ہو سکتی ہے کہ وہ میرے سامنے عجز و انکساری ظاہر کر رہا تھا، مجھے تم یہ بتاؤ کہ جس شراب کا تم ذکر کر رہے ہو کیا یزید نے تم لوگوں کو اس کی اطلاع دی ہے؟ اگر اس نے اطلاع دی ہے تو تم بھی اس کے ساتھ اس گناہ میں شریک ہو اور اگر اس نے تمہیں اس بات کی اطلاع نہیں دی تو تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم بغیر علم کے اس بات کی گواہی دو، انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے اسے نہیں دیکھا لیکن ہم اس بات کو بالکل سچ سمجھتے ہیں، اس پر حضرت محمد ابن حنفیہؒ نے فرمایا کہ گواہوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بالکل تسلیم نہیں کیا کہ وہ بغیر علم کے گواہی دیں، اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ وہ لوگ علم کے ساتھ درست گواہی دیں۔

(البدايہ والنہايہ لابن كثير: جلد 4 صفحہ 631، ترجمہ یزید بن معاويہ)

4: صحابہ کرامؓ کی بیعت رضا و رغبت والی نہیں تھی

صحابہ کرامؓ کی بیعت رضا و رغبت والی نہیں تھی بلکہ امت مسلمہ کو خونریزی سے بچانے کے لیے بادل نخواستہ تھی، چنانچہ اس پر دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں:

1: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کا فرمان:

ابو عمر و خلیفہ بن خیاط بن خلیفہ البصریؒ (ت 240ھ) نقل کرتے ہیں: 

عن محمد بن المنكدرؒ قال قال ابن عمرؓ حين بويع يزيد بن معاويۃ إن كان خيرا رضينا وإن كان بلاء صبرنا۔

ترجمہ: محمد بن منکدر سے مروی ہے کہ جب یزید بن معاویہ کی بیعت خلافت لی گئی تو سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ اگر یزید حکومت کا اہل ہے تو ہماری بیعت ٹھیک ہے اور اگر نااہل ہے تو ہم امت کے وسیع تر مفاد میں اس پر صبر کریں گے (تاکہ امت میں اختلاف و افتراق اور انتشار پیدا نہ ہو)۔

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 133، سنۃ احدى و خمسين)

2: سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کا یزید کو خط

جب سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ کے بجائے یزید کی بیعت کر لی تو یزید نے انہیں شکریہ کا خط لکھا، جواب میں سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے یزید کو خط لکھا جس میں اپنی بیعت کا ذکر کیا کہ میں نے آپ کی بیعت برضا و رغبت نہیں کی بلکہ امت میں انتشار کے ڈر سے کی ہے، ذیل میں وہ مکمل خط نقل کیا جاتا ہے۔ 

امام ابو الحسن عزالدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشيبانی الجزری ابن الاثیرؒ (ت 630ھ) نقل کرتے ہیں:

صفحہ 2 از 3