Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

32 ہجری میں باب اور بلنجر پر حملہ

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو باب پر چڑھائی کے لیے روانہ کرو، اور حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہؓ کو جو باب پر مقرر تھے لکھا: لوگ تھک چکے ہیں لہٰذا رک جاؤ آگے نہ بڑھو، اور مسلمانوں کو جوکھم میں مت ڈالو مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ اور آزمائش میں مبتلا نہ ہو جائیں، لیکن اس چیز نے سیدنا عبدالرحمٰنؓ کو ان کے عزائم سے نہ روکا، وہ بلنجر پر حملہ کرنے سے رک نہیں سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے نویں سال بلنجر پر حملہ کر دیا اور وہاں پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا اور اس پر منجنیق اور پتھر برسانے کے آلات نصب کر دیے، جو بھی اس سے قریب ہوتا یا تو اس کو زخمی کر دیتے یا قتل کر دیتے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 308)

پھر ایک دن ترکوں نے بلنجر والوں سے گٹھ جوڑ کیا بلنجر کے لوگ نکلے اور ان کے ساتھ ترک بھی آ کر مل گئے اور قتال کیا۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے جن کو ذوالنور کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا جامِ شہادت نوش کر لیا، اور مسلمان شکست خوردہ ہو گئے اور میدان کو چھوڑ دیا، جو لوگ سیدنا سلمان بن ربیعہؓ کی طرف سے نکلے انہوں نے ان کی حفاظت کی یہاں تک کہ باب سے نکل گئے، اور جو لوگ خزر کے علاقہ سے نکلے وہ لوگ جیلان اور جرجان پہنچ گئے، جہاں حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 309)