اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار - ردِ…

اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار

  مامون رشید

صفحہ 4 از 6

جو کفار ہیں یا کفار کے حکم میں ہیں مسلمان ان کے وارث بنیں وہ مسلمانوں کے وارث نہیں بنیں گے۔

(تحرير الوسليہ: جلد 2 صفحہ 394) 

بلکہ بعض مقامات پر ایک نیا شگوفہ چھوڑتے ہوئے اہل السنہ کو جنہیں وہ ناصبی کہتا ہے مسلمان قرار دیا ہے جو کہ ایک شخص توحید و رسالت کی گواہی دے کر بن جاتا ہے، لیکن ان سے ایمان کی نفی کی ہے، چنانچہ کہتا ہے کہ نواصب مسلمان ہیں مؤمن نہیں ہیں کیونکہ مؤمن بننے کے لیے ایمانیات کے اقرار کے ساتھ ساتھ ولایت علی کی گواہی دینا بھی لازمی ہے اس لیے کہ علی کی ولایت کا اقرار ایمان کا رکن ہے، اور اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ ”ایمان“ کا لقب صرف اثنا عشری شیعوں کے ساتھ مختص ہے اور لفظ ”مؤمن“ سے مراد فقط شیعہ امامیہ اثناء عشریہ ہیں۔ 

(ملاحظہ کیجیے الوسلية: جلد 2 صفحہ 63، المكاسب المحرمۃ: جلد 1 صفحہ 250، الطهارة: جلد 3 صفحہ 323) 

اور پھر مؤمن اور مسلم کے مابین متعدد امور میں اسی طرح کی تفریق کی ہے جیسا کہ مسلمان اور کافر کے بیچ کی جاتی ہے، اور بہت سارے اعمال کے لیے خصوصیت کے ساتھ ایمان کی شرط لگائی ہے۔

لکھتا ہے: میت کو غسل دینے والے کے اندر اسلام کی شرط بلکہ حالت اختیار میں ایمان کی شرط کا اعتبار لازمی ہے۔

(زبدة الأحكام: صفحہ 59، تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 61)

میت کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کے لئے مؤمن ہونا شرط ہے، پس مخالف (سنیوں) کی نماز کفایت نہیں کرے گی چہ جائیکہ کافروں کی۔

(تحرير الوسليہ: جلد 1 صفحہ 79)

(نماز) جماعت کے امام کے شرائط: اس میں کئی شرطیں ہیں: ایمان

(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 249)

نماز جمعہ کے امام کے لیے وہی شرائط ہیں جو نماز با جماعت کے امام کے لیے ہیں یعنی ایمان

 (تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 271)

روزہ کے صحیح ہونے کے شرائط کئی امور ہیں: اسلام، ایمان

(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 267) 

اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ امامی اثناء عشری شیعوں کے علاوہ اور کسی کا روزہ صحیح نہیں ہوگا کیونکہ خمینی کے نزدیک مؤمن صرف شیعہ امامیہ ہیں۔

گواہ کی صفات: تیسری صفت یہ ہے کہ گواہ مؤمن ہو، پس غیر مؤمن کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی چہ جائیکہ غیر مسلم کی۔

(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 398) 

4: خمینی کے نزدیک اہل السنہ نجس و ناپاک ہیں، لکھتا ہے:

أما النواصب والخوارج لعنهم اللہ تعالى، فهما نجسان من غير توقف

 نواصب و خوارج ان پر اللہ کی لعنت ہو، دونوں گروہ بغیر کسی توقف کے نجس ہیں۔

(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 118)

رہی بات نواصب و خوارج کی اللہ ان پر لعنت برسائے دونوں جماعتیں نجس ہیں۔

(زبدة الأحكام: صفحہ 52)

جو بھی ہو دونوں گروہوں کے کفر اور نجاست میں اشکال وارد کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ نواصب و خوارج دونوں معروف گروہوں کا کفر یقینی طور پر مجمع علیہ ہے۔

 (الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 336)

خلاصہ یہ ہے کہ ناصبیوں اور خارجیوں کی نجاست پر اجماع اور بعض اخبار کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے، اور ان اخبار میں سے کچھ ایسے ہیں جو مطلق ناصبی و خارجی کی نجاست کے اثبات کے قابل نہیں ہیں۔

(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 338)

رہی بات دونوں گروہوں (نواصب و خوارج) کی تو ان کا نجس ہونا ظاہر ہے، جیسا کہ اجماع نقل کیا گیا ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، اور من جملہ اعاظم نے اس میں کوئی کلام نہیں کیا ہے اور اسے مسلمات کی طرح چھوڑ دیا ہے۔

اور اس پر ایک روایت سے استدلال کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نواصب یہود و نصاریٰ اور مجوس سے بدتر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کتے سے زیادہ نجس کوئی مخلوق پیدا نہیں کیا ہے اور نواصب کتے سے بھی زیادہ نجس ہیں۔ 

اس کے بعد لکھا ہے: تینوں فرقوں (یہود و نصاریٰ اور مجوس) کی نجاست ثابت ہو جانے کے بعد جیسا کہ پہلے بالاستیعاب ذکر کیا گیا ہے، اس خبیث فرقے کو ان کا ساتھی بنا دیا ہے، جو اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتا ہے، اور اس میں اس بات کی بھی صراحت ہے وہ کتے سے زیادہ نجس ہیں، حکم اور موضوع کی مناسبت کے اعتبار سے بظاہر یہ تفضیل ظاہری نجاست میں ہے۔

(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 335، 336)

5: شیعوں کے لیے کسی سنی مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، لکھتا ہے:

يجب الصلاة على كل مسلم وإن كان مخالفا للحق على الأصح، ولا يجوز على الكافر بأقسامه حتى المرتد ومن حكم بكفره ممن انتحل الإسلام كالنواصب والخوارج 

صحیح ترین قول کے مطابق ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا واجب ہے، اگرچہ وہ حق کا مخالف ہی کیوں نہ ہو، اور تمام اقسام کے کافروں حتیٰ کہ مرتد اور اسلام کی طرف انتساب کرنے والے ایسے لوگ جن کے کافر ہونے کا حکم لگایا جا چکا ہے جیسے نواصب و خوارج کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔

(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 79) 

6: خمینی کہتا ہے کہ اگر کسی شیعہ میت کا جنازہ سنی پڑھے تو کفایت نہیں کرے گا، نیز سنیوں کو شیعوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے اور اگر دفن کر دیا جائے تو اسے نکال پھینکا جائے گا۔

لکھتا ہے میت کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کے لیے مؤمن ہونا شرط ہے، پس مخالف (سنیوں) کی نماز کفایت نہیں کرے گی چہ جائیکہ کافروں کی۔

 (تحرير الوسلية: جلد 1 79)

لا يجوز أن يدفن الكفار وأولادهم في مقبرة المسلمين، بل لو دفنوا نبشوا

کفار اور ان کی اولاد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اگر دفن کر بھی دیے جائیں تو انہیں نکال پھینکا جائے گا۔

(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 89، زبدة الأحكام: صفحہ 440)

اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ خمینی اہل السنہ کی تکفیر کرتا ہے اور ان کے ساتھ کافروں والا تعامل کرتا ہے، اس لیے اس عبارت میں اہل السنہ بھی داخل ہیں۔

7: خمینی کا فتویٰ ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقے خواہ حق پرور ہوں یا باطل پرست دیت میں سب برابر ہیں، سوائے ان کے جن پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے جیسے نواصب اور خوارج۔

(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 559) یعنی سنیوں کی دیت عام مسلمانوں کی دیت کی طرح نہیں ہے کیونکہ خمینی ان کے جان و مال کو حلال سمجھتا ہے۔

صفحہ 4 از 6