اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار - ردِ…

اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار

  مامون رشید

صفحہ 3 از 6

2: خمینی نے اپنی تالیفات و مضامین کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اہل السنہ و الجماعۃ کا دین ناقص اور غیر محفوظ ہے، اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اصل دین کو اخذ کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کیونکہ ان کا مقصد فقط حصولِ دنیا اور تخت سلطنت پر قبضہ کر کے حکمرانی کرنا اور مال و دولت اکٹھا کرنا تھا لکھتا ہے:

عوام (اہل السنہ) اور خواص (شیعہ روافض) کے مابین احکام کے اختلاف اور عوام پر دینی احکام کے مخفی ہونے نیز مخصصات کے پیچھے رہ جانے کی بہت ساری علتیں ہیں:

ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے اگرچہ امت تک تمام کلی احکام پہنچا دیا تھا، لیکن چونکہ شریعت کے ابتدائی ادوار اور شروع اسلام میں حفظ کے اسباب قوی نہ تھے اس لیے مکمل شریعت کو اس کی تمام خصوصیات کے ساتھ صرف وہی افراد ضبط کر سکے جو آپ کے راز دار اور اہل بیت تھے، اور امت میں امیر المؤمنین (علی) علیہ السلام سے زیادہ اہتمام کرنے والا اور آپ سے زیادہ ضبط کرنے والا کوئی نہ تھا، سو آپ نے اپنی شدتِ اہتمام کی وجہ سے تمام احکام اور کتاب الٰہی کی تمام خصوصیات تفسیر و تاویل، قرآنی آیات کے فہم میں معاون امور اور سنت نبویہ کے ضوابط کو ضبط کر لیا، شاید وہ قرآن جسے آپ نے جمع کیا تھا اور رسول اللہﷺ کے بعد اس کی تبلیغ کے خواہاں تھے وہ وہ قرآن تھا جو فہم قرآن میں معاون تمام خصوصیات پر مشتمل تھا جسے آپ نے رسول اللہﷺ کی تعلیم کے مطابق ضبط کر رکھا تھا، خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ رسول اللہﷺ نے احکام کی تبلیغ کر دی حتیٰ کہ چہرے پر دیے جانے والے زخموں کی دیت بھی بیان کر دی، لیکن جس سے ایک بھی حکم فوت نہیں ہوا اور کتاب و سنت کے تمام احکام کو ضبط کر لیا وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام تھے، جبکہ لوگوں سے ان کی قلت اہتمام کے سبب بہت سارے احکام فوت ہو گئے، اس پر متعدد روایات دلالت کرتی ہیں۔

ان علتوں میں سے ایک علت یہ بھی ہے کہ ائمہ علیہم السلام دیگر کمالات کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی بنسبت فہمِ کتاب وسنت میں اپنے ذاتی امتیازات کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی جانب سے مقرر کردہ اور کتاب الٰہی میں بیان کردہ کلی اصول سے متفرع تمام تفریعات کو سمجھ گئے، چنانچہ جہاں رسول اللہﷺ نے ایک دروازہ کھولا تھا انہوں نے امت کے لیے ہزار دروازے کھول دیئے، جبکہ دوسرے اس سے قاصر رہے، لہٰذا کتاب و سنت اور ان سے نکلنے والی علمی شاخیں اور تنزیل کے نکتے سلفا عن خلف انہی کی میراث ہیں، جبکہ ان کے علاوہ دوسرے لوگ محروم ہیں۔ پس وہ صوارف جو ان ائمہ علیہم السلام کی زبانوں پر جاری ہوئے ہیں ممکن ہے ان میں سے بہت ساری چیزیں عمومات ومطلقات سے جدا رسول اللہﷺ سے صادر ہوئی ہیں اور انہیں ان کی اصل حالت میں صرف ان کے علم کے خازن امیر المؤمنین علی نے ضبط کیا ہے اور آپ نے وہ چیزیں ائمہ علیہم السلام کو ودیعت کی ہے۔

(الرسائل للخميني مع تذييلات لمجتبى الطهراني: جلد 2 صفحہ 26-27)

یہاں خمینی نے اہل السنہ کے دین کے ناقص ہونے کے کئی اسباب بیان کیے ہیں: 

اول: اس زمانے میں علی کے علاوہ تمام صحابہ کرامؓ کے ہاں حفظ دین کے اسباب و مقتضیات موجود نہ تھے، کیونکہ ان کا مطمح نظر فقط متاعِ دنیا اور حکمرانی کا حصول تھا جیسا کہ یہ عام روافض کا عقیدہ ہے۔

دوم: مکمل دین وشریعت کو صرف سیدنا علیؓ نے ضبط کیا تھا جبکہ باقی تمام لوگ اس سے محروم تھے۔ 

سوم: وہ قرآن جسے علی نے جمع کیا تھا اور اس کی تبلیغ کے خواہاں تھے وہ قرآن ہمارے اس قرآن سے مختلف تھا کیونکہ وہ قرآن فہم قرآن میں معاون تمام خصوصیات پر مشتمل تھا جسے آپ نے رسول اللہﷺ کی تعلیم کے مطابق ضبط کر رکھا تھا۔

چہارم: ائمہ کرام اپنے ذاتی امتیازات کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی جانب سے مقرر کردہ اور کتاب الٰہی میں بیان کردہ کلی اصول سے متفرع تمام تفریعات کو سمجھ گئے، چنانچہ جہاں رسول اللہﷺ نے ایک دروازہ کھولا تھا انہوں نے امت کے لیے ہزار دروازے کھول دیئے، جبکہ دوسرے اس سے قاصر رہے، چنانچہ جن لوگوں نے ائمہ کرام کی تعلیمات کو قبول نہیں کیا ان کا دین ناقص ہی رہا کیونکہ وہ ائمہ کی تفریعات سے محروم رہے۔

3: خمینی کے نزدیک اہل السنہ اس کے دینی دشمن اور کفار و مشرکین ہیں، اور یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں لکھتا ہے:

كل مخالف لنا في ديننا فهو عدونا في الدين“ ہمارا ہر دینی مخالف ہمارا دینی دشمن ہے۔

(المكاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 250) خمینی کی تحریروں سے یہ بات واضح ہے کہ وہ جب لفظ ”مخالف“ استعمال کرتا ہے تو اس کی مراد اہل السنہ ہوتے ہیں۔ 

نیز لکھتا ہے: مؤمن سے مراد شیعہ امامیہ اثناء عشریہ ہیں، چنانچہ جن روایتوں کے اندر مؤمن کا ذکر آیا ہے وہ اسی معنیٰ میں ہیں، اور جن روایتوں کے اندر اخوت کا ذکر ہے وہ بھی انہیں (سنیوں) شامل نہیں ہیں، کیونکہ ان سے اور ان کے دین و ائمہ سے برأت کے وجوب کے بعد ہمارے اور ان کے درمیان اخوت کا رشتہ باقی نہیں ہے، جیسا کہ روایات اس پر دلالت کرتے ہیں اور مذہب کے اصول اس کے متقاضی ہیں

(المكاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 250)

جو بھی ہو دونوں گروہوں کے کفر اور نجاست میں اشکال وارد کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ نواصب و خوارج دونوں معروف گروہوں کا کفر یقینی طور پر مجمع علیہ ہے۔ (الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 336)

خلاصہ یہ ہے کہ ناصبیوں اور خارجیوں کی نجاست پر اجماع اور بعض اخبار کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے، اور ان اخبار میں سے کچھ ایسے ہیں جو مطلق ناصبی و خارجی کی نجاست کے اثبات کے قابل نہیں ہیں، گرچہ ہم علی الاطلاق ان کی تکفیر کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان کا قتل واجب قرار دیتے ہیں۔

(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 338)

مسلمانوں کے تمام فرقے خواہ حق پرور ہوں یا باطل پرست دیت میں سب برابر ہیں، سوائے ان کے جن پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے جیسے نواصب اور خوارج۔

 (تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 559)

مسلمان ایک دوسرے کے وارث بنیں گے خواہ ان کے مسالک اصول اور عقائد مختلف ہی کیوں نہ ہوں، ہاں غالی قسم کے باطل پرست لوگ جن کی تکفیر کر دی گئی ہے، اور خوارج و نواصب۔

صفحہ 3 از 6