شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 9 از 22


أما ما جاء في لسان الرواية من قوله عليه السلام لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ عقيب وصف كتاب على عليه السلام ب "الكتاب المكنون" فهو إما إشارة منه عليه السلام إلى المصحف الذي جمعه أمير المؤمنين عليه السلام بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وآله وعرف باسم : "مصحف علي" عند الجميع وبين فيه ناسخ القرآن ومنسوخه ومحكمه ومتشابهه وعامه وخاصه ومطلقه ومقيده وأسباب نزوله وما عساه يشكل من بعض جهاته


اور حضرت علی کے الفاظ روایت کے ذریعے سے بیان کئے گئےہیں "اس کو کوئی نہیں چھو سکتا سوائے پاک کے۔ القرآن (56/89) حضرت علی کے مصحف کو کتابِ مکنون یعنی اچھی طرح سے محفوظ کتاب۔ یا تو یہ اک طرح سے اشارہ تھا امیر المومنین کے نسخے کی طرف جو کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جمع کیا تھا جس کو ہر کوئی مصحف علی کے نام سے جانتا ہے جس میں انہوں نے ناسخ و منسوخ، محکم اور متشابہ ، عام اور خاص ، مطلق اور مقید آیات اور ان کے اسباب نزول وغیرہ کو واضح کر دیا تھا۔
علامہ جعفر السبحانی کتاب عقائدنا الفلسفیہ و القرآنیہ ص 120-121 پر فرماتے ہیں


أما أنه يقال إن عليا عليه السلام جمع القرآن بعد ارتحال النبي صلى الله عليه وسلم فهذا يعني أنه كتب القرآن طبقا لشأن النزول وقدم المنسوخ على الناسخ وهذا ما يقرره المجلسي في بحار الأنوار وصاحب كتاب تاريخ القرآن . . . من المُسَلَّم به أن قرآن الإمام عليه السلام كان مشتملاً على حواشي وتوضيحات عن كيفية النزول والناسخ والمنسوخ والمحكم والمتشابه


یہ جوحضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن جمع کیا تھا اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو اس طرح لکھا جس طرح وہ نازل کیا گیا تھا اور انہوں نے ناسخ سے پہلے منسوخ آیات کو جگہ دی جیسا کہ علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں اور جس طرح مصنف تاریخ القرآن نے کہا ہے ۔۔۔ اور مُسَلم بات یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا قرآن نزول کی کیفیات ، ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ آیات کے متعلق حواشی و توضیحات پر مشتمل تھا۔

شیخ علی الکورانی العاملی کتاب الف سوال واشکال جلد ۱ ص 256 پر لکھتے ہیں


أما بعد وفاته صلى الله عليه وآله وأحداث السقيفة وبيعة أبي بكر فقد جاءهم علي بنسخة القرآن بخط يده حسب أمر النبي صلى الله عليه وآله فرفضوا اعتمادها لأنه كان فيها برأيهم تفسير بعض الآيات أو كثير منها وهي لمصلحة علي والعترة عليهم السلام فأخذها علي عليه السلام وقال لهم لن تروها بعد اليوم


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ کے واقعہ میں ابو بکر کی بیعت کی گئی ۔ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس رسول اللہ کے حکم کے مطابق اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک نسخہ لیکر آئے۔ انہوں نے اس نسخہ کو اپنانے سے انکار کردیا کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق اس میں کچھ یا پھر بہت سی آیات کی تفسیر حضرت علی اور ان کی اولاد علیہم السلام کے حق میں تھیں ۔سو حضرت علی علیہ السلام نے اسے اٹھایا اور ان سے کہا آج کے بعد تم اسے کبھی نہیں دیکھ سکو گے۔
شیخ حسن عبداللہ کتاب وقفہ مع الجزائری ص 24 پر لکھتے ہیں


كما أنهم ورثوا المصحف المذكور وهو الآن موجود عند الإمام الحجة المنتظر عجل الله تعالى فرجه الشريف . . . وأنهم الأعلم بتفسيره ومعرفة أحكامه ومعارفه حسب الواقع دون غيرهم وذلك لما عندهم من تفسير للقرآن الكريم حسب ما أخبر به الرسول صلى الله عليه وآله وسلم أمير المؤمنين عليه السلام وكتبه عنه وانتقل ذلك إليهم


ائمہ کرام نے مصحف کو وراثت میں پایا، جو کہ آج کل امام منتظر عجل اللہ فرجہ کے پاس ہے۔ ۔۔ اور وہ اس کی تفسیر ، احکام کی معرفت اور معارف اپنے مواقع کے حساب سے اوروں کی نسبت بہتر جانتے ہیں ۔ اور یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس قرآن کریم کی تفسیر ہے جو کہ اس کے مطابق ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو سکھایا، اور جس کو حضرت علی نے ان سے لکھا، اور ان ائمہ کرام تک پہنچایا۔
شیخ عبداللطیف البغدادی کتاب التحقیق فی الامامہ ص 235 پر لکھتا ہے


نعم وبقي ذلك القرآن في تفسيره الصحيح عند علي عليه السلام ومن بعده الحسن عليه السلام وهكذا صار من المواريث الخاصة بالأئمة الطاهرين وهو الآن عند إمام العصر والزمان مهدي آل محمد


ہاں وہ قرآن کریم اپنی صحیح تفسیر کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے پاس موجود تھا اور پھر امام الحسن کے پاس آیا اس لئے یہ پاک اماموں کی وراثت میں آیا اور اب یہ زمانے کے امام مہدی آل محمد ﷺ کے پاس ہے ۔
محترم قارئین اس خطرناک عقیدہ پر غور کریں کہ خلفاء نے اللہ کی کتاب کو اس صحیح تشریح سے الگ کردیا جو کہ آیات کی معنی اور اس کا سبب نزول سمجھنے کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی گئی تھی ۔اور یہ بڑا جرم ہے جو کہ شیعہ علماء خلفاء کی طرف منسوب کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمان اللہ تعالی کی آیات کی تشریح کے متعلق تقسیم ہوجاتے ہیں اور اس کا مطللب یہ نکلتا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ نے آیات کی معنی کے متعلق مستند وحی کا انکار کردیا تھا یا کرتے آرہے ہیں۔
سنیئے کہ ان کا مشہور آیت اللہ محمد حسین التھرانی کتاب نورالملکوت القرآن جلد ۴ ص 347 پر کہتا ہے


أما عدم وجود مصحف أمير المؤمنين عليه السلام في متناول اليد فمع أنه سيلحق ضررا من جهة عدم الاطلاع على التأويل والتفسير وعلى ترتيب النزول وتقدم الآيات والسور وتأخرها وهو أمر يؤدي في النتيجة على عدم الاطلاع على العلوم القرآنية ويصعب أمر اتساعها


یہ حقیقت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا قرآن ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔ اگرچہ ہمیں اس تناظر میں نقصان ہو رہا ہے کہ نہ تو ہم قرآن کریم کی آیات کا سبب نزول جان سکتے ہیں اور نہ ان کی تاویل و تشریح اور نہ ہی ان کے اجزاء اور آیات کی ترتیب جان سکتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم قرآنی علوم جاننے سے قاصر ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے سیکھنا اور اس کو عام کرنا مشکل ہے۔
عبداللہ علی الدقاق کتاب حقیقت مصحف الامام علی بیان الفریقین ص 285 پر لکھتا ہے

صفحہ 9 از 22