شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 8 از 22


یہ اس قرآن سے مختلف ہے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس میں آیات کی تشریح اور کچھ فوائد موجود تھے جو کہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیات کے بارے میں سنے تھے۔ اور ساتھ میں یہ اس قرآن کریم سے ترتیب میں بھی مختلف تھا اور اس میں اضافہ تھا جو کہ امیر المومنین علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیات کے بارے میں سنے تھے، وہ انہوں نے اس میں تشریح کی صورت میں لکھ دئیے۔
شیعہ عالم میر محمدی زرندی اپنی کتاب بعوث فی تاریخ القرآن و علومہ ص ۱۲۷ میں فرماتے ہیں۔


وأما جمع على عليه السلام للقرآن فالمقصود : أنه كتبه عما كان عند النبي صلى الله عليه وآله وأضاف إليه التنزيل والتأويل كما في الرواية أي أنه أضاف إليه كل ما نزل من الله حول القرآن وإن لم يكن منه . . . وخلاصة القول : إنه لا منافاة بين القول بأنه جمع بيد باب علمه مع التفسير والتأويل وغيرهما من خصائص القرآن ودقائقه بعد وفاة النبي صلى الله عليه وآله . . . ولعل مصحف النبي صلى الله عليه وآله كان مع علي حينئذ يكتب عنه مضيفا التفسير والتأويل فلم يتمكن منه أبوبكر .


جہاں تک علی علیہ السلام کی قرآن جمع کرنے کی بات ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں اس کو ویسے لکھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور اس میں تشریح اور اسباب نزول بھی لکھ دیئے جیسا کہ روایات سے ظاہر ہے۔ مطلب یہ کہ انہوں وہ ہر چیز لکھ دی جو کہ قرآن کریم کے بارے میں نازل ہوئی اگرچہ وہ قرآن میں شامل نہیں تھی ۔ نتیجہ کے طور پر اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن جمع کیا گیا تھا اور ان کی وفات کے بعد وہ احادیث جو کہ ان کے علم کے دروازے کے ہاتھ سے تشریح و تاویل کے طور پر لکھی گئی تھیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن اس وقت علی رضہ کے پاس ہو اور انہوں نے اس کی تشریح کے ساتھ نقل بنائی ہو جس کا ابو بکر کو پتا نہ ہو۔
اس کے علاوہ صفحہ ۱۵۲ پر کہتا ہے


فتلخص مما سبق أنه كان لبعض الصحابة مصاحف يقرأون فيها وهم. على بن أبي طالب عليه السلام كان له مصحف ألفه وأضاف إليه التأويل والتنزيل ولم يحرق في عصر عثمان وورثه الأئمة من أبنائه الطاهرين حتى انتهى إلى الإمام القائم من آل محمد عليهم السلام وهو يخرجه إلى الناس


گزشتہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ صحابہ کے پاس قرآن کریم کے مصاحف تھے جس سے وہ پڑھتے تھے ۔ ان صحابہ میں حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام شامل ہیں جنھوں نے قرآن کریم کا ایک نسخہ جمع کیا اور اس میں تفسیر و تشریح لکھ دی اور وہ قرآن عثمان کے دور میں نہیں جلایا گیا۔ وہ قرآن ان کی اولاد میں سے ائمہ کرام کو ورثہ میں ملا یہاں تک کہ وہ امام القائم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور اب وہ لوگوں کے سامنے اسے ظاہر کریں گے۔
علامہ محسن الامین الاملی کتاب اعیان الشیعہ جلد ۱ ص ۸۹ میں کہتا ہے


قال المحقق السيد محسن ابن السيد حسن الأعرجي الكاظمي في كتابه عدة الرجال بعد نقل هذا عن المعالم : قلت كأنه إنما عد جمع القرآن المجيد في التصنيف لأنه أراد بالتصنيف مطلق التأليف أو لأنه عليه السلام لم يقتصر فيما جمع وجاءهم به على التنزيل بل ضم إليه البيان والتأويل فكان أعظم مصنف


المحقق السید محسن بن السید حسن الاعراج الکاظمی اپنی کتاب عدۃ الرجال میں معالم سے نقل کرکے کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کریم کے نسخے کو ایک تصنیف کے طور پر شمار کیا تھا کیوں کہ ان کا مقصد عام تصنیف تھا یا پھر انہوں نے صرف قرآن کریم کی آیات جمع نہیں کیں تھیں بلکہ انہوں نے ساتھ میں ان آیات کی وضاحت اور تشریح بھی لکھ دی تھی تاکہ یہ ایک عظیم نسخہ بن جائے۔
مشہور شیعہ آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین الموسوی کتاب مراجعات ص 410-411 پر لکھتے ہیں


أما على وشيعته فقد تصدوا لذلك في العصر الأول وأول شيء دونه أمير المؤمنين كتاب الله عزوجل فإنه ع بعد فراغه من تجهيز النبي صلى الله عليه وآله وسلم آلى على نفسه أن لا يرتدي إلا للصلاة أن يجمع القرآن فجمعه مرتبا على حسب النزول وأشار إلى عامه وخاصه ومطلقه ومقيده ومحكمه ومتشابهه وناسخه ومنسوخه وعزائمه ورخصه وسننه وآدابه ونبه على أسباب النزول في آياته البينات وأوضح ما عساه يشكل من بعض الجهات . . . وقد عُنِي غير واحد من قراء الصحابة بجمع القرآن غير أنه لم يتسن لهم أن يجمعوه على تنزيله ولم يودعوه شيئا من الرموز التي سمعتها فإذن كان جمعه ع بالتفسير أشبه


جہاں تک حضرت علی اور ان کے شیعہ کی بات ہے وہ اسکے لئے پہلے ہی دور میں کھڑے ہوئے۔ پہلی چیز جو امیر المومنین علیہ السلام نے لکھی وہ اللہ تعالی کی کتاب تھی۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دفن سے فارخ ہوئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک قرآن کریم جمع نہیں کرلیتے وہ سوائے نماز کے گھر سے نہیں نکلیں گے ۔ وہ قرآن کریم کو جمع کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے اس کو جمع کیا اور اس کی ترتیب اس طرح رکھی جس طرح وہ نازل ہوا ہے انہوں ہر خاص و عام، مطلق اور مقید، محکم اور متشابہہ، ناسخ اور منسوخ ، عزیمت اور رخصت، سنن اور آداب پر مشتمل آیت کو واضح کر دیا اور ان کا سبب نزول بھی بیان کردیا اور جہاں کوئی مسئلہ آسکتا تھا اس کی وضاحت کردی۔ اور ایک سے زیادہ صحابہ نے قرآن کریم کو جمع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ اس کو ترتیب نزول کے ساتھ جمع نہیں کر سکے اور نہ ہی اوپر بیان کی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز اس میں تھی اس لئے حضرت علی کا جمع کردہ قرآن ایک تفسیر کے بہت ہی قریب تھا۔

خاتم شیعہ محدیثین حسین النوری الطبرسی کتاب خاتمۃ مستدرک الوسائل جلد ۴ ص 113 پر لکھتے ہیں

صفحہ 8 از 22