شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 7 از 22


القائم آل محمد کے ظاہر ہونے تک موجودہ قرآن پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
علامہ محمد باقر المجلسی کتاب بحار الانوار 82/65-66 پر کہتا ہے


ولا ريب في أنه يجوز لنا الآن أن نقرأ موافقا لقراءاتهم المشهورة كما دلت عليه الأخبار المستفيضة إلى أن يظهر القائم ويظهر لنا القرآن على حرف واحد وقراءة واحدة رزقنا الله تعالى إدرك ذلك الزمان


بے شک ہمیں امام قائم کے ظاہر ہونے تک اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ ہم موجودہ مشہور قرأت پر قرآن پڑھیں جیسا کہ لاتعداد روایات ظاہر کرتی ہیں۔ اور پھر القائم آکر وہ قرآن ظاہر کریں گے جو کہ ایک حرف اور ایک قرأت پر ہوگا اللہ تعالی ہمیں اس وقت تک زندہ رہنے کی توفیق دےـ
مشہور آیت اللہ ابو القاسم الخوئی البیان التفسیر القرآن ص 167 پر کہتا ہے


بل ورد عنهم عليهم السلام إمضاء هذه القراءات بقولهم اقرأ كما يقرأ الناس اقرؤ كما علمتم


یہ بات ائمہ سے ثابت شدہ ہے کہ یہ قرأت پڑھنے کی اجازت ہے یعنی اس طرح پڑھو جس طرح لوگ پڑھتے ہیں یا اس طرح پڑھو جس طرح تمہیں سکھایا جائےـ
مرزا محمد تقی الاصفحانی مکال المکارم جلد ۱ ص 197 پر لکھتا ہے


القائم عليه السلام حين يظهر لأهل الأرض يقرأ القرآن كما أنزل على خاتم النبيين صلى الله عليه وآله


القائم جب ظاہر ہونگے تو لوگ قرآن کریم کو اس طرح پڑھیں گے جس طرح وہ خاتم الانبیاء علیہ السلام پر نازل ہوا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ پڑھنے والے خود غور کریں کہ یہ چھپے ہوئے عقائد جو کہ کسی کو اللہ تعالی کی کتاب سے دور کرتے ہیں ، یعنی یہ عقائد یہ باور کراتے ہیں کہ آج کوئی بھی قرآن کریم کو اس طرح نہیں پڑھ سکتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری قرأت غلط ہے اور یہ اس کے بالکل بر عکس ہے جو اللہ تعالی نے نازل کیا تھا۔

دوسرے الفاظ میں تمام امت مسلمہ جو کہ مشرق و مغرب میں ہے، اس کی قرأت غلط ہے اور اس سے مطابقت نہیں رکھتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا تھا اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اماموں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ قرآن کو اس طرح پڑھو جس طرح عام لوگ پڑھتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ قرأت غلط ہے۔
میں ایک امانت دار شیعہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا یہ عقائد آپ کو قرآن کریم پڑھنے سے نہیں روکتے؟ کیا یہ آپ کی اس خوشی اور حسرت کو برباد نہیں کرتے جو آپ اللہ تعالی کی عبادت کرتے وقت اللہ کے الفاظ پڑھتے وقت محسوس کرتے ہیں؟ ان علماء کا ارادہ یہ ہے کہ آپ کو خالص توحید کی کتاب سے دور کردیں آپ کو ایسی کتاب سے دور کریں جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا ان کی اولاد کی امامت کو پیش نہیں کرتی یہاں تک کہ مھدی ظاہر ہوجائیں اور آخر کار لوگوں کو اصلی چودہ سو سال پرانا قرآن پڑھنا سکھائیں ۔ آخر میں میں اس پڑھنے والوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ المفید کی روایات کو یاد کریں جو وہ امام سے منسوب کرتے ہیں کہ وہ کہتا ہو " وہ دن ان لوگوں پر بہت سخت ہوگا جو پہلے سے قرآن کو یاد کئے ہونگے کیوں کہ یہ اس سے مختلف ہوگا جو کہ جمع کیا گیا تھا "یعنی یہ کہا جائے کہ کیوں قرآن کو یاد کرتے ہو کہ صحیح قرآن تو مھدی لائیں گے جو کہ اس سے مختلف ہوگا!
تیسرہ عقیدہ:
جو قرآن کریم علی رضہ نے جمع کیا تھا جس کو خلفاء نے رد کردیا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کی گئے آیات کی تشریح ، اور ہر آیت کا سبب نزول لکھا ہوا تھا ۔
مشہور آیت اللہ الخوئی کتاب البیان فی تفسیر القرآن ص ۲۲۳ میں لکھتا ہے


إن اشتمال قرآنه على زيادات ليست في القرآن الموجود وإن كان صحيحا إلا أنه لا دلالة في ذلك على أن هذه الزيادات كانت من القرآن وقد أسقطت منه بالتحريق بل الصحيح أن تلك الزيادات كانت تفسيرا بعنوان التأويل وما يؤول إليه الكلام أو بعنوان التنزيل من الله شرحا للمراد


جو اضافہ امیر المومنین علیہ السلام کے قرآن میں پایا جاتا ہیں وہ ہمارے قرآن میں نہیں ہیں اگرچہ یہ سچ ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہیں قرآن کریم سے خارج کردیا گیا تحریف کے زریعے ، جو بات صحیح ہے وہ یہ ہے کہ وہ اضافہ تشریح و تفسیر ہیں یا الفاظ کی معنی یا پھر اللہ تعالی جس طرح بتانا چاہتے ہوں
مشہور آیت اللہ ناصر مکارم الشیرازی کتاب الأمثل فی تفسیر کتاب اللہ المنزل جلد ۸ ص ۲۷-۲۸ پر فرماتے ہیں


وبنظرة فاحصة إلى تلك الروايات نصل إلى أن القرآن الذي كان عند علي عليه السلام لا يختلغ مع بقية النسخ من حيث المضمون سوي اختلافه من حيث العرض والترتيب في ثلاثة أمور :
الأول : أن آياته وسوره كانت مرتبة حسب تأريخ النزول
الثاني : تثبيت سبب النزول لكل آية وسورة
الثالث: تضمن تفسير النبي صلى الله عليه وآله وسلم للآيات بالإضافة إلى ذكر الناسخ والمنسوخ


ان روایات پر اگر صحیح طرح سے غور کیا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قرآن اجزاء کے حساب سے دوسرے نسخوں سے مختلف نہیں ہے سواء ترتیب اور تین چیزوں کے۔ اول : اس کی آیات اور سورہ ایسی ترتیب میں تھیں جیسی کہ وہ نازل ہوئی ہیں ۔
دوئم: اس میں ہر آیت اور سورت کے اسباب نزول بتایا گیا تھا ۔
سوم: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آیات کی تشریحات موجود تھیں اور ساتھ میں ناسخ اور منسوخ آیات کا ذکر بھی موجود تھا ۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب آدم تحریف القرآن ص ۳۷ پر لکھتے ہیں


ويختلف عن القرآن الموجود في أن عليا قد أضاف في هوامش الآيات بعض الفوائد التي سمعها من النبي والمتعلقة بتلك الآيات ذكرها في الهوامش . . . غاية ما هناك أنه يختلف مع هذا القرآن الموجود في الترتيب وفي أن فيه إضافات أمير المؤمنين تتعلق بالآيات وقد سمعها من النبي فكتبها في هوامش تلك الآيات

صفحہ 7 از 22