شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 22


سلیم بن ابی سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابو عبداللہ کے سامنے قرآن کے کچھ الفاظ پڑہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو لوگ پڑہتے ہیں تب امام نے نے کہاکہ مہ مہ اس طرح پڑھنا روک دو۔اس کو اس طرح پڑھو جس طرح دوسرے لوگ پڑہتے ہیں یہاں تک القائم مھدی ظاہر ہو جائیں جو آئیں گے تو قرآن کریم کو صحیح پڑھیں گے اور اس قرآن کوظاہر کریں گے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا۔
بصائر الدرجات ص ۲۱۳
2۔ محمد بن یعقوب الکلینی روایت کرتے ہیں سلیم بن ابی سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابو عبداللہ کے سامنے قرآن کے کچھ الفاظ پڑہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو لوگ پڑہتے ہیں تب ابو عبداللہ نے کہا کہ اس طرح پڑھنا روک دو۔اس کو اس طرح پڑہو جس طرح دوسرے لوگ پڑہتے ہیں یہاں تک القائم مھدی ظاہر ہو جائیں جو آئیں گے تو قرآن کریم کو صحیح پڑہیں گے اور اس قرآن کوظاہر کریں گے جو کہ علی رضہ نے لکھا تھا
الکافی ۲ /۶۳۳

3 ۔ محمد بن ابراہیم النعمانی روایت کرتے ہیں


عن حبة العرني قال : قال أمير المؤمنين عليه السلام : كأني أنظر إلى شيعتنا بمسجد الكوفة قد ضربوا الفساطيط يعلمون الناس القرأن كما أنزل


حبة الارنی سے وہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنے شیعوں کو مسجد کوفہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے خیمے لگاتے ہیں اور قرآن کو اس طرح پڑہتے ہیں جس طرح یہ نازل ہوا تھا
الغیبہ ص ۳۳۳

4 ۔ المفید کہتے ہیں:-


وروي جابر عن أبي جعفر عليه السلام أنه قال إذا قام قائم آل محمد صلى الله عليه وسلم ضرب فساطيط لمن يعلم الناس القرآن على ما أنزل جل جلاله فأصعب ما يكون على من حفظه اليوم لأنه يخالف فيه التأليف


جابر سے روایت ہے کہ ابوجعفر علیہ السلام نے نےکہا جب امام قائم ظاہر ہونگے تو وہ ان لوگوں کے لئے خیمہ ذنی کریں گے جو لوگوں کو قرآن اور اس کے مکمل احکام سکھائیں گے ۔ وہ دن ان لوگوں کے لئے سخت ہونگے جو قرآن کو پہلے سے یاد کئے ہونگے کیوں کہ یہ اس سے مختلف ہوگا جس طرح یہ جمع کیا گیا تھا ۔
الارشاد المفید ۲/386، بحارالانوار المجلسی 52/339، الانوار البھائیہ عباس القمی ص 384 ، روضة الواعظین النیساپوری ص 256 ، تفسیر نورالثقلین الحوزائی ۵/27

دوم :ان کے علماء کے بیانات:
اپنے دور کا شیعہ شیخ محمد حسن النجفی جواہر الکلام ۹/292 پر لکھتا ہے


لأنه صلوات الله عليهم كانوا راضين بقرأة القرآن على ما هو عند الناس وربما كانوا يمنعون من قراءة الحق ويقولون هي مخصوصة بزمان ظهور القائم


کیوں کہ انہوں نے لوگوں کی قرآت کو قبول کرلیا اور وہ لوگوں کو صحیح قرآت سے روک بھی سکتے تھے لیکن یہ القائم کے ظاہر ہونے تک روک دیا گیا ہے۔

شیعہ شیخ اور محقق آقا رضا الھمدانی مصباح الفقیہ ۲/۱/۲۷۶ پر لکھتا ہے


وكيف كان فلا شبهة في صحة كل من القراءات السبع في مقام تفزيغ الذمة عن التكليف بقراءة القرآن وإن لم يعلم بموافقة المقروء للقرآن المنزل على النبي صلى الله عليه وآله


اور دوسرا طریقہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم کو صحیح پڑہنے اور قرآت کے اصول کو پورہ کرنے کے لئے سات قرآت صحیح ہیں اگرچہ کوئی یہ تک نہیں جانتا ہو کہ وہ جو پڑھ رہا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کے خلاف ہے

فصام النكد ص 27
شیعہ عالم عبدالکریم الحائری کتاب الصلواۃ ص ۲۰۵ پر لکھتا ہے


والذي يمكن أن يقال صحة كل من قراءات السبع في مقام تفزيغ الذمة عن التكليف بقراءة القرآن وإن لم يعلم بموافقة المقروء للقرآن المنزل وإن علم عدمه كما هو مقتضى الأخبار الآمرة بقراءة القرآن كما يقرأ الناس


یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کو صحیح پڑھنے اور قرآت کے اصولوں کو پورا کرنے کے لئے سات قرآت صحیح ہیں اگرچہ کوئی یہ تک نہیں جانتا ہو کہ وہ جو پڑھ رہا ہے وہ اس قرآن سے مطابقت نہیں رکھتا جس طرح وہ نازل ہوا ہے اور اگرچہ ہم یہ جانتے بھی ہوں تو بھی جیسے ہم نے روایات سے سیکھا ہے وہ ہمیں اس کا حکم دیتی ہیں کہ لوگوں کی طرح قرآت کریں۔

مشہور آیت اللہ محمد صادق الروحانی کتاب فقہ الصادق جلد 4 ص 423 پر لکھتا ہے


وأما النصوص فلأن الظاهر منها المنع من قراءة الزيادات المروية عنهم ولا تدل على ترجيح قراءة على أخرى نعم هي تدل على جواز القراءة بما يعلم مخالفته للقرآن المنزل

 

جہاں تک روایات کے متن کی بات ہے ان روایات میں تمام اضافہ شدہ قرآت جو ان روایات میں موجود ہیں اسکے پڑھنے سے صاف طور پر منع کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ دوسری قرآت پر پڑھنے میں ترجیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ہاں وہ اس قرآت کے پڑھنے کی اجازت دیتی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ اصل نازل شدہ قرآن کے خلاف ہیں۔

المجدد الشیرازی کتاب تقریرات آیت اللہ مجدد شیرازی جلد ۱ ص ۱۷۳ پر کہتا ہے


والذي دلت عليه الأخبار تقريرهم عليهم السلام تلاوة القراءات المختلفة والتخيير فيها بقولهم عليهم السلام اقرأ كما يقرأ الناس


یہ روایات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ (یعنی ائمہ) مختلف قرآتوں کو قبول کرتے تھے اور ان کے درمیان کسی ایک کو چننے کی اجازت دیتے تھے اور فرماتے کہ انہیں اس طرح پڑھاکرو جیسا کہ لوگ پڑھتے ہیں۔

المحقق الخوانصاری کتاب جامع المدراک جلد ۱ ص ۳۳۴ پر لکھتا ہے


ولكن المستفاد من الأخبار جواز القراءة كما يقرأ الناس مثل خبر سالم بن أبي سلمة ...


ہمیں ان روایات سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ یہ لوگوں کی طرح پڑھنے کی اجازت فراہم کرتی ہیں جیسے سلیم بن ابی سلمہ کی روایت ہے۔
المجدد الوحید البھاھانی کتاب الفوائد الحیریہ ص ۲۸۶ پر فرماتے ہیں


والمشهور بيننا : جواز العمل بقراءة السبعة والدليل على ذلك تقرير الأئمة عليهم السلام بل الأمر بأنه (يقرأ كما يقرأ الناس إلى قيام القائم


ہمارے ہاں جو بات مشہور ہے وہ یہ ہے کہ سات مشہور قرآت پر قرآن پڑھنے کی اجازت ہے اور اس کے ثبوت یا یہ کہیں کہ امام کا حکم ہے کہ اسے لوگوں کی طرح پڑھو یہاں تک کہ القائم ظاہر ہوجائیں۔
الفاضل التونی کتاب الوفیہ ص 260 پرلکھتا ہے


فقد روي أيضا جواز العمل بهذا القرآن الموجود حتى يقوم قائم آل محمد عليه وعليهم أفضل الصلاة والسلام

صفحہ 6 از 22