شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 22


لیکن جب انہوں نے ان کا انکار کیا ان کے پاس ان کے اپنے خیالات کے مطابق نسخہ موجود تھا اس لئے انہوں نے اس قرآن کریم کو مسترد کردیا جو کہ آپ نے جمع کیا تھا جو کہ سبب نزول کے مطابق تھا تاکہ کسی کو اس کا غلط مطلب لینے کی جرأت نہ ہو اور انہوں نے اسے اپنے طریقے سے جمع کیا۔
پھر ص ۵۰ پر لکھتا ہے :


والواقع أن أمير المؤمنين عليا عليه السلام بقي يقوم بدور المحامي عن السنة والكتاب . فكما سبق القول جمع القرآن على أسباب النزول لما لذلك من علاقة بالتأويل فرفضوه لما يظهر من حقائق لا توافق ما بنوا عليه.


حقیقت یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام قرآن و سنت کو بچانے کے خاطر ایک وکیل کا کردار ادا کر رہے تھے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے قرآن بشمول اسباب نزول آیات جمع کیا تھا کیوں کہ اس کا تعلق پھر تشریح کے ساتھ ہے اس لئے انہوں نے اس کو مسترد کردیا کیوں کہ یہ حقیقت بیان کر رہا تھا جو کہ ان کے طریقے کے خلاف تھا ۔

شیعہ مصنف عبدللہ علی احمد الدقاق کتاب حقیقت مصحف الامام علی عند السنہ والشیعہ ص 309-314 پر لکھتا ہے:


تؤكد الروايات الواردة في مصادر الشيعة الإمامية أن الخلافة قد رفضت مصحف الإمام علي عليه السلام . . . بما أن روايات الإمامية الدالة على إعراض الخلافة عن مصحف الإمام علي عليه السلام كثيرة . يحصل لنا اطمئنان بأن إعراض الخلافة عنه كان قد وقع وتحقق . . . إذن الموقف الذي نري صحته ووقوعه من قبل الخلافة هو الإعراض عن مصحف الإمام على عليه السلام ورفضه . بل ومحاولة إيجاد البديل وليس الإمضاء الذي لم نلمس له أثراً في حياتهم.


جو روایات امامی شیعہ کے ہاں پائی جاتی ہیں وہ اس بات کا اثبات کرتی ہیں کہ خلافت نے امام علی رضی اللہ عنہ کے قرآن کو مسترد کردیا ۔۔۔ اور کیوں کہ جو امامی روایات خلافت کی جانب سے قرآن کریم کو مسترد کرنے کے بارے میں ہیں وہ بہت زیادہ ہیں ،اس لئے ہمیں یقین ہے کہ یہ معاملہ ہوا ہے ۔۔ امام علی کے قرآن کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کی اور اس کو رد کر دیا، یہاں تک کہ اس کا نعم البدل بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
محترم قارئین کرام غور کریں کہ کس طرح شیعہ علماء نے اس قرآن کریم کے غلط ہونے کا جواز تلاش کرنے کوشش کی ہے کیوں کہ کچھ لوگوں نے ان کے مطابق ان کے معصوم امام علی کے قرآن کو جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے اجزاء آیات یا تشریح ان کے خواہش کے مطابق نہیں ہے تو اسے مسترد کردیا تھا۔
یہ کتاب کس طرح جائز کہلائی جاسکتی ہے جب کہ ایک معصوم امام کی جمع شدہ کتاب سے مختلف ہے جس کو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی میں جمع کیا تھا؟
میں ایک امانت دار شیعہ سے سوال کرتا ہوں، کیا تم لوگ ایسی قرآن کو پڑھتے وقت آسانی محسوس کرتے ہو جو ان لوگوں کا جمع کیا ہوا ہے، جس کو آپ کے علماء الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے معصوم امام کا تیار کردہ قرآن اس کے اجزاء دیکھنے کے بعد مسترد کردیا تھا؟
شیخ علی الکورانی تدوین قرآن ص ۱۸۱ پر لکھتے ہیں کہ


فرفضوا اعتمادها لأنه كان فيها تفسير كل الآيات أو كثير منها لمصلحة علي برأيهم


انہوں نےاس نسخہ کو اپنانے سے انکار کردیا کیوں کہ اس میں سب اور اگر سب نہیں تو بہت سی آیات کی تشریح ان (یعنی صحابہ )کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں تھیں۔
شیخ جعفر المرتضی الاملی اپنی کتاب ماسات الازھرہ جلد ۱ ص ۳۶۶-۳۶۷ پر لکھتا ہے


أن القرآن قد جمع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن الخليفتين الأول والثاني قد رفضا مصحف رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنه كان يتضمن التنزيل والتأويل وأسباب النزول والتفسير . وغير ذلك مما كان من شأنه أن يحرج الكثيرين ممن لا يرضي الحكام بإحراجهم ولا بإشاعة حقائق ترتبط بهم . وجمعوا هم آيات القرآن في مصحف واحد بعد أن أسقطوا التفسير والتأويل وأسباب النزول منه كما هو معلوم


قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمع کیا گیا تھا لیکن پہلے دو خلفاء نے رسول اللہ کا قرآن لینے سے انکار کیا کیوں کہ اس میں اسباب نزول اور تشریح موجود تھی اور بہت سی چیزیں جو کہ بہت سے لوگوں کو متاثر کر سکتی تھیں لیکن خلفاء نے ان کو لینے سے انکار کیا اور سچ کو ظاہر ہونے نہیں دیا۔ اس کے بعد انہوں نے قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا اور تشریح و تاویل اور اسباب نزول کو اس سے خارج کردیا۔
عبداللہ علی احمد الدقاق کتاب حقیقت مصحف امام علی ص 304پر لکھتا ہے


بعض الروايات قد نصت على أن فضائح القوم كانت موجودة في المصحف العلوي فلذلك رفضته الخلافة


اور کچھ روایات یہ بھی بیان کرتی ہیں ان لوگوں کی رسوائی علوی قرآن میں موجود تھی اس لئے خلافت نے اس قرآن کو لینے سے انکار کیا۔
پھر ص 313 پر لکھتا ہے


فلما فتحه أبوبكر خرج في أول صفحة فتحها فضائح القوم فوثب عمر وقال : يا علي اردده فلا حاجة لنا فيه فنلاحظ أن الإعراض جاء كردة فعل على ما جاء في المصحف من فضائح فكان الإعراض منه لإخفائها


جب ابی بکر نے اس کو کھولاتو پہلے ہی صفحہ پر اس نے اپنی لئے رسوائی دیکھی۔ تب عمر بیچ میں آیا اور کہا کہ اے علی! یہ واپس لے جا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔اس لئے ہم نے محسوس کیا کہ اس کو رد کرنا اصل میں ایک ردعمل تھا کیوں کہ اس کے اجزاء میں ان لوگوں کی رسوائی موجود تھی اس لئے انہوں نے اس کو مسترد کردیا تاکہ لوگوں سے چھپایا جا سکے۔

دوسرہ عقیدہ:
جس طرح آج مسلمان قرآن کریم کی قرآت کرتے ہیں ،یہ وہ طریقہ نہیں جس سے اللہ تعالی راضی ہوں ،بلکہ وہ اس سے مختلف ہے۔
اس کے ثبوت میں ان کی روایات اور ان کے علماء کے اقوال ہیں لیکن پہلے روایات پیش کرتے ہیں۔
روایات:
۱۔ محمد بن حسن الصفار روایت کرتے ہیں :


عن السالم بن أبي سلمة قال قرأ رجل على أبي عبد الله ع وأنا أسمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرأها الناس فقال أبو عبد الله ع مه مه كف عن هذه القراءة إقرأ كما يقرأ الناس حتى يقوم القائم فإذا قام فقرأ كتاب الله على حده وأخرج المصحف الذي كتبه علي عليه السلام . ..

صفحہ 5 از 22