شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ (…

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 22


ولذا أعرضوا عن مصحف أمير المؤمنين ع لما عرضه عليهم فأخفاه لولده القائم عليهم السلام وعجل الله فرجه.


اس لئے انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام کے قرآن کو رد کردیا جب کہ انہوں نے ان کے سامنے پیش کیا ، تاکہ وہ اسے اپنے بیٹے القائم مھدی (عجل اللہ فرجہ) کے لئے چھپا سکیں
علامہ محقق علی بن موسی التبریزی اپنی کتاب مراۃ الکتب ص 32 پر کہتے ہیں :


كما ورد في الأخبار أنه عليهم السلام جمع القرآن بعد وفاة النبي وأتاه إلى القوم فلم يقبلوه فبقي مكنونا مخزونا حتى يظهره القائم.


جیسا کہ ہم نے روایات سے ثابت کیا انہوں (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن جمع کیا اور اس کو ان کے پاس لائے لیکن انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا ۔اس لئے یہ ہمیشہ چھپا ہوا رہے گا یہاں تک کہ مہدی آخرالزمان کا ظہور ہو۔
علامہ محمد حسین طباطبائی اپنی کتاب القرآن فی الاسلام ص 137 پر کہتے ہیں:


والإمام أمير المؤمنين عليه السلام بالرغم من انه كان أول من جمع القرآن على ترتيب النزول وردوا جمعه ولم يشركوه في الجمع الأول والثاني.


اور امیر المومنین علیہ السلام پہلے تھے جنھوں قرآن کو اس ترتیب سے جمع کیا جس طرح وہ نازل ہوا تھا لیکن انہوں نے(یعنی صحابہ نے) نے اس کو رد کردیا اور انھوں نے آپ کو پہلی بار اور دوسری بار قرآن جمع کرنے میں شامل ہونے نہیں دیا۔
وہ اپنی دوسری کتاب ، کتاب الشیعہ فی الاسلام ص 28-29 پر لکھتے ہیں:


والنبي ص قد صرح معلنا أن عليا أعرف الناس بالعلوم الاسلامية والمفاهيم القرآنية ولم يسمحوا له بالمشاركة في جمع القرآن (وهم على علم من أن عليا بعد وفاة النبي ص كان جليس داره يجمع القرآن ولم يذكر اسمه في انديتهم واجتماعاتهم.


اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام اور قرآن کے علوم میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں ، لیکن انہوں نے آپ کو قرآن کی تدوین کے عمل میں شامل ہونے نہیں دیا ۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی وفات کے بعدحضرت علی گھر میں قرآن جمع کر رہے ہیں اور ان کا نام ان ملاقاتوں اور اجتماعات میں ذکر نہیں کیا گیا ۔
شیخ علی الکورانی العاملی اپنی کتاب ألف سؤال و إشكال جلد ۱ صفحہ 243 پر لکھتے ہیں:


ففي الواقع لم تكن توجد مشكلة اسمها مشكلة جمع القرآن بل الدولة افتعلتها (والدولة هنا عمر الذي لم يقبل نسخة القرآن التي جاء بها على عليه السلام لتكون النسخة الرسمية للمسلمين


حقیقت میں قرآن کریم کو جمع کرنے کے کام میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مسئلہ حکومت نے پیدا کردیا (یہاں حکومت سے مراد خلفاء ہیں) جس نے قرآن کریم کے ایک نسخہ کو مسلمانوں کے لئے سرکاری نسخہ قبول کرنے سے انکار کردیا جو کہ حضرت علی علیہ السلام لائے تھے ۔

اپنی دوسری کتاب تدوین القرآن ص 256 پر لکھتے ہیں :-


ومع ذلك فقد قام علي عليه السلام بواجبه نحو الأمة وقدم لهم نسخة القرآن بأمر النبي صلى الله عليه وأله وخط علي ولكنهم رأوا (المصلحة في عدم جعلها نسخة القرآن الرسمية.


اس کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امت کی زمہ داری پوری کردی اور انہوں ایک قرآن کا نسخہ دیا جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترتیب کیا ہوا اور حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے اپنے ارادوں کی تکمیل کے لئے سوچا کہ قرآن کریم کے اس نسخہ کو سرکاری ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب محاضرات فی الاعتقادات جلد 2 ص 602 پر لکھتے ہیں:


صحيح أن أمير المؤمنين ع جمع القرآن وقد أشرت إلى هذا من قبل. فالإمام جاء بالقرآن إليهم فرفضوه وهذا أيضا موجود . وكان لعلي قرآن هذا موجود والكل يذكره . علي جمع القرآن الكل يذكره.


یہ سچ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے قرآن جمع کیا تھا اور میں نے پہلے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ امام علی ان کی طرف قرآن کریم کے ساتھ آئے لیکن انھوں نے اس کا انکار کیا ،حضرت علی کے پاس قرآن تھا۔ یہ ثابت شدہ ہے اور ہر کسی کو یاد ہے۔
آیت اللہ محمد الحسین الحسینی تہرانی اپنی کتاب نور الملکوت القرآن جلد ۴ ص ۳۴۵ پر لکھتے ہیں:


أما روايات الخاصة فقد جاء فيها أنه ع حمل القرآن على بعير وجاء به إلى المسجد فقال : هذا هو قرآنكم! فقالوا له : لا حاجة لنا بقرآنك! ولم يلتفتوا إليه فعطف الإمام زمام بعيره وعاد إلى المنزل وقال : أما إنكم لن ترونه إلى يوم القيامة.


شیعہ روایات میں آیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو اونٹ پر لاد دیا اور مسجد کی جانب لے کر آگئے اور کہا کہ یہ تمہارا قرآن ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تمہارے قرآن کی ضرورت نہیں ہے اور انہوں نے آپ کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ پھر آپ نے اونٹ کی مہار کھینچی اور اپنے گھر چلے گئے ۔پھر کہا کہ آپ لوگ اسے قیامت تک نہیں دیکھیں گے۔
شیعہ عالم محمد ہادی معرفہ اپنی کتاب تلخیص التمہید ج 1 ص 156 پر فرماتے ہیں:


كان أمير المؤمنين عليه السلام أول من أبدى فكرة جمع القرآن بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مباشرة وإن كان جمعه هو رفض.


امیر المومنین علیہ السلام وہ پہلےشخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن کریم کو جمع کرنے کا خیال پیش کیا، اگرچہ ان کے اپنے نسخہ کو مسترد کردیا گیا تھا۔

مشہور آیت اللہ محمد الحسینی الشیرازی کتاب قرآن کب تدوین ہوا ص 31 پر لکھتے ہیں:


أما مسألة قرآن على عليه السلام الذي جاء به فلم يقلبوه فإنما يراد ما جمعه عليه السلام من التفسير والتأويل كما ذكر ذلك أمير المؤمنين على عليه السلام بنفسه في روايته رويت عنه.


جہاں تک حضرت علی کے قرآن کا مسئلہ ہے کہ انہوں نے جمع کیا تھا لیکن رد کردیا گیا ، یہاں پراس کا مطلب ہے کہ یہ تفسیر اور تاویل کی صورت میں جمع کیا گیا تھا، جیسا کہ انہوں (یعنی حضرت علی نے) نے ان روایات میں خود بیان کیا جو ان سے مروی ہیں۔
شیعہ مصنف ڈاکٹر ظہیر البتار کتاب الامامہ تلک الحقائق القرآنیہ ص ۴۹ پر لکھتے ہیں:


لكنهم لما تنكروا له كان عليهم أن يعملوا برأيهم فرفضوا القرآن الذي جمعه لهم على أسباب النزول لكي لا يختلف في التأويل وجمعوه على النحو المعلوم.

صفحہ 4 از 22